मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 66 بار دیکھا گیا
,
عنوان: اگر میں عہد رسالت مآب میں ہوتا
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: خالد عباس الاسدی
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 03 Feb, 2026 09:21 AM IST
دیکھا گیا: 80
Time to read: 1 min read
اگر میں عہد رسالت مآب میں ہوتا
ضرور حلقہ عالی جناب ﷺ میں ہوتا
جو میری سوچ مہکتی ثنا کے پھولوں سے
تو ہر عمل مرا شامل ثواب میں ہوتا
مرے سوال کی لکنت پہ مسکراتے حضور ﷺ
کرم کا بہتا سمندر جواب میں ہوتا
اگر اعانتِ دیں کے لئے بلاتے حضور ﷺ
تو میرا ہاتھ بھی دست جناب ﷺ میں ہوتا
میں ایک ایک صدا پر لپٹتا قدموں سے
جو میرا نام بھی شامل خطاب میں ہوتا
میں آنکھ کھول کے پھر خواب کی دعا کرتا
مرا نصیب جو بیدار خواب میں ہوتا
میں جان اپنی نچھاور حضور ﷺ پر کرتا
مرا بھی ذکر شہیدوں کے باب میں ہوتا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام ایک عاشقِ رسول ﷺ کی اس تڑپتی ہوئی خواہش کا اظہار ہے کہ کاش وہ حضور ﷺ کے ظاہری دورِ مبارک میں موجود ہوتا۔ یہ نعت ہجر کی کیفیت اور صحابہ کرام جیسی قربت پانے کی آرزو پر مبنی ہے۔
شاعر تمنا کرتا ہے کہ کاش وہ عہدِ نبوی میں ہوتا اور حضور ﷺ کی محفلوں کا حصہ بنتا۔ وہ کہتا ہے کہ اگر میں اپنی ہکلاتی زبان سے کوئی سوال کرتا تو حضور ﷺ اپنی مسکراہٹ سے کرم فرماتے، اور میرا جی چاہتا ہے کہ میں دین کی خدمت کے لیے اپنا ہاتھ آپ ﷺ کے ہاتھ میں دیتا اور آپ ﷺ پر اپنی جان قربان کر دیتا۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| عہدِ رسالت | نبوت کا زمانہ |
| حلقہ | گروہ یا محفل |
| ثنا | تعریف و توصیف (نعت) |
| لکنت | زبان کا ہکلانا یا رکنا |
| اعانتِ دیں | دین کی مدد و نصرت |
| بیدار خواب | جاگتی آنکھوں کا خواب |
| باب | فصل یا حصہ (فہرست) |
اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ شاعر حضور ﷺ کی صحبت اور ان کے دور میں ہونے کی حسرت میں ڈوبا ہوا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اس کا نام بھی ان خوش نصیبوں میں شامل ہوتا جنہیں آپ ﷺ نے خود مخاطب کیا اور جو آپ ﷺ کے ایک اشارے پر جان نثار کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے تھے۔
نعت کے آخری مصرعوں کے مطابق، شاعر "بیدار خواب" دیکھنے کے بعد کیا دعا مانگنا چاہتا ہے، اور اس کی آخری خواہش کیا ہے؟