मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 66 بار دیکھا گیا
,
عنوان: ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: علیشا کیانی حافظ کامران قادری
شامل کیا گیا: 28 Sep, 2023 02:51 AM IST
دیکھا گیا: 1.2K
Time to read: 1 min read
ہم نے آنکھوں سے دیکھا نہیں ہے مگر،
ان کی تصویر سینے میں موجود ہے،
جس نے لا کر کلامِ الہی دیا،
وہ محمد مدینے میں موجود ہے،
ہے نظر میں جمالِ حبیبِ خدا،
ان کی تصویر سینے میں موجود ہے،
جس نے لا کر کلامِ الہی دیا،
وہ محمد مدینے میں موجود ہے،
پھول کھلتے ہیں پڑھ کر کے صلَّی اللہ علیہ وسلم،
جھوم کر کہہ رہی ہے یہ بادِ صبا،
ایسی خوشبو چمن کے گُلوں میں کہاں،
جو نبی کے پسینے میں موجود ہے،
چھوڑنا تیرا طیبہ گوارا نہیں،
ساری دنیا میں ایسا منظر نہیں،
ایسا منظر زمانے نے دیکھا نہیں،
جیسا منظر مدینے میں موجود ہے،
ہم نے مانا کہ جنت بہت ہے حسین،
چھوڑ کر ہم مدینہ نہ جائیں کہیں،
یوں تو جنت میں سب ہے مدینہ نہیں،
اور جنت مدینے میں موجود ہے،
بےسہاراوں کو سینے سے لپٹا لیا،
جس نے جو مانگا اس کو عطا کر دیا،
وہ فقیران کے افسر شاہِ انبیاء،
وہ شہنشاہ مدینے میں موجود ہے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام حضور پاک ﷺ سے عقیدت اور بے پناہ محبت کا اظہار ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اگرچہ ہم نے آپ ﷺ کا دیدار نہیں کیا، مگر آپ ﷺ کی یاد اور نقشِ قدم ہر عاشق کے دل میں محفوظ ہیں۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ نبی کریم ﷺ کی عظمت اور ان کا مرتبہ کائنات کی ہر شے سے بلند ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ دنیا کے کسی پھول میں وہ مہک نہیں جو آپ ﷺ کے پسینے میں ہے، اور جنت کی تمام خوبصورتی بھی مدینے کی گلیوں کے سامنے ہیچ ہے کیونکہ جنت کی اصل رونق تو خود حضور ﷺ کی ذاتِ مبارکہ سے ہے۔
| لفظ | معنی (اردو / ہندی) |
|---|---|
| کلامِ الہی | اللہ کی کتاب (قرآن مجید) |
| جمالِ حبیبِ خدا | اللہ کے محبوب ﷺ کی خوبصورتی |
| بادِ صبا | صبح کی ٹھنڈی ہوا |
| گُلوں | پھولوں (Flowers) |
| شاہِ انبیاء | تمام نبیوں کے بادشاہ |
| عطا | بخشش یا دینا (Grant) |
اس نعت کا لبِ لباب یہ ہے کہ مدینہ وہ مبارک مقام ہے جہاں کائنات کے سب سے بڑے محسن اور شہنشاہ ﷺ آرام فرما ہیں۔ شاعر کے نزدیک مدینہ چھوڑنا ناممکن ہے کیونکہ جو سکون اور برکت مدینے میں ہے وہ پوری دنیا یا محض جنت کے تصور میں بھی نہیں۔ آپ ﷺ نے ہر بے سہارا کو گلے لگایا اور مانگنے والے کو کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹایا۔
اس نعت کے مطابق، شاعر نے جنت اور مدینے کے درمیان کیا فرق بتایا ہے؟