मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 59 بار دیکھا گیا
,
عنوان: چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا
نعت خوان/ فنکار: حافظ طاہر قادری اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 08 Apr, 2023 09:27 AM IST
دیکھا گیا: 532
Time to read: 1 min read
چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
میرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے
برستا نہیں دیکھ کر ابرِ رحمت
بدوں پر بھی برسا دے برسانے والے
میں مجرم ہوں آقا، مجھے ساتھ لے لو
کہ رستے میں ہیں جا بجا تھانے والے
حرم کی زمیں اور قدم رکھ کے چلنا
ارے سر کا موقع ہے، او جانے والے
مدینے کے خطے، خدا تجھ کو رکھے
غریبوں، فقیروں کے ٹھہرانے والے
تو زندہ ہے واللہ، تو زندہ ہے واللہ
میری چشمِ عالم سے چھپ جانے والے
تیرا کھائے، تیرے غلاموں سے الجھے
ہیں منکر عجب خانے غرّانے والے
چل اُٹھ، ذُبَح فرسا ہو ساقی کے در پر
درِ جود ہے میرے مستانے والے
رہے گا یوں ہی اُن کا چرچا رہے گا
پڑے خاک ہو جائے جل جانے والے
اب آئی شفاعت کی ساعت، اب آئی
ذرا چین لے میرے گھبرانے والے
رضا! نفس دشمن ہے، دم میں نہ آنا
کہا تم نے دیکھے ہیں چند رانے والے
چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
میرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ لافانی اور مایہ ناز نعتِ شریف امامِ اہلسنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمتہ اللہ علیہ کی تصنیف ہے، جس میں حضورِ اکرم ﷺ کی نورانیت، حیاتِ مبارکہ، شانِ شفاعت اور بارگاہِ رسالت کی بے مثل عظمت کو والہانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ کائنات میں ایمان اور معرفت کی چمک جس کو بھی ملی ہے، وہ سب حضور ﷺ ہی کے نور کا صدقہ ہے۔ شاعر فریاد کرتا ہے کہ یا رسول اللہ ﷺ! میں گنہگار ضرور ہوں لیکن آپ کی رحمت کا بادل (ابرِ رحمت) اچھے اور برے کا فرق کیے بغیر سب پر برستا ہے، اس لیے میرے تاریک دل کو بھی اپنے نور سے منور فرما دیں اور مجھے اپنا ساتھ عطا کریں کیونکہ آخرت کے راستے میں اعمال کی بازپرس کے جا بجا تھانے (مراحل) موجود ہیں۔
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| بدوں | بروں / گنہگاروں یا خطاکاروں |
| ابرِ رحمت | رحمت کا بادل |
| جا بجا | جگہ جگہ / ہر موڑ پر |
| خطے | علاقہ / مدینہ منورہ کی پاک سرزمیں |
| چشمِ عالم | دنیا کی آنکھ / ظاہری نگاہ |
| منکر | انکار کرنے والا / مخالف |
| درِ جود | سخاوت اور عطا کا دروازہ |
| ساعت | گھڑی / لمحہ یا وقت |
| شفاعت | مغفرت کے لیے سفارش کرنا |
| نفس | انسان کی اندرونی برائی / خواہشاتِ بد |
اس عظیم کلام کا لبِ لباب یہ ہے کہ حضورِ اکرم ﷺ اپنی قبرِ انور میں حقیقی طور پر زندہ ہیں، بشرطیکہ وہ دنیا کی ظاہری آنکھوں سے اوجھل ہیں۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ حسد کرنے والے چاہے جل کر خاک ہو جائیں، نبی کریم ﷺ کا چرچا اور ذکرِ خیر دنیا و آخرت میں ہمیشہ بلند رہے گا۔ محشر کے روز جب گنہگار اپنی بے بسی پر گھبرا رہے ہوں گے، تب حضور ﷺ کی شفاعت کا وقت آئے گا جو امتِ محمدی ﷺ کا بیڑا پار لگائے گا۔
شاعر نے 'جا بجا تھانے والے' کے لفظ سے کس طرف اشارہ کیا ہے، اور انہوں نے نبی ﷺ کے زندہ ہونے پر کیا گواہی دی ہے؟