मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 58 بار دیکھا گیا
,
عنوان: گھر گھر اجالا با توہرے گھر سے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: شمیم رضا فیضی
نعت خوان/ فنکار: شمیم رضا فیضی
شامل کیا گیا: 14 May, 2022 09:37 AM IST
دیکھا گیا: 2.6K
Time to read: 1 min read
گھر گھر اجالا با توہرے گھر سے
انگنہ ما آقا توھرے نور برسے۔
آقا قیامت کی گرمی پڑت با
آقا قیامت کی گرمی پڑت با
دھوپ سے سارا بدن با جلت با
چادر ہٹائیو نہ مورے سر سے
انگنا ما آقا توہرے نور برسے۔
گارے سور میں جب بند بھیلاں سورکھوا
داس کر کے صدیق سے کہے لگل سپوا
چرن ہٹاوا آقا نینا ترسے
انگنہ ماں آقا توہرے نور برسے۔
جاکے مدینے میں کہنہ بیاریا
اب تو بولا لو آقا طیبہ نگریہ
اب موری انکھیاں سے ساون بارسے
انگنہ ماں آقا توہرے نور برسے۔
گھر گھر اجالا با توہرے گھر سے
انگنا ما آقا توہرے نور برسے۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ بھوجپوری اور اودھی زبان کے خوبصورت لوک رنگ میں لکھی گئی ایک انتہائی منفرد، مخلصانہ اور رقت انگیز نعتِ شریف ہے، جس میں سادہ اور مقامی الفاظ کے ذریعے حضورِ اکرم ﷺ کی بارگاہ میں والہانہ محبت اور عقیدت کا اظہار کیا گیا ہے۔
ان اشعار کا مفہوم ہے کہ اے آقا ﷺ! دنیا کے گھر گھر میں جو ہدایت کا اجالا ہے وہ آپ ہی کے گھر (درِ اقدس) کا صدقہ ہے اور آپ کی برکت سے ہر آنگن میں نور برس رہا ہے۔ قیامت کے دن جب سخت دھوپ اور تپش سے سب کا بدن جل رہا ہوگا، تو میری آپ سے یہی التجا ہے کہ میرے سر سے اپنی رحمت اور شفاعت کی چادر مت ہٹائیے گا۔
| لفظ | معنی (Urdu) |
|---|---|
| اجالا با توہرے گھر سے | روشنی آپ ہی کے گھر سے ہے |
| گارے سور | غارِ ثور (مکہ کی وہ غار جہاں ہجرت کے وقت حضور ﷺ اور حضرت ابوبکرؓ نے پناہ لی) |
| سپوا | سانپ |
| نینا ترسے | آنکھیں دیکھنے کو ترستی ہیں |
| بیاریا | ٹھنڈی ہوا / پروا بوجھ (صبا) |
| طیبہ نگریہ | مدینہ منورہ کی پاک نگری |
اس نعت میں شاعر نے دو نہایت خوبصورت پہلو بیاں کیے ہیں۔ پہلا واقعہ غارِ ثور کا ہے، جہاں سوراخ سے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو ڈسنے والے سانپ نے اپنی زبان میں التجا کی تھی کہ وہ برسوں سے حضور ﷺ کے دیدار (نینا ترسے) کے لیے بے چین تھا، اس لیے وہ اپنا قدم ہٹانے کی فریاد کر رہا تھا۔ دوسرا پہلو مدینے کی جدائی کا ہے، جس میں شاعر ٹھنڈی ہوا (بیاریا) سے منت کرتا ہے کہ وہ طیبہ جا کر میرا یہ پیغام پہنچائے کہ اب میری آنکھوں سے ساون کے آنسو برس رہے ہیں، لہٰذا اب مجھے بھی مدینے بلا لیا جائے۔
نعت کے مطابق، غارِ ثور میں حضرت ابو بکر صدیقؓ کو ڈسنے کے بعد سانپ نے نبی ﷺ کے دیدار کے لیے کیا گزارش کی تھی؟