मेरे सरकार आए
- 9 مہینے پہلے fiber_manual_record 720 بار دیکھا گیا
,
عنوان: بھر دو جھولی میری یا محمد
زمرہ: قوّالی کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: صابری برادران
شامل کیا گیا: 09 Apr, 2023 09:06 AM IST
دیکھا گیا: 835
Time to read: 4 min read
شاہِ مدینہ سنو التِجا خدا کے لیے
کرم ہو مجھ پہ حبیبِ خدا، خدا کے لیے
حس ور غنچہِ امید اب تو کھل جائے
تمہارے در کا گدا ہوں تو بھیک مل جائے
بھر دو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی
تمہارے آستانے سے زمانہ کیا نہیں پاتا
کوئی بھی در سے خالی مانگنے والا نہیں جاتا
بھر دو جھولی میری، سرکارِ مدینہ
بھر دو جھولی میری، تاجدارِ مدینہ
بھر دو جھولی ...
تم زمانے کے مختار ہو یا نبی
بے کسوں کے مددگار ہو یا نبی
سب کی سنتے ہو، اپنے ہوں یا غیّر ہوں
تم غریبوں کے غم خوار ہو یا نبی
بھر دو جھولی میری، سرکارِ مدینہ
بھر دو جھولی میری، تاجدارِ مدینہ
بھر دو جھولی ...
ہم ہیں رنج و مصیبت کے مارے ہوئے
سخت مشکل میں ہیں غم سے ہارے ہوئے
یا نبی کچھ خدا را ہمیں بھیک دو
در پہ آئے ہیں جھولی پھیلائے ہوئے
بھر دو جھولی میری، سرکارِ مدینہ
بھر دو جھولی میری، تاجدارِ مدینہ
بھر دو جھولی ...
ہے مخالف زمانہ، کِدھر جائیں ہم
حالتِ بَکَسی کس کو دکھلائیں ہم
ہم تمہارے بھکاری ہیں یا مصطفٰا
کس کے آگے بھلا ہاتھ پھیلائیں ہم
بھر دو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی
کچھ نواسوں کا صدقہ عطا ہو
در پہ آیا ہوں بن کر سوالی
حق سے پائی وہ شانِ کریمی
مرحباً دونوں عالم کے ولی
اس کی قسمت کا چمکا ستارہ
جس پہ نظرِ کرم تم نے ڈالی
زندگی بخشی بندگی کو
عزتِ دینِ حق کی بچالی
وہ محمد کا پیارا نواسہ
جس نے سجدے میں گردن کاٹ لی
جو ابنِ مرتضٰی نے کیا کام خوب ہے
قربانیِ حسین کا انجام خوب ہے
قربان ہو کے فاطمہ زہرًا کے چین نے
دینِ خدا کی شان بڑھائی حسین نے
بخشی ہے جس نے مذہبِ اسلام کو حیات
جتنی عظیم حضرتِ شبّیر کی ذات
میدانِ کربلا میں شاہِ خوشخیصال نے
سجدے میں سر کاٹا کے محمد کے لال نے
حشر میں اُن کو دیکھیں گے جس دم
اُمّتی یہ کہیں گے خوشی سے
آ رہے ہیں وہ دیکھو محمد
جن کے کندھے پہ کمّلی ہے کالی
محشر کے روز پیشِ خدا ہوں گے جس گھڑی
ہوگی گنہگاروں میں کس درجے بے حالی
آتے ہوئے نبی کو جو دیکھیں گے اُمّتی
ایک دوسرے سے سب یہ کہیں گے خوشی خوشی
آ رہے ہیں وہ دیکھو محمد
جن کے کندھے پہ کمّلی ہے کالی
سرِ محشر گنہگاروں سے پرسش جس گھڑی ہوگی
یقیناً ہر بشر کو اپنی بخشش کی پڑی ہوگی
سبھی کو آس اُس دن کمّلی والے سے لگی ہوگی
کہ ایسے میں محمد کی سواری آ رہی ہوگی
پُکارے گا زمانہ اُس گھڑی دُکھ درد کے مārوں
نہ گھبراؤ گنہگاروں، نہ گھبراؤ گنہگاروں
آ رہے ہیں وہ دیکھو محمد
جن کے کندھے پہ کمّلی ہے کالی
عاشقِ مصطفٰا کی اذان میں اللہ اللہ کتنا اثر تھا
سچا یہ واقعہ ہے اذانِ بلال کا
ایک دن رسولِ پاک سے لوگوں نے یوں کہا
یا مصطفٰا، اذان غلط دیتے ہیں بلال
کہیے حضور، آپ کا اِس میں ہے کیا خیال
فرمایا مصطفٰا نے یہ سچ ہے تو دیکھئے
وقتِ سحر کی آج اذان اور کوئی دے
