, گم ہو گئے بے شمار آقا - Shan E Nabi
search
لاگ ان

گم ہو گئے بے شمار آقا Lyrics In اردو

(گم ہو گئے بے شمار آقا, بندہ تیرے نثار آقا)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: گم ہو گئے بے شمار آقا

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 08 Dec, 2025 02:22 PM IST

دیکھا گیا: 123

Time to read: 2 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

گم ہو گئے بے شمار آقا،
بندہ تیرے نثار آقا

بگڑا جاتا ہے کھیل میرا،
آقا آقا سنوار آقا

منجدھار پہ آ کے ناؤ ٹوٹی،
دے ہاتھ کی ہوں میں پار آقا

ٹوٹی جاتی ہے پیٹھ میری،
لِلّٰہ یہ بوجھ اتار آقا

ہلکا ہے اگر ہمارا پلہ،
بھاری ہے تیرا وقار آقا

مجبور ہیں ہم تو فکر کیا ہے،
تم کو تو ہے اختیار آقا

میں دور ہوں تم تو ہو میرے پاس،
سن لو میری پکار آقا

مجھ سا کوئی غمزدہ نہ ہوگا،
تم سا نہیں غمگسار آقا

گرداب میں پڑ گئی ہے کشتی،
ڈوبا ڈوبا، اتار آقا

تم وہ کہ کرم کو ناز تم سے،
میں وہ کہ بدی کو آر آقا

پھر منہ نہ پڑے کبھی خزاں کا،
دے دے ایسی بہار آقا

جس کی مرضی خدا نہ ٹالے،
میرا ہے وہ نامدار آقا

ہے ملکِ خدا پہ جس کا قبضہ،
میرا ہے وہ کامگار آقا

سویا کیے نابکار بندے،
رویا کیے زار زار آقا

کیا بھول ہیں اُن کے ہوتے کہلائیں،
دنیا کے یہ تاجدار آقا

اُن کے ادنیٰ گدا پہ مٹ جائیں،
ایسے ایسے ہزار آقا

بے ابرِ کرم کے میرے دھبّے،
لَا تَغْسِلُہَا الْبِحَار آقا

اتنی رحمت رضا پہ کر لو،
لَا يَقْرُبُهُ الْبَوَار آقا

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ کلام امام احمد رضا خان بریلوی کا تحریر کردہ ایک نہایت پُردرد استغاثہ (فریاد) ہے، جس میں ایک بے بس امتی اپنے گناہوں اور دنیاوی مصائب کے بوجھ سے نجات کے لیے حضور ﷺ کی بارگاہ میں التجا کر رہا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

شاعر کہتا ہے کہ اے آقا ﷺ! غموں نے مجھے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے اور میری زندگی کی کشتی منجدھار میں پھنس کر ٹوٹ رہی ہے۔ میں اپنی مجبوریوں کے ہاتھوں بے بس ہوں، لیکن آپ ﷺ صاحبِ اختیار ہیں، لہٰذا اپنے کرم کا ہاتھ دے کر میری بگڑی سنوار دیجیے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی
نثارقربان ہونا
منجدھاردریا کے بیچ کی لہر (بھنور)
وقارعزت اور مرتبہ
اختیارقدرت اور بس ہونا
غمگسارغم بانٹنے والا / ہمدرد
گردابپانی کا چکر یا بھنور
نابکارنکما یا گنہگار
تاجداربادشاہ

خلاصہ (Summary)

اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا کے تمام بادشاہ حضور ﷺ کے ایک معمولی فقیر کے برابر بھی نہیں ہیں کیونکہ آپ ﷺ وہ ہستی ہیں جن کی مرضی کو اللہ بھی نہیں ٹالتا۔ شاعر اپنے گناہوں کی سیاہی دھونے کے لیے حضور ﷺ کے ابرِ کرم کا طالب ہے، تاکہ اس کی ڈوبتی ہوئی کشتی کنارے لگ جائے اور اسے ابدی فلاح مل جائے۔

نعت کے مقطع (آخری حصے) میں شاعر "رضا" نے اپنے گناہوں کے دھبے دھونے کے لیے کس چیز کی طلب کی ہے، اور ان کی آخری التجا کیا ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: