मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 57 بار دیکھا گیا
,
عنوان: فاصلوں کو تکلّف ہے ہم سے اگر
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: حافظ طاہر قادری لائبہ فاطمہ وجاہت واسطی
شامل کیا گیا: 09 Apr, 2023 10:18 AM IST
دیکھا گیا: 185
Time to read: 2 min read
فاصلوں کو تکلّف ہے ہم سے اگر،
ہم بھی بےبس نہیں، بےسہارا نہیں۔
خود انہی کو پکاریں گے ہم دور سے،
راستے میں اگر پاؤں تھک جائیں گے۔
ہم مدینے میں تنہا نکل جائیں گے،
اور گلیوں میں کس دن بھٹک جائیں گے۔
ہم وہاں جا کے واپس نہیں آئیں گے،
دھونڈتے دھونڈتے لوگ تھک جائیں گے۔
جیسے ہی سبز گنبد نظر آئے گا،
بندگی کا کریانہ بدل جائے گا۔
سر جھکانے کی فرصت ملے گی کسے،
خود ہی پلکوں سے سجدے ٹپک جائیں گے۔
نامِ آقا جہاں بھی لیا جائے گا،
ذکر اُن کا جہاں بھی کیا جائے گا۔
نور ہی نور سینوں میں بھر جائے گا،
ساری محفل میں جلوے لپک جائیں گے۔
اے مدینے کے ظاہر خدا کے لیے،
داستانِ سفر مجھے یوں مت سنا۔
بات بڑھ جائے گی، دل تڑپ جائے گا،
میرے محتاط آنسو چھلک جائیں گے۔
ان کی چشمِ کرم کو ہے اس کی خبر،
کس مسافر کو ہے کتنا شوقِ سفر۔
ہم کو اقبال جب بھی اجازت ملی،
ہم بھی آقا کے دربار تک جائیں گے۔
فاصلوں کو تکلّف ہے ہم سے اگر،
ہم بھی بےبس نہیں، بےسہارا نہیں۔
خود انہی کو پکاریں گے ہم دور سے،
راستے میں اگر پاؤں تھک جائیں گے۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ نعتِ شریف مدینہ منورہ کی حاضری کی تڑپ اور حضور اکرم ﷺ سے ایک عاشق کی بے پناہ محبت کا بیان ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ چاہے مدینے کی دوریاں کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہوں، ایک مومن کبھی مایوس یا بے سہارا نہیں ہوتا کیونکہ ہمارے آقا ﷺ ہر امتی کے دل کے حال اور اس کے شوقِ سفر سے واقف ہیں۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ اگر مدینے کے فاصلوں کو ہم سے کوئی ہچکچاہٹ یا حجاب ہے تو ہم بھی مجبور نہیں، ہم دور ہی سے اپنے آقا ﷺ کو پکار لیں گے۔ شاعر کہتا ہے کہ جیسے ہی مدینے کا 'سبز گنبد' نظر آئے گا، بندگی کا سلیقہ ہی بدل جائے گا—وہاں ادب کا یہ عالم ہوگا کہ سر جھکانے کی مہلت ہی نہیں ملے گی بلکہ آنکھوں سے بہنے والے آنسو ہی پلکوں سے سجدہ بن کر ٹپک پڑیں گے۔
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| تکلّف | ہچکچاہٹ / حجاب یا اوپرا پن |
| قصدًا | جان بوجھ کر / ارادتاً |
| سبز گنبد | حضور ﷺ کا روضہ مبارک |
| قرینہ | طریقہ / سلیقہ یا ڈھنگ |
| ظاہر (زائر) | زیارت کرنے والا / مدینے کا مسافر |
| محتاط | سنبھلے ہوئے / احتیاط کرنے والے |
| چشمِ کرم | مہربانی کی نظر / کرپا درشٹی |
| شوقِ سفر | سفر کی چاہت / مدینے جانے کی لگن |
اس کلام میں مدینے کی گلیوں میں کھو جانے اور وہیں کا ہو کر رہ جانے کی دلی خواہش کو ظاہر کیا گیا ہے۔ شاعر 'اقبال' کہتے ہیں کہ آقا ﷺ کا ذکر محفلوں میں نور بھر دیتا ہے اور جب کوئی زائر مدینے سے لوٹ کر وہاں کی داستان سناتا ہے تو ہجر میں دل تڑپ اٹھتا ہے۔ انہیں پورا یقین ہے کہ حضور ﷺ ان کی اس تڑپ سے واقف ہیں اور جیسے ہی وہاں سے اجازت ملے گی، وہ تمام فاصلے مٹا کر دربارِ رسالت میں حاضر ہو جائیں گے۔
شاعر کے مطابق سبز گنبد دیکھ کر کیا بدل جائے گا، اور انہوں نے 'زائر' سے مدینے کی داستان سنانے سے کیوں منع کیا؟