, عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے Lyrics In اردو

(عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے, جانے مراد اب کدھر ہائے! تیرا مکان ہے)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے

زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 11 Sep, 2025 05:38 PM IST

دیکھا گیا: 1.3K

Time to read: 2 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

عرش کی عقل دنگ ہے، چرخ میں آسمان ہے،
جانے مراد اب کدھر، ہائے! تیرا مکان ہے۔

عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ،
فرش پہ طُرفہ دھوم دھام،
کان جدھر لگائیے،
تیری ہی داستان ہے۔

عرش کی عقل دنگ ہے، چرخ میں آسمان ہے۔

وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا،
وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو،
جان ہیں وہ جہان کی،
جان ہے تو جہان ہے۔

عرش کی عقل دنگ ہے، چرخ میں آسمان ہے۔

پیشِ نظر وہ نو بہار،
سجدے کو دل ہے بے قرار،
روکیے سر کو روکیے،
ہاں! یہی امتحان ہے۔

عرش کی عقل دنگ ہے، چرخ میں آسمان ہے۔

تجھ سا سیاہ کار کون،
اور انسا سفیر ہے کہاں،
پھر وہ تجھی کو ڈھونڈتا،
دل یہ تیرا گمان ہے۔

عرش کی عقل دنگ ہے، چرخ میں آسمان ہے۔

شانِ خدا نہ ساتھ دے،
جس کے خرام کا وہ باز،
سدرہ سے تا زمین جسے،
ہلکی سی ایک اُڑان ہے۔

عرش کی عقل دنگ ہے، چرخ میں آسمان ہے۔

عرش پہ جا کے مرگِ عقل،
تھک کے گرا، غش آ گیا،
اور ابھی منزلوں پرے،
پہلا ہی آستان ہے۔

عرش کی عقل دنگ ہے، چرخ میں آسمان ہے۔

خوف نہ رکھ رضا ذرا،
تو تو ہے عبدِ مصطفیٰ،
تیرے لیے امان ہے،
تیرے لیے امان ہے۔

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ کلام امام احمد رضا خان بریلوی کا تحریر کردہ ہے، جس میں حضور ﷺ کی عظمتِ معراج اور کائنات میں آپ ﷺ کے مقامِ بلند کو بیان کیا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ آپ ﷺ کی حقیقت تک رسائی انسانی عقل کے بس سے باہر ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

شاعر کہتا ہے کہ معراج کی بلندیوں کو دیکھ کر عقل حیران ہے؛ زمین ہو یا آسمان، ہر طرف آپ ﷺ ہی کا ذکر ہے۔ آپ ﷺ کائنات کی روح ہیں، اگر آپ ﷺ نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا، اور سدرہ سے زمین تک کا فاصلہ آپ ﷺ کے لیے محض ایک معمولی سی اڑان ہے۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی
دنگحیران / ششدر
چرخآسمان / فلک
طُرفہعجیب و غریب / انوکھا
سیاہ کارگنہگار / بدکار
سفیرشفاعت کرنے والا / نمائندہ
خرامناز و انداز سے چلنا
مرگِ عقلعقل کا عاجز آ جانا یا ختم ہو جانا
آستانچوکھٹ / دربار

خلاصہ (Summary)

اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کائنات کی اصل بنیاد ہیں اور تمام مخلوقات آپ ﷺ ہی کے صدقے وجود میں آئی ہیں۔ معراج کے سفر میں انسانی عقل وہاں جا کر تھک گئی جہاں سے آپ ﷺ کی منزلوں کی شروعات ہوتی ہے۔ آخر میں شاعر خود کو تسلی دیتا ہے کہ مصطفیٰ ﷺ کا غلام ہونے کے ناطے اسے کسی خوف کی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ آپ ﷺ کی امان میں ہے۔

"وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا، وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو" — کیا آپ کو نہیں لگتا کہ یہ مصرعہ تخلیقِ کائنات کا پورا فلسفہ بیان کر رہا ہے؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: