मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 49 بار دیکھا گیا
,
عنوان: جاگو شبِ برأت عبادت کی رات ہے
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: راؤ علی حسنین
شامل کیا گیا: 23 Feb, 2024 06:26 AM IST
دیکھا گیا: 507
Time to read: 2 min read
جاگو شبِ برأت، عبادت کی رات ہے
اللہ کے حبیب کے پیارے کی رات ہے
بندوں کے واسطے یہ کرامت کی رات ہے
اللہ اللہ، اللہ اللہ
اللہ اللہ، اللہ اللہ
جاگو شبِ برأت، عبادت کی رات ہے
سجدے میں سر جھکاؤ، شفاعت کی رات ہے
جاگو شبِ برأت، عبادت کی رات ہے
جاگو شبِ برأت، عبادت کی رات ہے
جاگو..., جاگو..., جاگو..., جاگو...
نوری محفل پہ چادر تانی نور کی
نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
چاندنی میں ہیں ڈوبے ہوئے دو جہاں
کون جلوہ نما آج کی رات ہے
خدا کو یاد کرو، خدا کو یاد کرو
سن لے صدا مجبوروں کی، اے مالکِ جہان
بھر دے جو مانگتے ہیں مرادوں سے جولیہ
رہ جائے نہ مایوس کوئی آج سوالی
دامن کسی کا جائے نہ مولا میرے خالی
یہ رات کیا ہے آج زمانے کو بتا دے
صدقے میں محمد کے کوئی جلوہ دکھا دے
بندوں کو تحفہ بخشا ہے بندہ نواز نے
جاگو شبِ برأت، عبادت کی رات ہے
جاگو شبِ برأت، عبادت کی رات ہے
جاگو..., جاگو..., جاگو..., جاگو...
فرش پر دھوم ہے، عرش پر دھوم ہے
بدنصیبی ہے اُسکی جو محروم ہے
پھر ملے گی شب یہ کس کو معلوم ہے
عام لطفِ خدا آج کی رات ہے
اللہ اللہ، اللہ اللہ
اللہ اللہ، اللہ اللہ
اس شب میں جس نے مانگا وہی اُس کو مل گیا
اللہ نے مرادوں سے دامن کو بھر دیا
خالی نہ کوئی جائے گا اس شبِ برأت میں
رحمتِ خدا پائے گا اس شبِ برأت میں
ایمان تازہ ہوتا ہے اس شبِ برأت کو
بخشی ہے مولا نے طاقت اس رات کو
بندوں پہ اپنی اُس کی عنایت کی رات ہے
جاگو شبِ برأت، عبادت کی رات ہے
جاگو شبِ برأت، عبادت کی رات ہے
جاگو..., جاگو..., جاگو..., جاگو...
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام شبِ برأت کی فضیلت اور اس کی روحانی اہمیت پر مبنی ہے، جس میں مسلمانوں کو غفلت کی نیند سے بیدار ہو کر ربِ کریم کی عبادت کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔
شاعر کہتا ہے کہ یہ رات اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے، جس میں توبہ کے دروازے کھلے ہیں اور حضور ﷺ کے صدقے دعائیں قبول ہوتی ہیں۔ یہ مغفرت کی گھڑی ہے جہاں ہر مجبور کی پکار سنی جاتی ہے اور اللہ کی رحمت تمام کائنات کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| شبِ برأت | نجات اور چھٹکارے کی رات |
| شفاعت | سفارش (نبی کریم ﷺ کی طرف سے) |
| جلوہ نما | ظاہر ہونا / نمودار ہونا |
| بندہ نواز | اپنے بندوں پر نوازش کرنے والا (اللہ) |
| محروم | خالی ہاتھ رہ جانے والا |
| عنایت | مہربانی یا بخشش |
| صدا | آواز یا پکار |
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ شبِ برأت عبادت، دعا اور گناہوں سے توبہ کی رات ہے۔ شاعر اس بات پر زور دیتا ہے کہ جو شخص اس رات کو سو کر گزار دے وہ بدنصیب ہے، کیونکہ یہ اللہ کے عام لطف و کرم کی رات ہے جس میں کوئی بھی سوالی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا اور ایمان کو نئی زندگی ملتی ہے۔
سوال: اس کلام کے مطابق، شاعر نے اس مبارک رات کو کس عمل کے لیے مخصوص قرار دیا ہے اور اس میں سجدے کی کیا اہمیت بتائی ہے؟
لیرکس کے آخر میں شاعر نے "ایمان" اور "طاقت" کے حوالے سے اس رات کی کیا فضیلت بیان کی ہے، اور بندوں پر خدا کی کس طرح کی عنایت کا ذکر کیا ہے؟