मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 64 بار دیکھا گیا
,
عنوان: اعلیٰ حضرت ہماری جان ہے
زمرہ: کلام کے بول (لیرکس) منقبت کے بول (لیرکس) نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: اویس رضا قادری
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 13 Sep, 2023 06:13 PM IST
دیکھا گیا: 290
Time to read: 1 min read
عشق و محبّت، علم و حکمت،
اعلیٰ حضرت، اعلیٰ حضرت
اعلیٰ حضرت ہماری جان ہے،
اعلیٰ حضرت ہماری جان ہے
میرا احمد رضا ذیشان ہے،
ان کے مسلک پہ جان قربان ہے
اعلیٰ حضرت ہماری جان ہے،
اعلیٰ حضرت ہماری جان ہے
عشق احمد کا ایک انوان ہے
عشق و محبّت، علم و حکمت،
اعلیٰ حضرت، اعلیٰ حضرت
ذکر ان کا کسوٹی بن گیا،
سننیت کی بڑی پہچان ہے
اعلیٰ حضرت ہماری جان ہے،
اعلیٰ حضرت ہماری جان ہے
ان کے مسلک پے رکھ کائم مجھے،
تجھسے میری دعا، رحمان ہے
اعلیٰ حضرت ہماری جان ہے،
اعلیٰ حضرت ہماری جان ہے
ساعری دیکھئے تو یوں لگے،
جاری ہسسان کا فیضان ہے
اعلیٰ حضرت ہماری جان ہے،
اعلیٰ حضرت ہماری جان ہے
اس نے جو بھی لکھا ایسا لکھا،
اکل اہل کلم حیران ہے
اعلیٰ حضرت ہماری جان ہے،
اعلیٰ حضرت ہماری جان ہے
میں عبید رضا ہوں جان لو،
اعلیٰ حضرت میری پہچان ہے
اعلیٰ حضرت ہماری جان ہے،
اعلیٰ حضرت ہماری جان ہے
عشق و محبّت، علم و حکمت،
اعلیٰ حضرت، اعلیٰ حضرت
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ منقبت امام احمد رضا خان بریلوی (اعلیٰ حضرت) کی علمی بصیرت، ان کے عشقِ رسول ﷺ اور دینِ اسلام کے لیے ان کی خدمات کا ایک خوبصورت خراجِ عقیدت ہے۔
ان اشعار میں شاعر بیان کرتا ہے کہ اعلیٰ حضرت کی ذات علم و حکمت اور عشقِ محمدی ﷺ کا سنگم ہے۔ ان کی تحریریں اور شاعری دراصل بارگاہِ رسالت کے مشہور شاعر حضرت حسان بن ثابتؓ کے فیض کا تسلسل ہیں، جس نے بڑے بڑے اہل علم کو حیرت میں ڈال دیا ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| حکمت | دانائی اور فہم و فراست |
| عنوان | باب یا سرخی (Topic/Heading) |
| کسوٹی | پرکھنے کا معیار (Criterion) |
| قائم | ثابت قدم رہنا (Steadfast) |
| اہلِ قلم | لکھنے والے یا دانشور |
| فیضان | بخشش یا روحانی فائدہ |
اس منقبت کا خلاصہ یہ ہے کہ اعلیٰ حضرت کی پہچان ان کا 'عشقِ رسول ﷺ' ہے جو کہ سنیت کی اصل بنیاد ہے۔ شاعر اللہ تعالیٰ سے دعاگو ہے کہ اسے ہمیشہ اعلیٰ حضرت کے مسلک (راستے) پر ثابت قدم رکھے، کیونکہ ان کا علم اور ان کی شاعری ہر دور کے قلمکاروں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
شاعر نے اعلیٰ حضرت کی شاعری کو کس کے 'فیضان' سے جڑا بتایا ہے؟