, ہوتا اگر زمین پر سایہ رسول کا - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

ہوتا اگر زمین پر سایہ رسول کا Lyrics In اردو

(ہوتا اگر زمین پر سایہ رسول کا, پھر پاؤں امتی کہاں رکھتا رسول کا)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: ہوتا اگر زمین پر سایہ رسول کا

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم

نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری

شامل کیا گیا: 01 Aug, 2023 06:14 PM IST

دیکھا گیا: 823

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

ہوتا اگر زمین پر سایہ رسول کا،
پھر پاؤں امتی کہاں رکھتا رسول کا۔

کرتے ہیں احترام ہم جنازے کا اِس لیے،
وہ جا رہا ہے دیکھنے چہرہ رسول کا۔

ہوتا اگر زمین پر سایہ رسول کا۔

دنیا کو دیکھنا بھی گوارا نہیں کیا،
جب تک علیؑ نے دیکھا نہ چہرہ رسول کا۔

ہوتا اگر زمین پر سایہ رسول کا۔

شیرِ خدا نہ بنتا تو بنتا بھی اور کیا،
بچپن سے ہی جو پَلا ہوا تھا رسول کا۔

ہوتا اگر زمین پر سایہ رسول کا۔

پڑھتے ہیں یوں تو غیر بھی کلمہ رسول کا،
جنت اُسے ملے گی جو ہوگا رسول کا۔

ہوتا اگر زمین پر سایہ رسول کا۔

نعرہ رضا کا لگتا ہے دنیا میں اِس لیے،
میرے رضا کے لب پہ تھا نعرہ رسول کا۔

ہوتا اگر زمین پر سایہ رسول کا،
پھر پاؤں امتی کہاں رکھتا رسول کا۔

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ انتہائی خوبصورت اور عقیدت سے لبریز نعتِ پاک حضور سرورِ کائنات ﷺ کے نورانی وجود کی عظمت، ان کے پاکیزہ گھرانے (اہلِ بیت) کی شان اور ان سے سچی محبت کرنے والوں کو ملنے والے مرتبے کو بیان کرتی ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مطلب ہے کہ اگر زمین پر میرے آقا ﷺ کا مبارک سایہ ہوتا، تو کوئی بھی امتی جانے ان جانے میں اس پر پاؤں رکھنے کی گستاخی کر بیٹھتا، اسی لیے خدا نے آپ ﷺ کا سایہ ہی نہیں بنایا۔ شاعر کہتا ہے کہ مولا علیؑ نے کائنات میں آکر تب تک اپنی آنکھیں نہیں کھولیں جب تک انہوں نے سب سے پہلے نبی ﷺ کا چہرہ نہیں دیکھ لیا، کیونکہ ان کی پرورش بچپن سے ہی نبی کے ہاتھوں ہوئی تھی۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظ (Word)معنی (Meaning)
سایہپرچھائیں / عکس
امتینبی کریم ﷺ کے پیروکار / ماننے والے
احترامعزت / تعظیم
گواراپسند / قبول یا منظور
شیرِ خدااللہ کا شیر (حضرت علیؑ کا لقب)
غیرپرائے (مراد: وہ جو دل سے وفادار نہیں)
لبہونٹ

خلاصہ (Summary)

اس کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کا وجودِ مسعود سراپا نور تھا اور کائنات میں ان کی تعظیم سب سے افضل ہے؛ یہاں تک کہ جنازے کا احترام بھی اس لیے کیا جاتا ہے کیونکہ مرنے والا قبر میں سرکار ﷺ کا دیدار کرنے جا رہا ہے۔ شاعر واضح کرتا ہے کہ محض زبان سے کلمہ پڑھنا کافی نہیں ہے، جنت صرف اسی کو ملے گی جو سچے دل سے نبی کا وفادار ہوگا۔ آخر میں اعلیٰ حضرت 'رضا' کا ذکر ہے کہ دنیا میں ان کا نام اس لیے گونجتا ہے کیونکہ انہوں نے ہمیشہ نبی پاک ﷺ کی شان کا نعرہ بلند کیا۔

لیرکس کے مطابق، خدا نے زمین پر نبی کریم ﷺ کا سایہ کیوں نہیں بنایا؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: