, Bada Pyaara Hai Nana Hussain Ka Lyrics In English - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

Bada Pyaara Hai Nana Hussain Ka Lyrics In اردو


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: Bada Pyaara Hai Nana Hussain Ka

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 22 Mar, 2023 06:59 AM IST

دیکھا گیا: 401

Time to read: 1 min read

translate بول کی زبان منتخب کریں:

jinki Shaan Nirali Jinki Zulfe Kali Kali,
Bada Pyaara Hai Nana Hussain Ka,
Koi Kisi Ka Deewana, Koi Kisi Ka Deewana,
Mujhe Bhata Hai Nana Hussain Ka,
Mujhe Bhata Hai Nana Hussain Ka

bada Pyaara Hai Nana Hussain Ka

is Deen Ki Khatir Kya Na Kiya,
Woh Jaame Shahadat Naush Kiya,
Koi Sar Ko Kataye Koi Ghar Ko Lutaye,
Aisa Hai Gharana Hussain Ka

bada Pyaara Hai Nana Hussain Ka

hum Gair Ke Dar Par Kyun Jaye,
Hum Sab Unke Dar Se Paaye,
Ali Wale Chale Aao Daman Ko Failao,
Batta Hai Khazana Hussain Ka

bada Pyaara Hai Nana Hussain Ka

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ خوبصورت، پرجوش اور عقیدت سے لبریز منقبت حضورِ اکرم ﷺ (امام حسین کے نانا) کی بے مثل شان اور دینِ اسلام کی خاطر نواسۂ رسول ﷺ اور ان کے پاک گھرانے کی لازوال قربانی اور سخاوت کا بہترین تذکرہ ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان وجدانی اشعار کا مطلب ہے کہ "دنیا میں کوئی کسی کا بھی دیوانہ ہو، لیکن مجھے تو سب سے بڑھ کر امام حسین کے نانا (حضور ﷺ) کی ذاتِ گرامی پسند ہے جن کی شان سب سے نرالی ہے۔" شاعر کہتا ہے کہ آلِ محمد ﷺ کا گھرانہ وہ عظیم ترین گھرانہ ہے جس نے دینِ حق کی بقا کے لیے اپنا پورا گھر لٹا دیا، سر کٹا کر جامِ شہادت نوش کیا، اور ان کا در ایسا سخی ہے جہاں سے رہتی دنیا تک ہر مانگنے والے کو فیض ملتا ہے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

الفاظمعنی (Meanings)
ناناماں کے والد (یہاں مراد حضور نبیِ کریم ﷺ ہیں)
بھاتا ہےاچھا لگتا ہے / پسند آتا ہے
دینمذہب (مراد دینِ اسلام)
جامِ شہادتشہادت کا پیالہ
نوش کیاپیا / قبول کیا
غیر کے درکسی اجنبی یا پرائے کے دروازے پر
علی والےحضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت کرنے والے
بٹتا ہے خزانہکرم، رحمت اور برکت کی تقسیم ہو رہی ہے

خلاصہ (Summary)

اس کلام کا لبِ لباب یہ ہے کہ امام حسین کا گھرانہ دونوں جہاں میں سخاوت کا مرکز ہے، اسی لیے ہمیں کسی دوسرے کے آستانے پر جانے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ہمیں جو کچھ بھی ملا ہے، انہی کے صدقے ملا ہے۔ شاعر حضرت علی کے چاہنے والوں کو دعوت دیتا ہے کہ آؤ اور اپنا دامن پھیلاؤ کیونکہ یہاں امام حسین کے فیض کا لامتناہی خزانہ تقسیم ہو رہا ہے۔ اس پاک خاندان نے کربلا کے میدان میں سر کٹا کر اسلام کے پرچم کو ہمیشہ کے لیے بلند کر دیا۔

لیرکس کے مطابق، اسلام ('دین') کی حفاظت کے لیے حسین کے گھرانے نے کیا کیا اور ان کے در پر کس چیز کا خزانہ بٹ رہا ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں:

نمایاں آرٹسٹ/گیت نگار

سبھی دیکھیں