मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 58 بار دیکھا گیا
,
عنوان: چاند اجمیر میں کتنا روشن ہوا
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) منقبت کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: علامہ نثار علی اجاگر
نعت خوان/ فنکار: عبداللہ خلیل قادری اسد رضا عطاری فرحان علی قادری فرقان قادری
شامل کیا گیا: 03 Jan, 2024 09:24 AM IST
دیکھا گیا: 257
Time to read: 1 min read
خواجہ! خواجہ! خواجہ! خواجہ!
کشتِ دیدہ و جاں لہلہانے لگی
میرے دل کی زمین مسکرانے لگی
عشقِ خواجہ کے پودھے شجر بن گیا
دھرتی اجمیر کی جگمگانے لگی
خواجہ پیا! خواجہ پیا!
خواجہ پیا! خواجہ!
چاند اجمیر میں کتنا روشن ہوا
خواجۂ خواجگاں کی چھٹی آگئی
کفر و ظلمت کا بادل خود ہی چھٹ گیا
خواجۂ خواجگاں کی چھٹی آگئی
خواجۂ خواجگاں کی چھٹی آگئی
خواجۂ خواجگاں کی چھٹی آگئی
چشتیوں کے گھروں میں خوشی آگئی
ایسا لگنے لگا زندگی آگئی
چہرہ چہرہ کھِلا، دل بھی کہنے لگا
خواجۂ خواجگاں کی چھٹی آگئی
خواجۂ خواجگاں کی چھٹی آگئی
خواجۂ خواجگاں کی چھٹی آگئی
آئے دربار میں لے کے کشکول ہم
کر دو، کر دو کرم، رکھ لو سب کا بھرم
ترے دَر سے نہ مایوس کوئی گیا
خواجۂ خواجگاں کی چھٹی آگئی
خواجۂ خواجگاں کی چھٹی آگئی
خواجۂ خواجگاں کی چھٹی آگئی
ہر جگہ تیری عزت کا شہرہ ہوا
لاڈلا تو نبی کا، حسن سنجری!
ابنِ زہرا ہے تو، حسنی شجرہ تیرا
خواجۂ خواجگاں کی چھٹی آگئی
خواجۂ خواجگاں کی چھٹی آگئی
خواجۂ خواجگاں کی چھٹی آگئی
آج اجمیر کیا! ساری دنیا میں ہی
خواجۂ چشت کی محفلیں سج گئیں
ہے اُجاگر سماں، خوب لنگر ہوا
خواجۂ خواجگاں کی چھٹی آگئی
خواجۂ خواجگاں کی چھٹی آگئی
خواجۂ خواجگاں کی چھٹی آگئی
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ منقبت حضرت خواجہ غریب نواز (رح) کی بارگاہ میں نذرانہِ عقیدت ہے، جس میں آپ کے عرس (چھٹی شریف) کی خوشی اور اجمیر کی روحانی رونقوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
ان اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ خواجہ غریب نواز کے عشق کی بدولت مریدوں کے مرجھائے ہوئے دل تروتازہ ہو گئے ہیں اور اجمیر کا ذرہ ذرہ نور سے جگمگا رہا ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ آپ کی "چھٹی" کی آمد سے کفر و جہالت کے اندھیرے چھٹ گئے ہیں اور ہر طرف مسرت و شادمانی کی لہر دوڑ گئی ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| کشتِ دیدہ و جاں | آنکھوں اور جان کی کھیتی (Field of soul) |
| شجر | درخت یا پیڑ (Tree) |
| ظلمت | اندھیرا یا تاریکی (Darkness) |
| کشکول | فقیر کا پیالہ یا جھولی (Beggar's bowl) |
| شہرہ | چرچا یا شہرت (Fame) |
| شجرہ | خاندانی سلسلہ یا نسب (Lineage) |
| اجاگر | روشن یا واضح (Radiant) |
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ سلطانِ ہند خواجہ معین الدین چشتی (رح) کا دربار وہ مقام ہے جہاں کوئی سائل مایوس نہیں لوٹتا۔ آپ "ابنِ زہرا" اور نبی ﷺ کے لاڈلے ہیں، جن کے صدقے اجمیر سے لے کر پوری دنیا میں چشتیوں کی محفلیں آباد ہیں اور لنگر و کرم کی برسات ہو رہی ہے۔
خواجہِ خواجگاں کی "چھٹی" آنے پر اجمیر اور چشتیوں کے گھروں کا ماحول کیسا ہو جاتا ہے؟