, گھر گھر اجالا با توہرے گھر سے - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

گھر گھر اجالا با توہرے گھر سے Lyrics In اردو

(گھر گھر اجالا با توہرے گھر سے, انگنا ما آقا توہرے نور برسے)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: گھر گھر اجالا با توہرے گھر سے

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: شمیم رضا فیضی

نعت خوان/ فنکار: شمیم رضا فیضی

شامل کیا گیا: 14 May, 2022 09:37 AM IST

دیکھا گیا: 2.6K

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

گھر گھر اجالا با توہرے گھر سے
انگنہ ما آقا توھرے نور برسے۔

آقا قیامت کی گرمی پڑت با
آقا قیامت کی گرمی پڑت با
دھوپ سے سارا بدن با جلت با

چادر ہٹائیو نہ مورے سر سے
انگنا ما آقا توہرے نور برسے۔

گارے سور میں جب بند بھیلاں سورکھوا
داس کر کے صدیق سے کہے لگل سپوا

چرن ہٹاوا آقا نینا ترسے
انگنہ ماں آقا توہرے نور برسے۔

جاکے مدینے میں کہنہ بیاریا
اب تو بولا لو آقا طیبہ نگریہ
اب موری انکھیاں سے ساون بارسے
انگنہ ماں آقا توہرے نور برسے۔

گھر گھر اجالا با توہرے گھر سے
انگنا ما آقا توہرے نور برسے۔

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ بھوجپوری اور اودھی زبان کے خوبصورت لوک رنگ میں لکھی گئی ایک انتہائی منفرد، مخلصانہ اور رقت انگیز نعتِ شریف ہے، جس میں سادہ اور مقامی الفاظ کے ذریعے حضورِ اکرم ﷺ کی بارگاہ میں والہانہ محبت اور عقیدت کا اظہار کیا گیا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مفہوم ہے کہ اے آقا ﷺ! دنیا کے گھر گھر میں جو ہدایت کا اجالا ہے وہ آپ ہی کے گھر (درِ اقدس) کا صدقہ ہے اور آپ کی برکت سے ہر آنگن میں نور برس رہا ہے۔ قیامت کے دن جب سخت دھوپ اور تپش سے سب کا بدن جل رہا ہوگا، تو میری آپ سے یہی التجا ہے کہ میرے سر سے اپنی رحمت اور شفاعت کی چادر مت ہٹائیے گا۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی (Urdu)
اجالا با توہرے گھر سےروشنی آپ ہی کے گھر سے ہے
گارے سورغارِ ثور (مکہ کی وہ غار جہاں ہجرت کے وقت حضور ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ نے پناہ لی)
سپواسانپ
نینا ترسےآنکھیں دیکھنے کو ترستی ہیں
بیاریاٹھنڈی ہوا / پروا بوجھ (صبا)
طیبہ نگریہمدینہ منورہ کی پاک نگری

خلاصہ (Summary)

اس نعت میں شاعر نے دو نہایت خوبصورت پہلو بیاں کیے ہیں۔ پہلا واقعہ غارِ ثور کا ہے، جہاں سوراخ سے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو ڈسنے والے سانپ نے اپنی زبان میں التجا کی تھی کہ وہ برسوں سے حضور ﷺ کے دیدار (نینا ترسے) کے لیے بے چین تھا، اس لیے وہ اپنا قدم ہٹانے کی فریاد کر رہا تھا۔ دوسرا پہلو مدینے کی جدائی کا ہے، جس میں شاعر ٹھنڈی ہوا (بیاریا) سے منت کرتا ہے کہ وہ طیبہ جا کر میرا یہ پیغام پہنچائے کہ اب میری آنکھوں سے ساون کے آنسو برس رہے ہیں، لہٰذا اب مجھے بھی مدینے بلا لیا جائے۔

نعت کے مطابق، غارِ ثور میں حضرت ابو بکر صدیقؓ کو ڈسنے کے بعد سانپ نے نبی ﷺ کے دیدار کے لیے کیا گزارش کی تھی؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں:

نمایاں آرٹسٹ/گیت نگار

سبھی دیکھیں