, پھِر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

پھِر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں Lyrics In اردو

(پھِر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں, دل کو جو عقل دے خدا، تیری گلی سے جائے کیوں)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: پھِر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 04 Aug, 2023 11:11 AM IST

دیکھا گیا: 749

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

پھِر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں،
دل کو جو عقل دے خدا، تیری گلی سے جائے کیوں۔

رُخصتِ قافلہ کا شور، غش سے ہمیں اُٹھائے کیوں،
سوتے ہیں اُن کے سائے میں، کوئی ہمیں جگائے کیوں۔

پھِر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں،
دل کو جو عقل دے خدا، تیری گلی سے جائے کیوں۔

بار نہ تھے حبیب کو، فالتے ہی غریب کو،
روئے جو اب نصیب کو، چین کہوں گنوائے کیوں۔

پھِر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں۔

دیکھ کر حضرتِ غنی، پھیل پڑے غریب بھی،
چھائی ہے اب تو چھاؤنی، حشر ہی آ نہ جائے کیوں۔

پھِر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں۔

جان ہے عشقِ مصطفیٰ، روز فزوں کرے خدا،
جس کو ہو درد کا مزا، نازِ دوا اُٹھائے کیوں۔

پھِر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں۔

ہے تیری رضا نِرا ستم، جرم پہ گر لُجائے کیوں،
کوئی بجائے سوزِ غم، سازِ طرب بجائے کیوں۔

پھِر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں،
دل کو جو عقل دے خدا، تیری گلی سے جائے کیوں۔

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ لازوال نعتِ پاک (امامِ اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ کی لکھی ہوئی) مدینہ منورہ کی گلیوں اور حضورِ اکرم ﷺ کی چوکھٹ کی عظمت کو بیان کرتی ہے، جہاں پہنچنے کے بعد ایک سچے عاشق کو دنیا کے کسی اور در کی حاجت نہیں رہتی۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مطلب ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی انسان کو تھوڑی سی بھی عقل اور سمجھ عطا فرمائے، تو وہ بھلا حضور ﷺ کے مبارک کوچے کو چھوڑ کر کہیں اور کیوں جائے گا؟ شاعر کہتا ہے کہ جب ہم آپ ﷺ کی رحمت اور محبت کے سائے میں پرسکون سو رہے ہیں، تو ہمیں اس جنت جیسی جگہ سے کوئی کیوں جگائے؛ آپ ﷺ کا در چھوڑ کر ہم دنیا بھر کی ٹھوکریں کیوں کھائیں۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظ (Word)معنی (Meaning)
رُخصتِ قافلہقافلے کی روانگی یا رخصت ہونا
غشبے ہوشی / گہری نیند یا سکون
باربوجھ / گراں
حضرتِ غنیبہت زیادہ سخی اور عطا کرنے والے (حضور ﷺ)
چھاؤنیخیمہ گاہ / پناہ گاہ یا سایہ
روز فزوںدن بہ دن بڑھنے والا
نازِ دوادوا کے نخرے اٹھانا / دوا کا محتاج ہونا
سازِ طربخوشی کا گیت یا موسیقی کا ساز

خلاصہ (Summary)

اس کلام کا بنیادی مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ ہی مومن کی اصل روح اور جان ہے، اور خدا سے دعا ہے کہ یہ عشق دن بہ دن بڑھتا رہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ جسے نبی ﷺ کی محبت کے میٹھے درد کا سواد مل جائے، وہ دنیا کی عارضی خوشیوں (سازِ طرب) کا محتاج نہیں ہوتا؛ آپ ﷺ کے در پر ہر غریب اور سوالی کی جھولی بھرتی ہے، اس لیے اس پاک در کو چھوڑ کر کہیں اور بھٹکنا نادانی ہے۔

لیرکس کے پہلے شعر کے مطابق، اگر خدا دل کو عقل (سمجھ) دے تو انسان کو کس کی گلی چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: