मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 مہینہ پہلے fiber_manual_record 417 بار دیکھا گیا
,
عنوان: باغِ جنت میں نِرالی چمن آ رہی ہے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 07 Aug, 2023 08:49 AM IST
دیکھا گیا: 177
Time to read: 1 min read
باغِ جنت میں نِرالی چمن آ رہی ہے،
کیا مدینے پہ فِدا ہو کے بہار آئی ہے۔
اُن کے گیسو نہیں، رحمت کی گھٹا چھائی ہے،
اُن کے ابرو نہیں، دو قبلوں کی یکجائی ہے۔
سروِ والا اُنہیں رحمت کی گھٹا لائی ہے،
حال بگڑا ہے تو بیمار کی بن آئی ہے۔
جس کے ہاتھوں کے بنائے ہوئے ہیں حُسن و جمال،
اے حسیں! تیری ادائیں اُس کو پسند آئی ہیں۔
تیرے جلووں میں یہ عالم ہے کہ چشمِ عالم،
تابِ دیدار نہیں، پھر بھی تماشائی ہے۔
جب تیری یاد میں دنیا سے گیا ہے کوئی،
جان لینے کو دُلہن بن کے قضا آئی ہے۔
دردِ دل کس کو سناؤں میں تمہارے ہوتے،
بیکسوں کی اِسی سرکار میں سُنवाई ہے۔
چشمِ بےخواب کے صدقے میں ہے بیدار نصیب،
آپ جاگو تو ہمیں چین کی نیند آئی ہے۔
نااُمیدو! تمہیں مُژدہ کہ خدا رحمت،
اُنہیں محشر میں تمہارے ہی لیے لائی ہے۔
اے حسن! حُسنِ جہاں تاب کے صدقے جاؤں،
ذرّے ذرّے سے آیا جلوۂ زیبائی ہے۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام سرورِ کونین ﷺ کے حسنِ بے مثال، ان کی دلکش اداؤں اور امت پر ان کے لازوال رحم و کرم کی عکاسی کرتا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ آپ ﷺ کا درِ اقدس دنیا و آخرت میں بے سہاروں کا سب سے بڑا مرکزِ امید ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ مدینہ منورہ کی پاک دھرتی پر جنت کی بہاریں فدا ہو رہی ہیں اور حضور ﷺ کی زلفیں کائنات پر چھائی رحمت کی گھٹائیں ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ جب دکھیوں اور بے کسوں کی فریاد سننے کے لیے حضور ﷺ کی سرکار موجود ہے، تو ہمیں کسی اور کے پاس جا کر اپنا دردِ دل بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| چمن آرائی | باغ کی سجاوٹ / رونق |
| یکجائی | ایک جگہ جمع ہونا / ملنا |
| چشمِ عالم | دنیا کی آنکھ |
| تابِ دیدار | دیکھنے کی طاقت یا حوصلہ |
| قضا | موت / رحلت |
| چشمِ بے خواب | جاگنے والی آنکھیں (حضور ﷺ کی بیدار آنکھیں) |
| مُژدہ | خوشخبری |
| جلوۂ زیبائی | خوبصورت اور حسین نظارہ |
اس نعتِ پاک میں مایوس اور گناہگار امتیوں کو یہ خوشخبری دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محشر کے دن حضور ﷺ کو خاص طور پر ہماری ہی شفاعت کے لیے بھیجا ہے۔ شاعر 'حسن' (حسن رضا خان) کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کی یاد میں دنیا سے رخصت ہونا اس قدر حسین ہے کہ موت (قضا) بھی روح قبض کرنے کے لیے ایک خوبصورت دلہن کا روپ دھار کر آتی ہے، اور آپ ﷺ کا نورانی جلوہ کائنات کے ذرے ذرے میں بسا ہوا ہے۔
شاعر کے مطابق جب کوئی حضور ﷺ کی یاد میں اس دنیا سے جاتا ہے، تو موت (قضا) اس کے پاس کس روپ میں آتی ہے؟