मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 3 ہفتے پہلے fiber_manual_record 338 بار دیکھا گیا
,
عنوان: آمنہ کے گھر ما ہے حورن کا میلہ
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 28 Mar, 2023 11:34 AM IST
دیکھا گیا: 1.6K
Time to read: 1 min read
آمنہ کے گھر ما ہے حورن کا میلہ،
سغرو اٹریہ جگرمگر ہووے،
بن کے کھلونا مورے نبی کا،
عنبر پہ چاندواں اِدھر اُدھر ہووے
ڈولت ہو کھیتون میں باغِ بہاری،
جھومت ہے پیڑون کی ہر ڈالی ڈالی،
کوہرام برپا ہے آتش کدن ما،
بُتوں کا گُڑواں ڈگر مَگر ہووے
آمنہ کے گھر ما ہے حورن کا میلہ،
سغرو اٹریہ جگرمگر ہووے،
بن کے کھلونا مورے نبی کا،
عنبر پہ چاندواں اِدھر اُدھر ہووے
ایسن نبی کوئی آوا نہ آئی،
ای مرتبہ کوئی پاوا نہ پائی،
برسے ساونوا رب کے کرم کا،
ان کے نظریہ جدھر جدھر ہووے
آمنہ کے گھر ما ہے حورن کا میلہ،
سغرو اٹریہ جگرمگر ہووے،
بن کے کھلونا مورے نبی کا،
عنبر پہ چاندواں اِدھر اُدھر ہووے
باجت ہے کلمے کی ہر سُو باسُوریا،
دونوں جگت میں ہے پھیلی اُجریا،
کر دے دَیا جو شاہِ مدینہ،
خوشین میں سب کا گُزر بسر ہووے
آمنہ کے گھر ما ہے حورن کا میلہ،
سغرو اٹریہ جگرمگر ہووے،
بن کے کھلونا مورے نبی کا،
عنبر پہ چاندواں اِدھر اُدھر ہووے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ اودھی اور بھوجپوری کے خوبصورت لوک رنگ (مقامی زبان) میں لکھی گئی میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی ایک نہایت شیریں اور مقبول نعتِ پاک ہے۔ اس کلام میں حضورِ اکرم ﷺ کی ولادتِ با سعادت کے وقت کائنات میں ہونے والے معجزات اور خوشیوں کو دیسی اور سادہ الفاظ میں بڑے دلکش انداز سے پرویا گیا ہے۔
ان وجدانی اشعار کا مطلب ہے کہ جب سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا کے گھر ہمارے پیارے نبی ﷺ کی تشریف آوری ہوئی، تو ان کے استقبال کے لیے جنت کی حوروں کا میلہ لگ گیا اور پورا گھر آنگن (اٹاری) روشنی سے جگمگا اٹھا۔ اس موقع پر یہ عظیم معجزہ رونما ہوا کہ آسمان کا چاند حضور ﷺ کے لیے ایک کھلونا بن گیا جو آپ ﷺ کے اشاروں پر آسمان (عنبر) پر ادھر ادھر گھومنے لگا اور باطل کے تمام بت اوندھے منہ گر پڑے۔
| الفاظ (لوک زبان) | اردو معنی (Meanings) |
|---|---|
| حورن | حوریں / جنت کی پاکیزہ عورتیں |
| سغرو اٹریہ | پورا گھر / چھت یا گھر کا صحن و آنگن |
| جگرمگر | جگمگ جگمگ / چمکتی ہوئی روشنی |
| عنبر / چاندواں | آسمان / چاند یا چندا ماما |
| آتش کدن | ایران کے وہ آتش کدے (مقدس آگ) جو حضور ﷺ کی پیدائش پر بجھ گئے تھے |
| بُتوں کا گُڑواں | بتوں کے ڈھانچے / مٹی کے پُتلے یا بت |
| مرتبہ | مقام / منصب یا اونچی شان |
| اُجریا | اجالا / پاکیزہ روشنی یا نور |
| دَیا / شاہِ مدینہ | رحم و کرم / مدینے کے سلطان (حضور ﷺ) |
اس خوبصورت نعتِ پاک کا لبِ لباب یہ ہے کہ سرکارِ دو عالم ﷺ جیسا عظیم المرتبہ نبی نہ تو کائنات میں کوئی آیا ہے اور نہ ہی کوئی ان جیسا بے مثل مقام پا سکتا ہے۔ آپ ﷺ کی تشریف آوری سے دونوں جہانوں میں توحید (کلمے) کا اجالا پھیل گیا ہے اور قدرت کا ذرہ ذرہ جھوم رہا ہے۔ آخر میں شاعر دعا کرتا ہے کہ اگر مدینے کے تاجدار (حضور ﷺ) ہم پر اپنی رحمت اور کرم کی نظر فرما دیں، تو دنیا کے ہر بے بس انسان کی زندگی خوشیوں کے ساتھ بسر ہو جائے۔
لیرکس کے مطابق، آسمان کا 'چاندوا' (چاند) نبی ﷺ کے لیے کیا بن گیا ہے اور وہ آسمان پر کیسے چل رہا ہے؟