मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 66 بار دیکھا گیا
,
عنوان: اعلیٰ حضرت ہماری شان ہے
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) منقبت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: ندیم رضا فیضی
نعت خوان/ فنکار: ندیم رضا فیضی
شامل کیا گیا: 01 Sep, 2025 07:45 AM IST
دیکھا گیا: 422
Time to read: 2 min read
اعلیٰ حضرت ہماری شان ہے،
اعلیٰ حضرت ہماری جان ہے
عشق و محبت، عشق و محبت،
اعلیٰ حضرت، اعلیٰ حضرت
پیارے نبی کی پیاری دعا کو اعلیٰ حضرت کہتے ہیں،
شیرِ خدا کی لطف و عطا کو اعلیٰ حضرت کہتے ہیں،
غوثِ شاہِ جیلاں کی رضا کو اعلیٰ حضرت کہتے ہیں،
اور ضیاءِ خواجہ پیا کو اعلیٰ حضرت کہتے ہیں
اعلیٰ حضرت ہماری شان ہے،
اعلیٰ حضرت ہماری جان ہے
ہوتا ہے اور ہوتا رہے گا چرچا اعلیٰ حضرت کا،
بجتا ہے اور بجتا رہے گا ڈنکا اعلیٰ حضرت کا،
سجتا ہے اور سجتا رہے گا جلسہ اعلیٰ حضرت کا،
ہر جانب ہی لگتا رہے گا نعرہ اعلیٰ حضرت کا
اعلیٰ حضرت ہماری شان ہے،
اعلیٰ حضرت ہماری جان ہے
اُنگلی اُٹھائے گا جو رضا پر اُس کی کلائی موڑیں گے،
بیر رکھے گا جو بھی رضا سے اُس کو نہ ہرگز چھوڑیں گے،
تاجِ شریعت سے جو جلے گا اُس کی کمر ہم توڑیں گے،
ملکے جبین پر خاکِ بریلی ہر دم بولیں گے
اعلیٰ حضرت ہماری شان ہے،
اعلیٰ حضرت ہماری جان ہے
ایسی ذہانت کِس کو ملی ہے، اعلیٰ حضرت تیرے سوا،
تُو نے فقط ایک ماہ کے اندر حفظِ کلامِ پاک کیا،
تیرہ (١٣) برس کی عمر ہوئی تو سب سے پہلا فتویٰ لکھا،
علم کا ہے تُو کوہِ ہمالیہ، کیوں نہ پکارے تیرے گدا
اعلیٰ حضرت ہماری شان ہے،
اعلیٰ حضرت ہماری جان ہے
عشق و محبت، عشق و محبت،
اعلیٰ حضرت، اعلیٰ حضرت
جذبہ ہمارے دل میں بھرا ہے دینِ نبی کی خدمت کا،
گرنے نہ دیں گے حشر تلک ہم پرچم اہلِ سنت کا،
بیلچہ لے کر ہاتھ میں اپنی، فیضی مجاہدِ ملّت کا،
کام کریں گے سارے جہاں میں مسلکِ اعلیٰ حضرت کا
اعلیٰ حضرت ہماری شان ہے،
اعلیٰ حضرت ہماری جان ہے
عشق و محبت، عشق و محبت،
اعلیٰ حضرت، اعلیٰ حضرت
اعلیٰ حضرت ہماری شان ہے،
اعلیٰ حضرت ہماری جان ہے
اعلیٰ حضرت ہماری شان ہے،
اعلیٰ حضرت ہماری جان ہے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ منقبت امام احمد رضا خان (اعلیٰ حضرت) کی علمی جلالت، بے مثال ذہانت اور عشقِ رسول ﷺ میں ان کے فنا ہو جانے کے مقام کو بیان کرتی ہے۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ آپ کی ذات اولیاءِ کرام کی فیض یافتہ اور اہل سنت و جماعت کا فخر ہے۔
ان اشعار میں شاعر کہتا ہے کہ اعلیٰ حضرت وہ عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے صرف تیرہ سال کی عمر میں پہلا فتویٰ لکھ کر دنیا کو اپنی ذہانت کا لوہا منوایا۔ آپ علم کے وہ پہاڑ ہیں جن کا چرچا رہتی دنیا تک رہے گا، اور آپ کے چاہنے والے آپ کے مشن اور مسلک کی حفاظت کے لیے ہر دم تیار ہیں۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| لطف و عطا | مہربانی اور بخشش |
| ضیاء | روشنی / نور |
| جبین | پیشانی / ماتھا |
| ذہانت | عقلمندی / تیزیِ طبع |
| کوہِ ہمالیہ | ہمالیہ کا پہاڑ (علم کی بلندی کے لیے استعارہ) |
| مسلک | طریقہ / راستہ |
| گدا | فقیر / منگتا |
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ اعلیٰ حضرت کی زندگی دینِ اسلام کی خدمت اور سنتِ نبوی ﷺ کی سربلندی کے لیے وقف تھی۔ انہوں نے بریلی کی سرزمین سے علم و عرفان کا جو دریا بہایا، وہ آج بھی اہل سنت کے ایمان کی تازگی کا سبب ہے، اور ان کے نقشِ قدم پر چلنا ہی عشقِ مصطفیٰ ﷺ کی ضمانت ہے۔
منقبت کے آخر میں شاعر نے "مسلکِ اعلیٰ حضرت" کے لیے کس طرح کام کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، اور "فیضی مجاہدِ ملت" کا ذکر کرتے ہوئے کیا کہا ہے؟