मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 57 بار دیکھا گیا
,
عنوان: پھِر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 04 Aug, 2023 11:11 AM IST
دیکھا گیا: 749
Time to read: 1 min read
پھِر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں،
دل کو جو عقل دے خدا، تیری گلی سے جائے کیوں۔
رُخصتِ قافلہ کا شور، غش سے ہمیں اُٹھائے کیوں،
سوتے ہیں اُن کے سائے میں، کوئی ہمیں جگائے کیوں۔
پھِر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں،
دل کو جو عقل دے خدا، تیری گلی سے جائے کیوں۔
بار نہ تھے حبیب کو، فالتے ہی غریب کو،
روئے جو اب نصیب کو، چین کہوں گنوائے کیوں۔
پھِر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں۔
دیکھ کر حضرتِ غنی، پھیل پڑے غریب بھی،
چھائی ہے اب تو چھاؤنی، حشر ہی آ نہ جائے کیوں۔
پھِر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں۔
جان ہے عشقِ مصطفیٰ، روز فزوں کرے خدا،
جس کو ہو درد کا مزا، نازِ دوا اُٹھائے کیوں۔
پھِر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں۔
ہے تیری رضا نِرا ستم، جرم پہ گر لُجائے کیوں،
کوئی بجائے سوزِ غم، سازِ طرب بجائے کیوں۔
پھِر کے گلی گلی تباہ ٹھوکریں سب کی کھائے کیوں،
دل کو جو عقل دے خدا، تیری گلی سے جائے کیوں۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ لازوال نعتِ پاک (امامِ اہل سنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمتہ اللہ علیہ کی لکھی ہوئی) مدینہ منورہ کی گلیوں اور حضورِ اکرم ﷺ کی چوکھٹ کی عظمت کو بیان کرتی ہے، جہاں پہنچنے کے بعد ایک سچے عاشق کو دنیا کے کسی اور در کی حاجت نہیں رہتی۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کسی انسان کو تھوڑی سی بھی عقل اور سمجھ عطا فرمائے، تو وہ بھلا حضور ﷺ کے مبارک کوچے کو چھوڑ کر کہیں اور کیوں جائے گا؟ شاعر کہتا ہے کہ جب ہم آپ ﷺ کی رحمت اور محبت کے سائے میں پرسکون سو رہے ہیں، تو ہمیں اس جنت جیسی جگہ سے کوئی کیوں جگائے؛ آپ ﷺ کا در چھوڑ کر ہم دنیا بھر کی ٹھوکریں کیوں کھائیں۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| رُخصتِ قافلہ | قافلے کی روانگی یا رخصت ہونا |
| غش | بے ہوشی / گہری نیند یا سکون |
| بار | بوجھ / گراں |
| حضرتِ غنی | بہت زیادہ سخی اور عطا کرنے والے (حضور ﷺ) |
| چھاؤنی | خیمہ گاہ / پناہ گاہ یا سایہ |
| روز فزوں | دن بہ دن بڑھنے والا |
| نازِ دوا | دوا کے نخرے اٹھانا / دوا کا محتاج ہونا |
| سازِ طرب | خوشی کا گیت یا موسیقی کا ساز |
اس کلام کا بنیادی مقصد یہ پیغام دینا ہے کہ عشقِ مصطفیٰ ﷺ ہی مومن کی اصل روح اور جان ہے، اور خدا سے دعا ہے کہ یہ عشق دن بہ دن بڑھتا رہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ جسے نبی ﷺ کی محبت کے میٹھے درد کا سواد مل جائے، وہ دنیا کی عارضی خوشیوں (سازِ طرب) کا محتاج نہیں ہوتا؛ آپ ﷺ کے در پر ہر غریب اور سوالی کی جھولی بھرتی ہے، اس لیے اس پاک در کو چھوڑ کر کہیں اور بھٹکنا نادانی ہے۔
لیرکس کے پہلے شعر کے مطابق، اگر خدا دل کو عقل (سمجھ) دے تو انسان کو کس کی گلی چھوڑ کر نہیں جانا چاہیے؟