मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 47 بار دیکھا گیا
,
عنوان: چاہتے آپ تو خود دوڑ کے آتا پانی
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) منقبت کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: زین العابدین کانپوری
نعت خوان/ فنکار: زین العابدین کانپوری
شامل کیا گیا: 15 Jul, 2024 10:11 AM IST
دیکھا گیا: 796
Time to read: 2 min read
چاہتے آپ تو خود دوڑ کے آتا پانی،
یا حسین! آپ کی ٹھوکر سے نکلتا پانی
کیا تھی اوقات، پلا دیتا جو دریا پانی،
میرے عباس نے دریاں کو پلایا پانی
صبر تو دیکھیے سرکار کے گھر والوں کا،
ایک بچے نے بھی دشمن سے نہ مانگا پانی
مان لیتا جو یزید ابنِ علی کی عظمت،
پھر تو خود بھرتا وہ شبیر کے گھر کا پانی
ایڑیاں اپنی زمین پر جو رگڑتے اصغر،
کربلا تیرے سنبھالے نہ سنبھلتا پانی
چاہتے آپ تو خود دوڑ کے آتا پانی،
یا حسین! آپ کی ٹھوکر سے نکلتا پانی
آسماں گر تجھے شبیر اشارہ کرتا،
دل یہ کہتا ہے کہ دن رات برستا پانی
یا علی شیرِ خدا! آپ کے بیٹے شبیر،
حکم دے دیتے تو سورج بھی اُگلتا پانی
یا حسین! آپ کی ٹھوکر سے نکلتا پانی،
یا حسین! آپ کی ٹھوکر سے نکلتا پانی
اتنے تَر دَست تھے عباس کے دونوں بازو،
پڑ گیا جس پہ بھی اُس نے نہ مانگا پانی
تجھ پہ سو جان ہے قربان میری اے اصغر،
تیری ہمت نے یزیدیوں کو پلایا پانی
کون کہتا ہے کہ پانی کے تھے پیاسے شبیر؟
سچ تو یہ ہے کہ تھا شبیر کا پیاسا پانی
چاہتے آپ تو خود دوڑ کے آتا پانی،
یا حسین! آپ کی ٹھوکر سے نکلتا پانی
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ منقبت معرکہ کربلا میں امام حسین (ر.ض) اور ان کے اہل خانہ کے بے مثال صبر اور ان کی روحانی طاقت کا تذکرہ کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ ان کی پیاس کوئی کمزوری نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے ایک عظیم امتحان تھا۔
شاعر کہتا ہے کہ اگر امام حسینؓ چاہتے تو اپنی ایک ٹھوکر سے زمین سے چشمے جاری کر دیتے یا آسمان کو برسنے کا حکم دے دیتے، مگر انہوں نے صبر کو ترجیح دی۔ کربلا میں پانی کی کمی نہیں تھی، بلکہ حقیقت میں پانی خود تڑپ رہا تھا کہ ان پاک ہستیوں کے لبوں کو چھو کر سیراب ہو سکے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| اوقات | حیثیت یا مقدور |
| عظمت | بڑائی یا شان |
| تر دست | مشاق، ماہر یا طاقتور ہاتھ والا |
| شبیر | حضرت امام حسینؓ کا لقب |
| اصغر | امام حسینؓ کے سب سے چھوٹے صاحبزادے |
| شیرِ خدا | اللہ کا شیر (حضرت علیؓ کا لقب) |
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ کربلا کی پیاس ایک الٰہی مقصد اور حق کی بقا کے لیے تھی۔ امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں نے دشمن کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے پیاس کی حالت میں شہادت کو گلے لگایا تاکہ رہتی دنیا تک حق زندہ رہے۔ یہ کلام ثابت کرتا ہے کہ حق والے پانی کے پیاسے نہیں تھے بلکہ پانی ان کے در کا پیاسا تھا۔
منقبت کے آخر میں شاعر نے حضرت امام حسینؓ کی پیاس کے بارے میں کیا حقیقت بیان کی ہے؟