मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 58 بار دیکھا گیا
,
عنوان: دینے کی دیر ہے نہ دلانے کی دیر ہے
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) منقبت کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: سجّاد نظامی (مرہوم)
نعت خوان/ فنکار: سجّاد نظامی (مرہوم)
شامل کیا گیا: 17 Nov, 2022 01:19 PM IST
دیکھا گیا: 2K
Time to read: 1 min read
دینے کی دیر ہے نہ دلانے کی دیر ہے،
خواجہ پیا کو ہونٹ ہلانے کی دیر ہے۔
تھم جائے گی ابھی ابھی گردش کی آندھیاں،
خواجہ پیا کا نعرہ لگانے کی دیر ہے۔
جو چاہو اے فرشتو! وہی مجھ سے پوچھنا،
خواجہ پیا حضور کے آنے کی دیر ہے۔
دونوں جہاں کی دولتیں مل جائیں گی ابھی،
چوکھٹ پہ اُن کی جھولی بچھانے کی دیر ہے۔
شیطان کی کیا مجال ہے جو گھر میں آ سکے،
خواجہ کا نام گھر میں لکھانے کی دیر ہے۔
جلسے میں آج آئیں گے سجاد، دیکھنا،
خواجہ پیا کو دل سے بلانے کی دیر ہے۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ منقبت سلطان الہند حضرت خواجہ غریب نواز (رحمتہ اللہ علیہ) کی شان، ان کی ولایت اور ان کے دربار کی عظمت کا بیان ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ ان کے ایک اشارے سے بڑی سے بڑی مصیبت ٹل جاتی ہے۔
اس کلام کا مطلب ہے کہ خواجہ غریب نواز کے دربار سے کچھ بھی ملنا ناممکن نہیں ہے، بس ان کے دعا کے لیے ہونٹ ہلانے کی دیر ہے۔ ان کی چوکھٹ پر جھولی پھیلاتے ہی دونوں جہان کی دولت مل جاتی ہے، اور ان کے نام کی برکت سے گھر میں شیطان کے داخل ہونے کی مجال نہیں رہتی۔
| الفاظ (Word) | معانی (Meaning) |
|---|---|
| گردش | بُرا وقت یا مصیبت کے چکر (Bad times/Misfortune) |
| نعرہ | پکار یا جے گھوش (Slogan/Shout) |
| حضور | محترم یا عزت کا کلمہ (Honorable presence) |
| چوکھٹ | دہلیز یا آستانہ (Doorstep) |
| مجال | ہمت، طاقت یا حیثیت (Audacity/Daring) |
| جلسے | مذہبی محفل یا اجتماع (Gathering) |
شاعر 'سجاد' اس منقبت میں فرماتے ہیں کہ خواجہ پیا کا نام اور ان کی نسبت ہر مصیبت کا حل ہے۔ یہاں تک کہ قبر میں بھی فرشتوں کے سوالوں کے وقت خواجہ پیا کی موجودگی سب آسان کر دے گی۔ بس شرط یہ ہے کہ انہیں سچے دل سے پکارا جائے اور ان کی چوکھٹ پر عقیدت کے ساتھ جھولی بچھائی جائے۔
شاعر کے مطابق گھر میں شیطان کی مجال کب ختم ہو جاتی ہے، اور قبر میں فرشتوں کے سوالوں کے وقت شاعر کو کس کا انتظار ہے؟