मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 57 بار دیکھا گیا
,
عنوان: آنکھیں رو رو کے سوجانے والے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری سجّاد نظامی (مرہوم)
شامل کیا گیا: 31 Jul, 2023 10:49 AM IST
دیکھا گیا: 207
Time to read: 1 min read
آنکھیں رو رو کے سوجانے والے،
جانے والے نہیں آنے والے۔
سن لے ادا میں بگڑنے کا نہیں،
وہ سلامت ہیں بنانے والے۔
جانے والے نہیں آنے والے۔
آنکھیں کچھ کہتی ہیں تجھ سے پیغام،
او درِ یار کے جانے والے۔
جانے والے نہیں آنے والے۔
پھر نہ کروٹ لی مدینے کی طرف،
ارے چل، جھوٹے بہانے والے۔
جانے والے نہیں آنے والے۔
نَفْس میں خاکِ ہوا تُو نہ مٹا،
ہے مری جان کے کھانے والے۔
جانے والے نہیں آنے والے۔
حُسن تیرا سا نہ دیکھا نہ سُنا،
کہتے ہیں اگلے زمانے والے۔
جانے والے نہیں آنے والے۔
وہی دھوم ہے ان کی، ما شاء اللہ،
مٹ گئے آپ مٹانے والے۔
جانے والے نہیں آنے والے۔
کیوں رضا آج گلی سونی ہے،
اُٹھ میرے دھوم مچانے والے۔
آنکھیں رو رو کے سوجانے والے،
جانے والے نہیں آنے والے۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ رقت انگیز اور مشہورِ زمانہ نعتِ پاک (اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی رحمتہ اللہ علیہ کی لکھی ہوئی) حضور پاک ﷺ کی جدائی کے غم، ان کی لازوال شان اور ان کے دربار کی حاضری کی تڑپ کا دلکش اظہار ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ اے نبی ﷺ کے فراق میں رو رو کر اپنی آنکھیں سجھا لینے والے عاشق، جو اس دنیا سے رخصت ہو گئے وہ دوبارہ لوٹ کر نہیں آتے، اس لیے تو اپنے دل کو مدینے کی یادوں سے بہلا۔ شاعر اپنے دشمنوں (اعدا) کو للکارتے ہوئے کہتا ہے کہ تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے کیونکہ میری بگڑی بنانے والے آقا ﷺ اور کائنات کے خالق خدا خود سلامت ہیں۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| اعدا / ادا | دشمن / مخالفین (اصل لفظ 'اعدا' ہے) |
| درِ یار | محبوب کی چوکھٹ (مراد: مدینہ منورہ) |
| نفس | انسانی خواہشات / غرور یا اندر کا شیطان |
| خاکِ ہوا | مٹی اور فضول خواہشات کا مجموعہ |
| حُسن | خوبصورتی / جمال |
| دھوم | چرچا / شہرت یا عظمت |
| رضا | اعلیٰ حضرت کا تخلص |
اس کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ دنیا میں حضور سرورِ کائنات ﷺ کا چرچا اور ان کی عظمت ہمیشہ سے قائم ہے اور رہے گی؛ آپ ﷺ کی شان کو مٹانے کی کوشش کرنے والے حاسد خود ہی مٹ کر خاک ہو گئے۔ شاعر اپنے نفس کو ملامت کرتا ہے کہ وہ مدینے کی طرف رخ کرنے کے جھوٹے بہانے نہ بنائے۔ آخر میں اعلیٰ حضرت خود کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں کہ اے نعتوں کے ذریعے نبی کی گلیوں میں دھوم مچانے والے عاشق، اٹھ اور ایک بار پھر اپنے آقا کی مدحت کا سلسلہ شروع کر۔
لیرکس کے مطابق، نبی کریم ﷺ کی شان کو مٹانے کی کوشش کرنے والوں کا کیا انجام ہوا؟