حضرت بلال نے جو اذانِ سحر نہ دی
قدرت خدا کی دیکھو نہ مطلق سحر ہوئی
آئے نبی کے پاس کچھ اصحابِ بَسفَا
کہ عرض مصطفٰا سے، اے شاہِ انبیاء
ہے کیا سبب سحر نہ ہوئی آج مصطفٰا
جِبرائیل لائے ایسے میں پیغامِ کِبریا
پہلے تو مصطفٰا کو ادب سے کیا سلام
بعدِ سلام اُن کو خدا کا دیا پیغام
یوں جِبرائیل نے کہا خیرُالانعام سے
اللہ کو ہے پیار تمہارے غلام سے
فرما رہا ہے آپ سے یہ ربِّ ذوالجلال
ہوگی نہ صبح، دیں گے نہ جب تک اذان بلال
عاشقِ مصطفٰا کی اذان میں اللہ اللہ کتنا اثر تھا
عرش والے بھی سنتے تھے جس کو
کیا اذان تھی اذانِ بلالی
کاش پورنم سے آئے نبی میں
جیتے جی ہو بلوا کسی دن
حالِ غم مصطفٰا کو سناؤں
تھان پکڑ کر اُن کے روزے کی جالی
بھر دو جھولی میری یا محمد
لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ مشہورِ زمانہ قوالی بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں ایک عاجزانہ التجا اور فریاد ہے، جس میں ایک سائل اپنی تمام دنیاوی مصیبتوں سے تنگ آ کر حضور ﷺ کے آستانۂ عالیہ سے اپنی خالی جھولی بھرنے کی استدعا کرتا ہے۔ کلام میں نواسۂ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام کی لازوال قربانی اور عاشقِ رسول حضرت بلال حبشی رضی اللہ عنہ کی اذان کا دلفریب تذکرہ کر کے شانِ مصطفیٰ ﷺ کو اجاگر کیا گیا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ حضور اکرم ﷺ اس کائنات کے مختارِ کل اور بے کسوں کے سچے مددگار ہیں، جن کے درِ اقدس سے کبھی کوئی مانگنے والا خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔ شاعر اپنے دکھوں کا مداوا پانے کے لیے حضور ﷺ کے پیارے نواسوں کا واسطہ دیتا ہے اور کہتا ہے کہ میدانِ کربلا میں حضرت امام حسینؑ نے سجدے میں سر کٹا کر دینِ حق کی آبرو بچائی، لہٰذا انھی کے صدقے میری امید کا غنچہ بھی کھل جائے۔
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| التجا | درخواست / فریاد یا التماس |
| غنچۂ امید | امید کی کلی |
| گدا / سوالی | فقیر / در کا منگتا یا بھکاری |
| مختار | بااختیار / تصرف رکھنے والا |
| غم خوار | دکھ درد بانٹنے والا / ہمدرد |
| ابنِ مرتضیٰ | حضرت علیؓ کے بیٹے (مراد حضرت امام حسینؑ) |
| خیرُ الانعام | تمام مخلوقات میں سب سے بہترین (مراد حضور ﷺ) |
| پرسش | پوچھ گچھ / جواب دہی یا حساب کتاب |
| بشر | انسان / آدمی |
اس صوفیانہ کلام میں ایک امتی کے پختہ یقین اور عشقِ رسول ﷺ کا والہانہ اظہار ہے۔ شاعر 'پورنم' کہتے ہیں کہ جب دنیا کی بے کسی اور غم انسان کو ہر طرف سے گھیر لیتے ہیں، تو مدینے کے تاجدار کی رحمت ہی واحد سہارا بنتی ہے۔ محشر کے ہولناک دن جب ہر بشر کو اپنی بخشش کی فکر ہوگی، تب کالی کملی والے آقا ﷺ ہی گنہگاروں کی شفاعت فرمائیں گے۔ آپ ﷺ کے دربار کی عظمت کا یہ مقام ہے کہ خدا کو اپنے محبوب کے غلام حضرت بلالؓ کی اذان اس قدر پسند تھی کہ ان کے بغیر کائنات کی صبح تک روک دی گئی۔
واقعۂ اذانِ بلالی کے مطابق، جب حضرت بلال (رض) نے صبح کی اذان نہیں دی، تو کائنات میں کیا تبدیلی آئی اور جبرائیل (ع) کیا پیغام لائے؟