, آنکھیں رو رو کے سوجانے والے - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

آنکھیں رو رو کے سوجانے والے Lyrics In اردو


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: آنکھیں رو رو کے سوجانے والے

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 31 Jul, 2023 10:49 AM IST

دیکھا گیا: 207

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

آنکھیں رو رو کے سوجانے والے،
جانے والے نہیں آنے والے۔

سن لے ادا میں بگڑنے کا نہیں،
وہ سلامت ہیں بنانے والے۔

جانے والے نہیں آنے والے۔

آنکھیں کچھ کہتی ہیں تجھ سے پیغام،
او درِ یار کے جانے والے۔

جانے والے نہیں آنے والے۔

پھر نہ کروٹ لی مدینے کی طرف،
ارے چل، جھوٹے بہانے والے۔

جانے والے نہیں آنے والے۔

نَفْس میں خاکِ ہوا تُو نہ مٹا،
ہے مری جان کے کھانے والے۔

جانے والے نہیں آنے والے۔

حُسن تیرا سا نہ دیکھا نہ سُنا،
کہتے ہیں اگلے زمانے والے۔

جانے والے نہیں آنے والے۔

وہی دھوم ہے ان کی، ما شاء اللہ،
مٹ گئے آپ مٹانے والے۔

جانے والے نہیں آنے والے۔

کیوں رضا آج گلی سونی ہے،
اُٹھ میرے دھوم مچانے والے۔

آنکھیں رو رو کے سوجانے والے،
جانے والے نہیں آنے والے۔

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ رقت انگیز اور مشہورِ زمانہ نعتِ پاک (اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمتہ اللہ علیہ کی لکھی ہوئی) حضور پاک ﷺ کی جدائی کے غم، ان کی لازوال شان اور ان کے دربار کی حاضری کی تڑپ کا دلکش اظہار ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مطلب ہے کہ اے نبی ﷺ کے فراق میں رو رو کر اپنی آنکھیں سجھا لینے والے عاشق، جو اس دنیا سے رخصت ہو گئے وہ دوبارہ لوٹ کر نہیں آتے، اس لیے تو اپنے دل کو مدینے کی یادوں سے بہلا۔ شاعر اپنے دشمنوں (اعدا) کو للکارتے ہوئے کہتا ہے کہ تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ میری بگڑی بنانے والے آقا ﷺ اور کائنات کے خالق خدا خود سلامت ہیں۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظ (Word)معنی (Meaning)
اعدا / ادادشمن / مخالفین (اصل لفظ 'اعدا' ہے)
درِ یارمحبوب کی چوکھٹ (مراد: مدینہ منورہ)
نفسانسانی خواہشات / غرور یا اندر کا شیطان
خاکِ ہوامٹی اور فضول خواہشات کا مجموعہ
حُسنخوبصورتی / جمال
دھومچرچا / شہرت یا عظمت
رضااعلیٰ حضرت کا تخلص

خلاصہ (Summary)

اس کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ دنیا میں حضور سرورِ کائنات ﷺ کا چرچا اور ان کی عظمت ہمیشہ سے قائم ہے اور رہے گی؛ آپ ﷺ کی شان کو مٹانے کی کوشش کرنے والے حاسد خود ہی مٹ کر خاک ہو گئے۔ شاعر اپنے نفس کو ملامت کرتا ہے کہ وہ مدینے کی طرف رخ کرنے کے جھوٹے بہانے نہ بنائے۔ آخر میں اعلیٰ حضرت خود کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ اے نعتوں کے ذریعے نبی کی گلیوں میں دھوم مچانے والے عاشق، اٹھ اور ایک بار پھر اپنے آقا کی مدحت کا سلسلہ شروع کر۔

لیرکس کے مطابق، نبی کریم ﷺ کی شان کو مٹانے کی کوشش کرنے والوں کا کیا انجام ہوا؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: