اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے
- 1 مہینہ پہلے fiber_manual_record 117 بار دیکھا گیا
,
عنوان: گم ہو گئے بے شمار آقا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا
نعت خوان/ فنکار: اسد اقبال کلکتوی غلام مصطفی قادری اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 08 Dec, 2025 02:22 PM IST
دیکھا گیا: 123
Time to read: 2 min read
گم ہو گئے بے شمار آقا،
بندہ تیرے نثار آقا
بگڑا جاتا ہے کھیل میرا،
آقا آقا سنوار آقا
منجدھار پہ آ کے ناؤ ٹوٹی،
دے ہاتھ کی ہوں میں پار آقا
ٹوٹی جاتی ہے پیٹھ میری،
لِلّٰہ یہ بوجھ اتار آقا
ہلکا ہے اگر ہمارا پلہ،
بھاری ہے تیرا وقار آقا
مجبور ہیں ہم تو فکر کیا ہے،
تم کو تو ہے اختیار آقا
میں دور ہوں تم تو ہو میرے پاس،
سن لو میری پکار آقا
مجھ سا کوئی غمزدہ نہ ہوگا،
تم سا نہیں غمگسار آقا
گرداب میں پڑ گئی ہے کشتی،
ڈوبا ڈوبا، اتار آقا
تم وہ کہ کرم کو ناز تم سے،
میں وہ کہ بدی کو آر آقا
پھر منہ نہ پڑے کبھی خزاں کا،
دے دے ایسی بہار آقا
جس کی مرضی خدا نہ ٹالے،
میرا ہے وہ نامدار آقا
ہے ملکِ خدا پہ جس کا قبضہ،
میرا ہے وہ کامگار آقا
سویا کیے نابکار بندے،
رویا کیے زار زار آقا
کیا بھول ہیں اُن کے ہوتے کہلائیں،
دنیا کے یہ تاجدار آقا
اُن کے ادنیٰ گدا پہ مٹ جائیں،
ایسے ایسے ہزار آقا
بے ابرِ کرم کے میرے دھبّے،
لَا تَغْسِلُہَا الْبِحَار آقا
اتنی رحمت رضا پہ کر لو،
لَا يَقْرُبُهُ الْبَوَار آقا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام امام احمد رضا خان بریلوی کا تحریر کردہ ایک نہایت پُردرد استغاثہ (فریاد) ہے، جس میں ایک بے بس امتی اپنے گناہوں اور دنیاوی مصائب کے بوجھ سے نجات کے لیے حضور ﷺ کی بارگاہ میں التجا کر رہا ہے۔
شاعر کہتا ہے کہ اے آقا ﷺ! غموں نے مجھے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے اور میری زندگی کی کشتی منجدھار میں پھنس کر ٹوٹ رہی ہے۔ میں اپنی مجبوریوں کے ہاتھوں بے بس ہوں، لیکن آپ ﷺ صاحبِ اختیار ہیں، لہٰذا اپنے کرم کا ہاتھ دے کر میری بگڑی سنوار دیجیے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| نثار | قربان ہونا |
| منجدھار | دریا کے بیچ کی لہر (بھنور) |
| وقار | عزت اور مرتبہ |
| اختیار | قدرت اور بس ہونا |
| غمگسار | غم بانٹنے والا / ہمدرد |
| گرداب | پانی کا چکر یا بھنور |
| نابکار | نکما یا گنہگار |
| تاجدار | بادشاہ |
اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ دنیا کے تمام بادشاہ حضور ﷺ کے ایک معمولی فقیر کے برابر بھی نہیں ہیں کیونکہ آپ ﷺ وہ ہستی ہیں جن کی مرضی کو اللہ بھی نہیں ٹالتا۔ شاعر اپنے گناہوں کی سیاہی دھونے کے لیے حضور ﷺ کے ابرِ کرم کا طالب ہے، تاکہ اس کی ڈوبتی ہوئی کشتی کنارے لگ جائے اور اسے ابدی فلاح مل جائے۔
نعت کے مقطع (آخری حصے) میں شاعر "رضا" نے اپنے گناہوں کے دھبے دھونے کے لیے کس چیز کی طلب کی ہے، اور ان کی آخری التجا کیا ہے؟