, چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے Lyrics In اردو

(چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے, میرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 08 Apr, 2023 09:27 AM IST

دیکھا گیا: 532

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
میرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے

برستا نہیں دیکھ کر ابرِ رحمت
بدوں پر بھی برسا دے برسانے والے

میں مجرم ہوں آقا، مجھے ساتھ لے لو
کہ رستے میں ہیں جا بجا تھانے والے

حرم کی زمیں اور قدم رکھ کے چلنا
ارے سر کا موقع ہے، او جانے والے

مدینے کے خطے، خدا تجھ کو رکھے
غریبوں، فقیروں کے ٹھہرانے والے

تو زندہ ہے واللہ، تو زندہ ہے واللہ
میری چشمِ عالم سے چھپ جانے والے

تیرا کھائے، تیرے غلاموں سے الجھے
ہیں منکر عجب خانے غرّانے والے

چل اُٹھ، ذُبَح فرسا ہو ساقی کے در پر
درِ جود ہے میرے مستانے والے

رہے گا یوں ہی اُن کا چرچا رہے گا
پڑے خاک ہو جائے جل جانے والے

اب آئی شفاعت کی ساعت، اب آئی
ذرا چین لے میرے گھبرانے والے

رضا! نفس دشمن ہے، دم میں نہ آنا
کہا تم نے دیکھے ہیں چند رانے والے

چمک تجھ سے پاتے ہیں سب پانے والے
میرا دل بھی چمکا دے چمکانے والے

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ لافانی اور مایہ ناز نعتِ شریف امامِ اہلسنت اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمتہ اللہ علیہ کی تصنیف ہے، جس میں حضورِ اکرم ﷺ کی نورانیت، حیاتِ مبارکہ، شانِ شفاعت اور بارگاہِ رسالت کی بے مثل عظمت کو والہانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مطلب ہے کہ کائنات میں ایمان اور معرفت کی چمک جس کو بھی ملی ہے، وہ سب حضور ﷺ ہی کے نور کا صدقہ ہے۔ شاعر فریاد کرتا ہے کہ یا رسول اللہ ﷺ! میں گنہگار ضرور ہوں لیکن آپ کی رحمت کا بادل (ابرِ رحمت) اچھے اور برے کا فرق کیے بغیر سب پر برستا ہے، اس لیے میرے تاریک دل کو بھی اپنے نور سے منور فرما دیں اور مجھے اپنا ساتھ عطا کریں کیونکہ آخرت کے راستے میں اعمال کی بازپرس کے جا بجا تھانے (مراحل) موجود ہیں۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

الفاظمعنی (Meanings)
بدوںبروں / گنہگاروں یا خطاکاروں
ابرِ رحمترحمت کا بادل
جا بجاجگہ جگہ / ہر موڑ پر
خطےعلاقہ / مدینہ منورہ کی پاک سرزمیں
چشمِ عالمدنیا کی آنکھ / ظاہری نگاہ
منکرانکار کرنے والا / مخالف
درِ جودسخاوت اور عطا کا دروازہ
ساعتگھڑی / لمحہ یا وقت
شفاعتمغفرت کے لیے سفارش کرنا
نفسانسان کی اندرونی برائی / خواہشاتِ بد

خلاصہ (Summary)

اس عظیم کلام کا لبِ لباب یہ ہے کہ حضورِ اکرم ﷺ اپنی قبرِ انور میں حقیقی طور پر زندہ ہیں، بشرطیکہ وہ دنیا کی ظاہری آنکھوں سے اوجھل ہیں۔ اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں کہ حسد کرنے والے چاہے جل کر خاک ہو جائیں، نبی کریم ﷺ کا چرچا اور ذکرِ خیر دنیا و آخرت میں ہمیشہ بلند رہے گا۔ محشر کے روز جب گنہگار اپنی بے بسی پر گھبرا رہے ہوں گے، تب حضور ﷺ کی شفاعت کا وقت آئے گا جو امتِ محمدی ﷺ کا بیڑا پار لگائے گا۔

شاعر نے 'جا بجا تھانے والے' کے لفظ سے کس طرف اشارہ کیا ہے، اور انہوں نے نبی ﷺ کے زندہ ہونے پر کیا گواہی دی ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: