, بےخود کیے دیتے ہیں اندازِ حجابانہ - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

بےخود کیے دیتے ہیں اندازِ حجابانہ Lyrics In اردو

(بےخود کیے دیتے ہیں اندازِ حجابانہ, آ دل میں تجھے رکھ لوں اے جلوۂ جانانہ)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: بےخود کیے دیتے ہیں اندازِ حجابانہ

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 19 May, 2023 07:14 AM IST

دیکھا گیا: 341

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

بےخود کیے دیتے ہیں اندازِ حجابانہ،
آ دل میں تجھے رکھ لوں اے جلوۂ جانانہ

اتنا تو کرم کرنا اے چشمِ کریمانہ،
جب جان لبوں پر ہو، تم سامنے آ جانا

جی چاہتا ہے تحفے میں بھیجوں میں انہیں آنکھیں،
درشن کا تو درشن ہو، نذرانے کا نذرانہ

میں ہوش و حواس اپنے اس بات پہ کھو بیٹھا،
ہنس کر جو کہا تم نے "آیا میرا دیوانہ"

دنیا میں ہمیں تم نے جب اپنا بنایا ہے،
محشر میں بھی کہہ دینا "یہ ہے میرا دیوانہ"

کیا لطف ہو محشر میں، قدموں میں گروں ان کے،
سرکار کہیں "دیکھو، دیوانہ ہے دیوانہ"

کیوں آنکھ ملائی تھی، کیوں آگ لگائی تھی،
اب رُخ کو چھپا بیٹھے، کر کے مجھے دیوانہ

پینے کو تو پی لوں گا، بس عرض ذرا سی ہے،
اجمیر کا ساقی ہو، بغداد کا مےخانہ

بے دَم! مری قسمت میں سجدے ہیں اُسی در کے،
چھوٹا ہے نہ چھوٹے گا سنگِ دَرِ جانانہ

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ کلامِ تصوف کا ایک نہایت ہی مشہور و معروف اور سحر انگیز شاہکار ہے، جسے حضرت بیدم شاہ وارسیؒ نے عشقِ رسول ﷺ اور محبتِ الٰہی کی چاشنی میں ڈوب کر تحریر کیا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مطلب ہے کہ محبوب (حضور ﷺ) کا پردے اور حیا کا انداز عاشق کو اپنے ہوش و حواس سے بیگانہ (بے خود) کر دیتا ہے۔ شاعر ان کی بارگاہ میں التجا کرتا ہے کہ اے رحم و کرم کی نظر رکھنے والے آقا مجھ پر اتنا کرم ضرور کرنا کہ جب میرا آخری وقت ہو اور جان لبوں پر ہو، تو آپ اپنا جلوہ دکھانے میرے سامنے تشریف لے آئیں۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظ (Word)معنی (Meaning)
بے خودمدہوش / اپنی ذات سے غافل اور مست
جلوۂ جانانہمحبوب کا خوبصورت اور نورانی دیدار
چشمِ کریمانہکرم اور بخشش کرنے والی مہربان آنکھیں
محشرقیامت کا دن جہاں حساب کتاب ہوگا
ساقی / مےخانہشراب پلانے والا / شراب خانہ (مراد: مرشدِ کامل اور روحانی مرکز)
سنگِ دَرِ جانانہمحبوب کی چوکھٹ کا پتھر

خلاصہ (Summary)

اس صوفیانہ کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ ایک سچے عاشقِ رسول ﷺ کے لیے اپنے محبوب کا دیدار ہی کائنات کی سب سے بڑی دولت ہے، اسی لیے وہ اپنی آنکھیں ہی بطور تحفہ پیش کرنا چاہتا ہے تاکہ تحفے کا تحفہ ہو جائے اور دیدار کا دیدار۔ شاعر دنیا اور آخرت (محشر) دونوں جگہ اپنے آقا ﷺ کے قدموں سے وابستہ رہنے اور ان کا 'دیوانہ' کہلانے کی تمنا رکھتا ہے۔ کلام کے آخر میں وہ بیان کرتا ہے کہ اس کی روحانی پیاس تبھی بجھے گی جب اجمیر (خواجہ غریب نواز) کا ساقی ہو اور بغداد (غوثِ اعظم) کا مےخانہ ہو، اور وہ مرتے دم تک اس پاک چوکھٹ کو چھوڑنے کو تیار نہیں۔

لیرکس کے مطابق، شاعر اپنے محبوب کو تحفے میں کیا بھیجنا چاہتا ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: