रुख़ दिन है या महर-ए-समा ये भी नहीं वो भी नहीं
- 3 گھنٹے پہلے fiber_manual_record 8 بار دیکھا گیا
,
عنوان: ہم کو بلانا یا رسول اللہ
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: علامہ نثار علی اجاگر
نعت خوان/ فنکار: فرحان علی قادری اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 17 Aug, 2026 06:25 AM IST
دیکھا گیا: 10
Time to read: 2 min read
ہم کو بلانا یا رسول اللہ ﷺ،
ہم کو بلانا یا رسول اللہ ﷺ،
ہم کو بلانا یا رسول اللہ ﷺ
کبھی تو سبز گنبد کا اجالا ہم بھی دیکھ دیکھیں گے،
ہمیں بلوائیں گے آقا مدینہ ہم بھی دیکھیں گے۔
دھڑک اٹھے گے یہ دل یا دھڑکنا بھول جائے گا،
دلِ بسمل کا اُس در پر تماشا ہم بھی دیکھیں گے۔
کبھی تو سبز گنبد کا اجالا ہم بھی دیکھ دیکھیں گے،
ہمیں بلوائیں گے آقا مدینہ ہم بھی دیکھیں گے۔
ادب سے ہاتھ باندھے اُن کے روضے پر کھڑے ہوں گے،
سنہری جالیوں کا یوں نظارہ ہم بھی دیکھیں گے۔
کبھی تو سبز گنبد کا اجالا ہم بھی دیکھ دیکھیں گے،
ہمیں بلوائیں گے آقا مدینہ ہم بھی دیکھیں گے۔
درِ دولت سے لوٹایا نہیں جاتا کوئی خالی،
وہاں خیرات کا بٹنا خدایا ہم بھی دیکھیں گے۔
کبھی تو سبز گنبد کا اجالا ہم بھی دیکھ دیکھیں گے،
ہمیں بلوائیں گے آقا مدینہ ہم بھی دیکھیں گے۔
ہم کو بلانا یا رسول اللہ ﷺ،
ہم کو بلانا یا رسول اللہ ﷺ
برستی گنبدِ خضرا سے ٹکراتی ہوئی بوندیں،
وہاں پر شان سے بارش برسنا ہم بھی دیکھیں گے۔
کبھی تو سبز گنبد کا اجالا ہم بھی دیکھ دیکھیں گے،
ہمیں بلوائیں گے آقا مدینہ ہم بھی دیکھیں گے۔
گزارے رات دن اپنے اسی امید پر ہم نے،
کسی دن تو جمالِ روئے زیبا ہم بھی دیکھیں گے۔
کبھی تو سبز گنبد کا اجالا ہم بھی دیکھ دیکھیں گے،
ہمیں بلوائیں گے آقا مدینہ ہم بھی دیکھیں گے۔
دمِ رخصت قدم مان بھر کے ہیں محسوس کرتے ہیں،
کسے ہے جا کے لوٹ آنے کا یارا ہم بھی دیکھیں گے۔
کبھی تو سبز گنبد کا اجالا ہم بھی دیکھ دیکھیں گے،
ہمیں بلوائیں گے آقا مدینہ ہم بھی دیکھیں گے۔
پہنچ جائیں گے جس دن اے اجاگر اُن کے قدموں میں،
کسے کہتے ہیں جنت کا نظارہ ہم بھی دیکھیں گے۔
کبھی تو سبز گنبد کا اجالا ہم بھی دیکھ دیکھیں گے،
ہمیں بلوائیں گے آقا مدینہ ہم بھی دیکھیں گے۔
ہم کو بلانا یا رسول اللہ ﷺ،
ہم کو بلانا یا رسول اللہ ﷺ
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ نعتِ پاک حضور ﷺ سے شدید محبت، مدینہ منورہ حاضری کی تڑپ اور سبز گنبد کے دیدار کی بے پناہ آرزو کا خوبصورت اظہار ہے، جس میں عاشقِ رسول کی قلبی کیفیات کو بیان کیا گیا ہے۔
اس کلام میں شاعر اور ہر سچے امتی کے دل کی اس تڑپ کو بیان کیا گیا ہے کہ ایک دن آका ہمیں مدینہ ضرور بلائیں گے، جہاں روضہِ مبارک پر حاضری دے کر دل کی دنیا ہی بدل جائے گی اور روح کو سکون ملے گا۔
| لفظ | معنی (Meaning) |
|---|---|
| سبز گنبد | مسجدِ نبوی کا ہرا گंबد |
| دلِ بسمل | زخمی یا تڑپتا ہوا دل |
| سنہری جالیاں | روضہِ مبارک پر لگی ہوئی سنہری جالیان |
| گنبدِ خضرا | سبز گنبد کا دوسرا نام |
| جمالِ روئے زیبا | پیارے اور مبارک چہرے کا حسن |
اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ شاعر اپنی پوری زندگی اسی ایک امید پر گزارتا ہے کہ اسے مدینہ طیبہ جانے کا موقع ملے گا۔ درِ دولت سے کوئی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا، اور مدینے کی فضاؤں، سبز گنبد کی روشنی اور وہاں کے روحانی نظاروں کا دیدار کرنے کی تمन्ना ہر عاشقِ صادق کے دل میں بستی ہے۔
اس نعت میں شاعر نے کس مقام کے دیدار اور کون سے گنبد کی روشنی کو دیکھنے کی تمننا کی ہے؟