, داغِ فُرقَتِ طیبہ قلب مُضمحِل جاتا - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

داغِ فُرقَتِ طیبہ قلب مُضمحِل جاتا Lyrics In اردو

(داغِ فُرقَتِ طیبہ قلب مُضمحِل جاتا, کاش گنبدِ خضریٰ دیکھنے کو مِل جاتا)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: داغِ فُرقَتِ طیبہ قلب مُضمحِل جاتا

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: اختر رضا خان ازہری

نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری

شامل کیا گیا: 05 Aug, 2023 10:41 AM IST

دیکھا گیا: 523

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

داغِ فُرقَتِ طیبہ قلب مُضمحِل جاتا،
کاش گنبدِ خضریٰ دیکھنے کو مِل جاتا۔

میرا دم نکل جاتا اُن کے آستانے پر،
اُن کے آستانے کی خاک میں مِل جاتا۔

میرے دل سے دھل جاتا داغِ فُرقَتِ طیبہ،
طیبہ میں فنا ہو کر طیبہ میں ہی مِل جاتا۔

موت لے کے آ جاتی زندگی مدینے میں،
موت سے گلے مِل کر زندگی میں مِل جاتا۔

خُلدِ زارِ طیبہ کا اِس طرح سفر ہوتا،
پیچھے پیچھے سر جاتا، آگے آگے دل جاتا۔

دل پہ جب کرن پڑتی اُن کے سبز گنبد کی،
اُس کی سبز رنگت سے باغ بن کے کھِل جاتا۔

فُرقَتِ مدینہ نے وہ دیے مجھے صدمے،
کوه پر اگر پڑتے، کوه بھی تو ہِل جاتا۔

دل پہ وہ قدم رکھتے، نقشِ پا یہ دل بنتا،
یا تو خاکِ پا بن کر پا سے متصل جاتا۔

اُن کے در پہ اختر کی حسرتیں ہوئیں پوری،
سائلِ درِ اقدس کیسے مُنفَعِل جاتا۔

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ سوز و گداز سے بھری نعتِ پاک مدینہ منورہ کی جدائی کے صدمے اور گنبدِ خضریٰ کے دیدار کی تڑپ کو بیان کرتی ہے، جس میں شاعر نے دیارِ رسول ﷺ میں موت پانے اور وہیں کی خاک میں مل جانے کی والہانہ خواہش کا اظہار کیا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مطلب ہے کہ مدینہ پاک (طیبہ) کی جدائی کے غم سے میرا دل بالکل بے جان اور افسردہ ہو چکا ہے، کاش مجھے ایک بار سبز گنبد کا دیدار نصیب ہو جائے۔ شاعر حسرت کرتا ہے کہ کاش اس کی روح حضور ﷺ کی چوکھٹ پر پرواز کر جائے اور وہ مدینے کی مقدس خاک کا حصہ بن کر اپنے دل کا داغ دھو سکے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظ (Word)معنی (Meaning)
فُرقَتِ طیبہمدینہ منورہ کی جدائی
قلب مُضمحِلکمزور، اداس یا مرجھایا ہوا دل
آستانےچوکٹھ / درِ اقدس
خُلدِ زارجنت کا باغ
کوهپہاڑ / پربت
مُتّصِلجڑا ہوا / ملا ہوا
سائلمانگنے والا / سوالی
مُنفَعِلشرمندہ / مایوس یا ناامید

خلاصہ (Summary)

اس کلام میں مدینہ کی جدائی کے دکھوں کو اس قدر بھاری بتایا گیا ہے کہ اگر یہ صدمے کسی پہاڑ پر پڑتے تو وہ بھی اپنی جگہ سے ہل جاتا۔ شاعر 'اختر' (تاج الشریعہ حضرت اختر رضا خان) کہتے ہیں کہ سبز گنبد کی ایک ہی کرن مرجھائے ہوئے دل کو باغ کی طرح کھلا دیتی ہے اور حضور ﷺ کے درِ اقدس پر پہنچ کر ان کی تمام حسرتیں پوری ہو گئیں، کیونکہ اس پاک چوکھٹ سے کوئی بھی سوالی کبھی مایوس نہیں لوٹتا۔

شاعر کے مطابق مدینہ (طیبہ) کی جدائی کا غم اتنا زیادہ ہے کہ اگر وہ پہاڑ (کوہ) پر پڑتا تو کیا ہوتا؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: