मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 48 بار دیکھا گیا
,
عنوان: آنکھیں بھیگو کے سب کو رُلا کر چلے گئے
زمرہ: منقبت کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: سجّاد نظامی (مرہوم)
نعت خوان/ فنکار: سجّاد نظامی (مرہوم)
شامل کیا گیا: 10 Nov, 2022 01:35 PM IST
دیکھا گیا: 2.9K
Time to read: 2 min read
آنکھیں بھیگو کے دل کو ہلا کر چلے گئے،
ایسے گئے کے سب کو رُلا کر چلے گئے،
آنکھیں بھیگو کے سب کو رُلا کر چلے گئے،
ایسے گئے کے سب کو رُلا کر چلے گئے
افتا کی شان علم و ہنر کا وقار تھے،
سادہ مزاج زندہ دلی کی بہار تھے،
محفل ہر ایک سونی بنا کر چلے گئے،
ایسے گئے کے سب کو رُلا کر چلے گئے
عُمرِ تمام دین کی خدمت میں کاٹ دی،
اپنے کلم سے کفر کی تاریخ چھاٹھ دی،
حُکمِ شریعت ہم کو بتا کر چلے گئے،
ایسے گئے کے سب کو رُلا کر چلے گئے
دینِ نبی کی خدمتِ مقبول ہو گئ،
سینوں میں انکی اُلفتِ محفوظ ہو گئ،
دیوانہ اپنا سب کو بنا کر چلے گئے،
ایسے گئے کے سب کو رُلا کر چلے گئے
اعلان سحری جس نے باھیڈی کو دے دیا،
اور پھر جُلُسِ بارھوی بھی عطا کیا،
تحریک کیسی کیسی چلا کر چلے گئے،
ایسے گئے کے سب کو رُلا کر چلے گئے
سلطان اشرف اسم بھی سایہ نشین تھا،
ہر ایک لہٰذ سے جو باھیڈی کی جان تھا،
کیسا پہاڑ گم کا گرا کر چلے گئے،
ایسے گئے کے سب کو رُلا کر چلے گئے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ منقبت بہیڑی (بریلی) کے ایک عظیم عالمِ دین 'سلطان اشرف' کے وصال (انتقال) پر لکھی گئی ایک درد بھری نظم ہے، جس میں ان کی سادگی، دینی خدمات اور ان کے جانے سے پیدا ہونے والے گہرے غم کا اظہار کیا گیا ہے۔
اس کلام کا مطلب ہے کہ بہیڑی کی جان اور علم و فقہ کی شان، حضرت سلطان اشرف اس دنیا سے رخصت ہو گئے ہیں، جس سے ہر آنکھ اشکبار ہے۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی لوگوں کو شریعت کا راستہ دکھانے اور اپنے قلم سے باطل کے اندھیروں کو مٹانے میں گزار دی، اور ان کے جانے سے علم کی ہر محفل سونی ہو گئی ہے۔
| الفاظ (Word) | معانی (Meaning) |
|---|---|
| افتا | فتویٰ دینے کا علم / شعبہء فقہ (Islamic jurisprudence) |
| وقار | عزت، شرف یا مرتبہ (Dignity/Honor) |
| سادہ مزاج | سادگی پسند / عاجزانہ طبیعت (Simple-natured) |
| تاریک / تاریخ | یہاں مراد 'اندھیرا یا سیاہی' ہے (Darkness) |
| اُلفت | محبت، پیار یا انسیت (Love/Affection) |
| مقبول | پسندیدہ یا بارگاہِ الٰہی میں منظور شدہ (Accepted) |
| تحریک | تحریکیں، مہم یا بیداری کی لہر (Movement) |
| اسم | نام (Name) |
شاعر اس نظم میں بیان کرتے ہیں کہ حضرت سلطان اشرف نے بہیڑی کے علاقے میں 'اعلانِ سحری' اور 'جلوہء یار الٰہی (بارہویں شریف کا جلوس)' جیسی کئی اہم دینی تحریکیں شروع کیں اور لوگوں کو بیدار کیا۔ ان کے اس دنیا سے چلے جانے سے چاہنے والوں پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا ہے، کیونکہ وہ اپنے پیچھے دینِ نبی ﷺ کی سچی محبت اور شریعت کی یادیں چھوڑ گئے ہیں۔
منقبت کے مطابق 'سلطان اشرف' نے بریلی میں کون کون سی اہم تحریکیں چلائی تھیں، اور ان کی زندگی کس کام میں گزر گئی؟