मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 66 بار دیکھا گیا
,
عنوان: Bada Pyaara Hai Nana Hussain Ka
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: علی حیدر فیضی لکھن پوری
نعت خوان/ فنکار: علی حیدر فیضی لکھن پوری
شامل کیا گیا: 22 Mar, 2023 06:59 AM IST
دیکھا گیا: 401
Time to read: 1 min read
translate بول کی زبان منتخب کریں:
jinki Shaan Nirali Jinki Zulfe Kali Kali,
Bada Pyaara Hai Nana Hussain Ka,
Koi Kisi Ka Deewana, Koi Kisi Ka Deewana,
Mujhe Bhata Hai Nana Hussain Ka,
Mujhe Bhata Hai Nana Hussain Ka
bada Pyaara Hai Nana Hussain Ka
is Deen Ki Khatir Kya Na Kiya,
Woh Jaame Shahadat Naush Kiya,
Koi Sar Ko Kataye Koi Ghar Ko Lutaye,
Aisa Hai Gharana Hussain Ka
bada Pyaara Hai Nana Hussain Ka
hum Gair Ke Dar Par Kyun Jaye,
Hum Sab Unke Dar Se Paaye,
Ali Wale Chale Aao Daman Ko Failao,
Batta Hai Khazana Hussain Ka
bada Pyaara Hai Nana Hussain Ka
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ خوبصورت، پرجوش اور عقیدت سے لبریز منقبت حضورِ اکرم ﷺ (امام حسین کے نانا) کی بے مثل شان اور دینِ اسلام کی خاطر نواسۂ رسول ﷺ اور ان کے پاک گھرانے کی لازوال قربانی اور سخاوت کا بہترین تذکرہ ہے۔
ان وجدانی اشعار کا مطلب ہے کہ "دنیا میں کوئی کسی کا بھی دیوانہ ہو، لیکن مجھے تو سب سے بڑھ کر امام حسین کے نانا (حضور ﷺ) کی ذاتِ گرامی پسند ہے جن کی شان سب سے نرالی ہے۔" شاعر کہتا ہے کہ آلِ محمد ﷺ کا گھرانہ وہ عظیم ترین گھرانہ ہے جس نے دینِ حق کی بقا کے لیے اپنا پورا گھر لٹا دیا، سر کٹا کر جامِ شہادت نوش کیا، اور ان کا در ایسا سخی ہے جہاں سے رہتی دنیا تک ہر مانگنے والے کو فیض ملتا ہے۔
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| نانا | ماں کے والد (یہاں مراد حضور نبیِ کریم ﷺ ہیں) |
| بھاتا ہے | اچھا لگتا ہے / پسند آتا ہے |
| دین | مذہب (مراد دینِ اسلام) |
| جامِ شہادت | شہادت کا پیالہ |
| نوش کیا | پیا / قبول کیا |
| غیر کے در | کسی اجنبی یا پرائے کے دروازے پر |
| علی والے | حضرت مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے محبت کرنے والے |
| بٹتا ہے خزانہ | کرم، رحمت اور برکت کی تقسیم ہو رہی ہے |
اس کلام کا لبِ لباب یہ ہے کہ امام حسین کا گھرانہ دونوں جہاں میں سخاوت کا مرکز ہے، اسی لیے ہمیں کسی دوسرے کے آستانے پر جانے کی کوئی ضرورت نہیں کیونکہ ہمیں جو کچھ بھی ملا ہے، انہی کے صدقے ملا ہے۔ شاعر حضرت علی کے چاہنے والوں کو دعوت دیتا ہے کہ آؤ اور اپنا دامن پھیلاؤ کیونکہ یہاں امام حسین کے فیض کا لامتناہی خزانہ تقسیم ہو رہا ہے۔ اس پاک خاندان نے کربلا کے میدان میں سر کٹا کر اسلام کے پرچم کو ہمیشہ کے لیے بلند کر دیا۔
لیرکس کے مطابق، اسلام ('دین') کی حفاظت کے لیے حسین کے گھرانے نے کیا کیا اور ان کے در پر کس چیز کا خزانہ بٹ رہا ہے؟