, ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر Lyrics In اردو

(ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر, ان کی تصویر سینے میں موجود ہے)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 28 Sep, 2023 02:51 AM IST

دیکھا گیا: 1.2K

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر،
ان کی تصویر سینے میں موجود ہے،
جس نے لا کر کلامِ الہی دیا،
وہ محمد مدینے میں موجود ہے،

ہے نظر میں جمالِ حبیبِ خدا،
ان کی تصویر سینے میں موجود ہے،
جس نے لا کر کلامِ الہی دیا،
وہ محمد مدینے میں موجود ہے،

پھول کھلتے ہیں پڑھ کر کے صلَّی اللہ علیہ وسلم،
جھوم کر کہہ رہی ہے یہ بادِ صبا،
ایسی خوشبو چمن کے گُلوں میں کہاں،
جو نبی کے پسینے میں موجود ہے،

چھوڑنا تیرا طیبہ گوارا نہیں،
ساری دنیا میں ایسا منظر نہیں،
ایسا منظر زمانے نے دیکھا نہیں،
جیسا منظر مدینے میں موجود ہے،

ہم نے مانا کہ جنت بہت ہے حسین،
چھوڑ کر ہم مدینہ نہ جائیں کہیں،
یوں تو جنت میں سب ہے مدینہ نہیں،
اور جنت مدینے میں موجود ہے،

بےسہاراوں کو سینے سے لپٹا لیا،
جس نے جو مانگا اس کو عطا کر دیا،
وہ فقیران کے افسر شاہِ انبیاء،
وہ شہنشاہ مدینے میں موجود ہے

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ کلام حضور پاک ﷺ سے عقیدت اور بے پناہ محبت کا اظہار ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ ہم نے آپ ﷺ کا دیدار نہیں کیا، مگر آپ ﷺ کی یاد اور نقشِ قدم ہر عاشق کے دل میں محفوظ ہیں۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مطلب ہے کہ نبی کریم ﷺ کی عظمت اور ان کا مرتبہ کائنات کی ہر شے سے بلند ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ دنیا کے کسی پھول میں وہ مہک نہیں جو آپ ﷺ کے پسینے میں ہے، اور جنت کی تمام خوبصورتی بھی مدینے کی گلیوں کے سامنے ہیچ ہے کیونکہ جنت کی اصل رونق تو خود حضور ﷺ کی ذاتِ مبارکہ سے ہے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی (اردو / ہندی)
کلامِ الہیاللہ کی کتاب (قرآن مجید)
جمالِ حبیبِ خدااللہ کے محبوب ﷺ کی خوبصورتی
بادِ صباصبح کی ٹھنڈی ہوا
گُلوںپھولوں (Flowers)
شاہِ انبیاءتمام نبیوں کے بادشاہ
عطابخشش یا دینا (Grant)

خلاصہ (Summary)

اس نعت کا لبِ لباب یہ ہے کہ مدینہ وہ مبارک مقام ہے جہاں کائنات کے سب سے بڑے محسن اور شہنشاہ ﷺ آرام فرما ہیں۔ شاعر کے نزدیک مدینہ چھوڑنا ناممکن ہے کیونکہ جو سکون اور برکت مدینے میں ہے وہ پوری دنیا یا محض جنت کے تصور میں بھی نہیں۔ آپ ﷺ نے ہر بے سہارا کو گلے لگایا اور مانگنے والے کو کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹایا۔

اس نعت کے مطابق، شاعر نے جنت اور مدینے کے درمیان کیا فرق بتایا ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: