मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 58 بار دیکھا گیا
,
عنوان: بےخود کیے دیتے ہیں اندازِ حجابانہ
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: بیدم شاہ وارثی۔
نعت خوان/ فنکار: اسد رضا عطاری دلکش رضا سیوانی اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 19 May, 2023 07:14 AM IST
دیکھا گیا: 341
Time to read: 1 min read
بےخود کیے دیتے ہیں اندازِ حجابانہ،
آ دل میں تجھے رکھ لوں اے جلوۂ جانانہ
اتنا تو کرم کرنا اے چشمِ کریمانہ،
جب جان لبوں پر ہو، تم سامنے آ جانا
جی چاہتا ہے تحفے میں بھیجوں میں انہیں آنکھیں،
درشن کا تو درشن ہو، نذرانے کا نذرانہ
میں ہوش و حواس اپنے اس بات پہ کھو بیٹھا،
ہنس کر جو کہا تم نے "آیا میرا دیوانہ"
دنیا میں ہمیں تم نے جب اپنا بنایا ہے،
محشر میں بھی کہہ دینا "یہ ہے میرا دیوانہ"
کیا لطف ہو محشر میں، قدموں میں گروں ان کے،
سرکار کہیں "دیکھو، دیوانہ ہے دیوانہ"
کیوں آنکھ ملائی تھی، کیوں آگ لگائی تھی،
اب رُخ کو چھپا بیٹھے، کر کے مجھے دیوانہ
پینے کو تو پی لوں گا، بس عرض ذرا سی ہے،
اجمیر کا ساقی ہو، بغداد کا مےخانہ
بے دَم! مری قسمت میں سجدے ہیں اُسی در کے،
چھوٹا ہے نہ چھوٹے گا سنگِ دَرِ جانانہ
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلامِ تصوف کا ایک نہایت ہی مشہور و معروف اور سحر انگیز شاہکار ہے، جسے حضرت بیدم شاہ وارسیؒ نے عشقِ رسول ﷺ اور محبتِ الٰہی کی چاشنی میں ڈوب کر تحریر کیا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ محبوب (حضور ﷺ) کا پردے اور حیا کا انداز عاشق کو اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ (بے خود) کر دیتا ہے۔ شاعر ان کی بارگاہ میں التجا کرتا ہے کہ اے رحم و کرم کی نظر رکھنے والے آقا مجھ پر اتنا کرم ضرور کرنا کہ جب میرا آخری وقت ہو اور جان لبوں پر ہو، تو آپ اپنا جلوہ دکھانے میرے سامنے تشریف لے آئیں۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| بے خود | مدہوش / اپنی ذات سے غافل اور مست |
| جلوۂ جانانہ | محبوب کا خوبصورت اور نورانی دیدار |
| چشمِ کریمانہ | کرم اور بخشش کرنے والی مہربان آنکھیں |
| محشر | قیامت کا دن جہاں حساب کتاب ہوگا |
| ساقی / مےخانہ | شراب پلانے والا / شراب خانہ (مراد: مرشدِ کامل اور روحانی مرکز) |
| سنگِ دَرِ جانانہ | محبوب کی چوکھٹ کا پتھر |
اس صوفیانہ کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ ایک سچے عاشقِ رسول ﷺ کے لیے اپنے محبوب کا دیدار ہی کائنات کی سب سے بڑی دولت ہے، اسی لیے وہ اپنی آنکھیں ہی بطور تحفہ پیش کرنا چاہتا ہے تاکہ تحفے کا تحفہ ہو جائے اور دیدار کا دیدار۔ شاعر دنیا اور آخرت (محشر) دونوں جگہ اپنے آقا ﷺ کے قدموں سے وابستہ رہنے اور ان کا 'دیوانہ' کہلانے کی تمنا رکھتا ہے۔ کلام کے آخر میں وہ بیان کرتا ہے کہ اس کی روحانی پیاس تبھی بجھے گی جب اجمیر (خواجہ غریب نواز) کا ساقی ہو اور بغداد (غوثِ اعظم) کا مےخانہ ہو، اور وہ مرتے دم تک اس پاک چوکھٹ کو چھوڑنے کو تیار نہیں۔
لیرکس کے مطابق، شاعر اپنے محبوب کو تحفے میں کیا بھیجنا چاہتا ہے؟