मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 66 بار دیکھا گیا
,
عنوان: عرش کی عقل دنگ ہے چرخ میں آسمان ہے
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا
نعت خوان/ فنکار: اسد اقبال کلکتوی اویس رضا قادری زوہیب اشرفی
شامل کیا گیا: 11 Sep, 2025 05:38 PM IST
دیکھا گیا: 1.3K
Time to read: 2 min read
عرش کی عقل دنگ ہے، چرخ میں آسمان ہے،
جانے مراد اب کدھر، ہائے! تیرا مکان ہے۔
عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ،
فرش پہ طُرفہ دھوم دھام،
کان جدھر لگائیے،
تیری ہی داستان ہے۔
عرش کی عقل دنگ ہے، چرخ میں آسمان ہے۔
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا،
وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو،
جان ہیں وہ جہان کی،
جان ہے تو جہان ہے۔
عرش کی عقل دنگ ہے، چرخ میں آسمان ہے۔
پیشِ نظر وہ نو بہار،
سجدے کو دل ہے بے قرار،
روکیے سر کو روکیے،
ہاں! یہی امتحان ہے۔
عرش کی عقل دنگ ہے، چرخ میں آسمان ہے۔
تجھ سا سیاہ کار کون،
اور انسا سفیر ہے کہاں،
پھر وہ تجھی کو ڈھونڈتا،
دل یہ تیرا گمان ہے۔
عرش کی عقل دنگ ہے، چرخ میں آسمان ہے۔
شانِ خدا نہ ساتھ دے،
جس کے خرام کا وہ باز،
سدرہ سے تا زمین جسے،
ہلکی سی ایک اُڑان ہے۔
عرش کی عقل دنگ ہے، چرخ میں آسمان ہے۔
عرش پہ جا کے مرگِ عقل،
تھک کے گرا، غش آ گیا،
اور ابھی منزلوں پرے،
پہلا ہی آستان ہے۔
عرش کی عقل دنگ ہے، چرخ میں آسمان ہے۔
خوف نہ رکھ رضا ذرا،
تو تو ہے عبدِ مصطفیٰ،
تیرے لیے امان ہے،
تیرے لیے امان ہے۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام امام احمد رضا خان بریلوی کا تحریر کردہ ہے، جس میں حضور ﷺ کی عظمتِ معراج اور کائنات میں آپ ﷺ کے مقامِ بلند کو بیان کیا گیا ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ آپ ﷺ کی حقیقت تک رسائی انسانی عقل کے بس سے باہر ہے۔
شاعر کہتا ہے کہ معراج کی بلندیوں کو دیکھ کر عقل حیران ہے؛ زمین ہو یا آسمان، ہر طرف آپ ﷺ ہی کا ذکر ہے۔ آپ ﷺ کائنات کی روح ہیں، اگر آپ ﷺ نہ ہوتے تو کچھ بھی نہ ہوتا، اور سدرہ سے زمین تک کا فاصلہ آپ ﷺ کے لیے محض ایک معمولی سی اڑان ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| دنگ | حیران / ششدر |
| چرخ | آسمان / فلک |
| طُرفہ | عجیب و غریب / انوکھا |
| سیاہ کار | گنہگار / بدکار |
| سفیر | شفاعت کرنے والا / نمائندہ |
| خرام | ناز و انداز سے چلنا |
| مرگِ عقل | عقل کا عاجز آ جانا یا ختم ہو جانا |
| آستان | چوکھٹ / دربار |
اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کائنات کی اصل بنیاد ہیں اور تمام مخلوقات آپ ﷺ ہی کے صدقے وجود میں آئی ہیں۔ معراج کے سفر میں انسانی عقل وہاں جا کر تھک گئی جہاں سے آپ ﷺ کی منزلوں کی شروعات ہوتی ہے۔ آخر میں شاعر خود کو تسلی دیتا ہے کہ مصطفیٰ ﷺ کا غلام ہونے کے ناطے اسے کسی خوف کی ضرورت نہیں، کیونکہ وہ آپ ﷺ کی امان میں ہے۔
"وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا، وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو" — کیا آپ کو نہیں لگتا کہ یہ مصرعہ تخلیقِ کائنات کا پورا فلسفہ بیان کر رہا ہے؟