, چاہتے آپ تو خود دوڑ کے آتا پانی - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

چاہتے آپ تو خود دوڑ کے آتا پانی Lyrics In اردو

(چاہتے آپ تو خود دوڑ کے آتا پانی, یا حسین آپ کی ٹھوکر سے نکلتا پانی)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: چاہتے آپ تو خود دوڑ کے آتا پانی

زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) منقبت کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 15 Jul, 2024 10:11 AM IST

دیکھا گیا: 796

Time to read: 2 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

چاہتے آپ تو خود دوڑ کے آتا پانی،
یا حسین! آپ کی ٹھوکر سے نکلتا پانی

کیا تھی اوقات، پلا دیتا جو دریا پانی،
میرے عباس نے دریاں کو پلایا پانی

صبر تو دیکھیے سرکار کے گھر والوں کا،
ایک بچے نے بھی دشمن سے نہ مانگا پانی

مان لیتا جو یزید ابنِ علی کی عظمت،
پھر تو خود بھرتا وہ شبیر کے گھر کا پانی

ایڑیاں اپنی زمین پر جو رگڑتے اصغر،
کربلا تیرے سنبھالے نہ سنبھلتا پانی

چاہتے آپ تو خود دوڑ کے آتا پانی،
یا حسین! آپ کی ٹھوکر سے نکلتا پانی

آسماں گر تجھے شبیر اشارہ کرتا،
دل یہ کہتا ہے کہ دن رات برستا پانی

یا علی شیرِ خدا! آپ کے بیٹے شبیر،
حکم دے دیتے تو سورج بھی اُگلتا پانی

یا حسین! آپ کی ٹھوکر سے نکلتا پانی،
یا حسین! آپ کی ٹھوکر سے نکلتا پانی

اتنے تَر دَست تھے عباس کے دونوں بازو،
پڑ گیا جس پہ بھی اُس نے نہ مانگا پانی

تجھ پہ سو جان ہے قربان میری اے اصغر،
تیری ہمت نے یزیدیوں کو پلایا پانی

کون کہتا ہے کہ پانی کے تھے پیاسے شبیر؟
سچ تو یہ ہے کہ تھا شبیر کا پیاسا پانی

چاہتے آپ تو خود دوڑ کے آتا پانی،
یا حسین! آپ کی ٹھوکر سے نکلتا پانی

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ منقبت معرکہ کربلا میں امام حسین (ر.ض) اور ان کے اہل خانہ کے بے مثال صبر اور ان کی روحانی طاقت کا تذکرہ کرتی ہے۔ اس میں واضح کیا گیا ہے کہ ان کی پیاس کوئی کمزوری نہیں بلکہ اللہ کی رضا کے لیے ایک عظیم امتحان تھا۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

شاعر کہتا ہے کہ اگر امام حسینؓ چاہتے تو اپنی ایک ٹھوکر سے زمین سے چشمے جاری کر دیتے یا آسمان کو برسنے کا حکم دے دیتے، مگر انہوں نے صبر کو ترجیح دی۔ کربلا میں پانی کی کمی نہیں تھی، بلکہ حقیقت میں پانی خود تڑپ رہا تھا کہ ان پاک ہستیوں کے لبوں کو چھو کر سیراب ہو سکے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی
اوقاتحیثیت یا مقدور
عظمتبڑائی یا شان
تر دستمشاق، ماہر یا طاقتور ہاتھ والا
شبیرحضرت امام حسینؓ کا لقب
اصغرامام حسینؓ کے سب سے چھوٹے صاحبزادے
شیرِ خدااللہ کا شیر (حضرت علیؓ کا لقب)

خلاصہ (Summary)

اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ کربلا کی پیاس ایک الٰہی مقصد اور حق کی بقا کے لیے تھی۔ امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں نے دشمن کے سامنے ہاتھ پھیلانے کے بجائے پیاس کی حالت میں شہادت کو گلے لگایا تاکہ رہتی دنیا تک حق زندہ رہے۔ یہ کلام ثابت کرتا ہے کہ حق والے پانی کے پیاسے نہیں تھے بلکہ پانی ان کے در کا پیاسا تھا۔

منقبت کے آخر میں شاعر نے حضرت امام حسینؓ کی پیاس کے بارے میں کیا حقیقت بیان کی ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں:

نمایاں آرٹسٹ/گیت نگار

سبھی دیکھیں

Manqabat Lyrics

سبھی دیکھیں