, حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں Lyrics In اردو

(حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں, دل و جاں اُن پر نِثارا کروں میں)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 30 Jul, 2023 10:48 AM IST

دیکھا گیا: 291

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں،
دل و جاں اُن پر نِثارا کروں میں۔

مجھے اپنی رحمت سے تُو اپنا کر لے،
سِوا سب سے تیرے کنارا کروں میں۔

حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں،
دل و جاں اُن پر نِثارا کروں میں۔

میں کیوں غیر کی ٹھوکریں کھانے جاؤں،
تیرے در سے اپنا گزارا کروں میں۔

حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں،
دل و جاں اُن پر نِثارا کروں میں۔

یہ ایک جاں کیا ہے اگر ہوں کروڑوں،
تیرے نام پر سب کو وارا کروں میں۔

حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں،
دل و جاں اُن پر نِثارا کروں میں۔

تیرے در کے ہوتے کہاں جاؤں پیارے،
کہاں اپنا دامن پسارا کروں میں۔

حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں،
دل و جاں اُن پر نِثارا کروں میں۔

صبا ہی سے نوری سلام اپنا کہہ دے،
سِوا اُس کے کیا اور چارا کروں میں۔

حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں،
دل و جاں اُن پر نِثارا کروں میں۔

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ عشقِ رسول ﷺ کی چاشنی سے لبریز انتہائی پرکشش اور مقبولِ عام نعتِ پاک (مفتیِ اعظم ہند، شاہ مصطفیٰ رضا خان 'نوری' رحمتہ اللہ علیہ کی لکھی ہوئی) بارگاہِ رسالت مآب ﷺ سے سچی وابستگی اور جانثاری کے سچے جذبے کی عکاس ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مطلب ہے کہ میری زندگی کی سب سے بڑی تمنا یہ ہے کہ میں ہمیشہ اللہ کے پیارے محبوب، یعنی اپنے نبی ﷺ کے رخِ انور کا دیدار کرتا رہوں اور اپنا دل و جان ان کی محبت میں قربان کر دوں۔ شاعر خدا سے التجا کرتا ہے کہ وہ اسے اپنے فضل و کرم سے اپنا بنا لے تاکہ وہ دنیا کے تمام جھوٹے سہاروں اور رشتوں کو چھوڑ کر (کنارہ کر کے) صرف خدا اور اس کے رسول ﷺ کا ہو کر رہ جائے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظ (Word)معنی (Meaning)
حبیبِ خدااللہ کے پیارے محبوب (مراد: حضور ﷺ)
نِثارا / واراقربان کرنا / صدقے کرنا یا نچھاور کرنا
کنارا کرناالگ ہو جانا / چھوڑ دینا
غیرپرائے / دنیا کے دوسرے لوگ یا آستانے
دامن پسارا کرناجھولی پھیلانا / مانگنا یا سوال کرنا
صباصبح کی ٹھنڈی اور لطیف ہوا
چاراعلاج / تدبیر یا کوئی دوسرا راستہ

خلاصہ (Summary)

اس لازوال کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ ایک سچے عاشقِ رسول کے لیے حضور ﷺ کی چوکھٹ ہی سب کچھ ہے؛ وہ دنیا میں کسی اور کے در کی ٹھوکریں کھانے کے بجائے صرف اپنے آقا کے در کا منگتا بن کر جینا پسند کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر اس کے پاس ایک جان کے بجائے کروڑوں جانیں بھی ہوں، تو وہ ان سب کو حضور ﷺ کے پاک نام پر خوشی خوشی قربان کر دے گا۔ آخر میں شاعر 'نوری' مدینے کی طرف چلنے والی صبح کی ہوا (صبا) کے ذریعے آقا ﷺ کی بارگاہ میں اپنا نیاز مندانہ سلام بھیجتا ہے کیونکہ دورِ ہجر میں اس کے پاس اپنی محبت پیش کرنے کا اس سے بہتر کوئی اور چارہ (راستہ) نہیں ہے۔

لیرکس کے مطابق، اگر شاعر کے پاس ایک کے بجائے کروڑوں جانیں ہوں، تو وہ ان کا کیا کرے گا؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: