मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 65 بار دیکھا گیا
,
عنوان: حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: حضور مفتی اعظم ای ہند مصطفی رضا خان نوری۔
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 30 Jul, 2023 10:48 AM IST
دیکھا گیا: 291
Time to read: 1 min read
حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں،
دل و جاں اُن پر نِثارا کروں میں۔
مجھے اپنی رحمت سے تُو اپنا کر لے،
سِوا سب سے تیرے کنارا کروں میں۔
حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں،
دل و جاں اُن پر نِثارا کروں میں۔
میں کیوں غیر کی ٹھوکریں کھانے جاؤں،
تیرے در سے اپنا گزارا کروں میں۔
حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں،
دل و جاں اُن پر نِثارا کروں میں۔
یہ ایک جاں کیا ہے اگر ہوں کروڑوں،
تیرے نام پر سب کو وارا کروں میں۔
حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں،
دل و جاں اُن پر نِثارا کروں میں۔
تیرے در کے ہوتے کہاں جاؤں پیارے،
کہاں اپنا دامن پسارا کروں میں۔
حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں،
دل و جاں اُن پر نِثارا کروں میں۔
صبا ہی سے نوری سلام اپنا کہہ دے،
سِوا اُس کے کیا اور چارا کروں میں۔
حبیبِ خدا کا نظارا کروں میں،
دل و جاں اُن پر نِثارا کروں میں۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ عشقِ رسول ﷺ کی چاشنی سے لبریز انتہائی پرکشش اور مقبولِ عام نعتِ پاک (مفتیِ اعظم ہند، شاہ مصطفیٰ رضا خان 'نوری' رحمتہ اللہ علیہ کی لکھی ہوئی) بارگاہِ رسالت مآب ﷺ سے سچی وابستگی اور جانثاری کے سچے جذبے کی عکاس ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ میری زندگی کی سب سے بڑی تمنا یہ ہے کہ میں ہمیشہ اللہ کے پیارے محبوب، یعنی اپنے نبی ﷺ کے رخِ انور کا دیدار کرتا رہوں اور اپنا دل و جان ان کی محبت میں قربان کر دوں۔ شاعر خدا سے التجا کرتا ہے کہ وہ اسے اپنے فضل و کرم سے اپنا بنا لے تاکہ وہ دنیا کے تمام جھوٹے سہاروں اور رشتوں کو چھوڑ کر (کنارہ کر کے) صرف خدا اور اس کے رسول ﷺ کا ہو کر رہ جائے۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| حبیبِ خدا | اللہ کے پیارے محبوب (مراد: حضور ﷺ) |
| نِثارا / وارا | قربان کرنا / صدقے کرنا یا نچھاور کرنا |
| کنارا کرنا | الگ ہو جانا / چھوڑ دینا |
| غیر | پرائے / دنیا کے دوسرے لوگ یا آستانے |
| دامن پسارا کرنا | جھولی پھیلانا / مانگنا یا سوال کرنا |
| صبا | صبح کی ٹھنڈی اور لطیف ہوا |
| چارا | علاج / تدبیر یا کوئی دوسرا راستہ |
اس لازوال کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ ایک سچے عاشقِ رسول کے لیے حضور ﷺ کی چوکھٹ ہی سب کچھ ہے؛ وہ دنیا میں کسی اور کے در کی ٹھوکریں کھانے کے بجائے صرف اپنے آقا کے در کا منگتا بن کر جینا پسند کرتا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ اگر اس کے پاس ایک جان کے بجائے کروڑوں جانیں بھی ہوں، تو وہ ان سب کو حضور ﷺ کے پاک نام پر خوشی خوشی قربان کر دے گا۔ آخر میں شاعر 'نوری' مدینے کی طرف چلنے والی صبح کی ہوا (صبا) کے ذریعے آقا ﷺ کی بارگاہ میں اپنا نیاز مندانہ سلام بھیجتا ہے کیونکہ دورِ ہجر میں اس کے پاس اپنی محبت پیش کرنے کا اس سے بہتر کوئی اور چارہ (راستہ) نہیں ہے۔
لیرکس کے مطابق، اگر شاعر کے پاس ایک کے بجائے کروڑوں جانیں ہوں، تو وہ ان کا کیا کرے گا؟