मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 58 بار دیکھا گیا
,
عنوان: Jجو بھی نبی کے عشق کے سانچے میں ڈھل گیا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس) کلام کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: سجّاد نظامی (مرہوم)
نعت خوان/ فنکار: سجّاد نظامی (مرہوم)
شامل کیا گیا: 24 Sep, 2022 02:44 PM IST
دیکھا گیا: 2.2K
Time to read: 1 min read
جو بھی نبی (ﷺ) کے عشق کے سانچے میں ڈھل گیا،
اس کا قسم خدا کی مقدّر بدل گیا (x2 )
میرے رسولِ پاک (ﷺ) کے قدموں کو چوم کر،
پتّھر زمین پر موم کی صورت پگھل گیا (x2 )
مشکل میں پڑگئ ہے میری مشکلیں سبھی،
مشکل کُشا کا نام جو منہ سے نکل گیا (x2 )
میں نے تو صرف احمد رضا کہا،
سُن کر وہابیت کا جنازہ نکل گیا (x2 )
جنّت میں اُس کو دیکھ کر ہورے مچل گئی،
چہرے پر اپنے خاکِ مدینہ جو مل گیا (x2 )
سججاد کی زبان سے نعتِ رسول کو،
سُن کر نبی (ﷺ) کا چاہنے والا مچل گیا (x2 )
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ روح پرور نعتِ شریف حضورِ اکرم ﷺ کی ذاتِ گرامی سے سچے عشق کی برکات، آپؐ کے مبارک قدموں کے معجزات اور مولا علیؑ و اعلیٰ حضرتؒ کے نام کی برکت کا ایک نہایت خوبصورت اور والہانہ بیاں ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ جو انسان بھی نبی کریم ﷺ کے عشق کے سچے سانچے میں ڈھل جاتا ہے، خدا کی قسم اس کا مقدر ہمیشہ کے لیے چمک جاتا ہے۔ آپؐ کے قدموں کا لمس پا کر سخت پتھر بھی موم کی طرح پگھل گیا، اور جب بھی مصیبت کے وقت زبان سے 'مشکل کشا' (مولا علیؑ) کا نام نکلتا ہے، تو زندگی کی تمام مشکلیں خود مشکل میں پڑ جاتی ہیں۔
| لفظ | معنی (Urdu) |
|---|---|
| سانچے | قالب / روپ یا ڈھانچہ |
| مقدّر | قسمت / نصیب |
| صورت | طرح / مانند یا شکل |
| مشکل کُشا | مصیبتوں کو حل کرنے والا (حضرت علیؑ کا لقب) |
| ہورے (حوریں) | جنت کی پاکیزہ عورتیں / اپسرائیں |
| خاکِ مدینہ | مدینہ منورہ کی پاک مٹی / دھول |
شاعر کہتا ہے کہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ ہر بگڑی کو بنانے والا ہے۔ جو خوش نصیب مدینہ پاک کی خاک کو اپنے چہرے کی زینت بنا لیتا ہے، اسے دیکھ کر جنت کی حوریں بھی مچل اٹھتی ہیں۔ کلام میں سچے عقیدے کی پہچان کے لیے 'احمد رضا' کے نام کی گونج کا ذکر ہے، اور آخر میں ناٹ خواں 'سجاد' کی مٹھاس بھری آواز میں نعت سن کر نبی ﷺ کے دیوانوں کے وجد میں آنے (جھوم اٹھنے) کی خوبصورت عکاسی کی گئی ہے۔
شاعر کے مطابق، جب کسی انسان کے منہ سے 'مشکل کشا' کا نام نکلتا ہے، تو اس کی مشکلوں پر کیا اثر پڑتا ہے؟