, ذکرِ احمد سے سینہ سجا ہے - Shan E Nabi
search
لاگ ان

ذکرِ احمد سے سینہ سجا ہے Lyrics In اردو

(ذکرِ احمد سے سینہ سجا ہے, عشق ہے یہ تماشا نہیں ہے)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: ذکرِ احمد سے سینہ سجا ہے

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: شاداب و پیکر

نعت خوان/ فنکار: شاداب و پیکر

شامل کیا گیا: 09 Sep, 2025 09:25 AM IST

دیکھا گیا: 1.8K

Time to read: 2 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

ذکرِ احمد سے سینہ سجا ہے،
عشق ہے یہ تماشا نہیں ہے،
وہ بھی دل کوئی دل ہے جہاں میں،
جس میں تصویرِ طیبہ نہیں ہے۔

لا مکاں تک ہے تیری رسائی،
گیت گاتی ہے ساری خُدائی،
وہ جگہ ہی نہیں دو جہاں میں،
جس جگہ تیرا چرچا نہیں ہے۔

وہ بھی دل کوئی دل ہے جہاں میں،
جس میں تصویرِ طیبہ نہیں ہے۔

شدتِ غم سے جلتا ہے سینہ،
اب تو ہند میں مشکل ہے جینا،
جلدی آقا بلا لو مدینہ،
زندگی کا بھروسہ نہیں ہے۔

وہ بھی دل کوئی دل ہے جہاں میں،
جس میں تصویرِ طیبہ نہیں ہے۔

حج کی دولت جسے مل نہ پائے،
جائے، جائے وہ گھر اپنے جائے،
ماں کے قدموں کو وہ چوم لے جو،
سنگِ اسود کو چوما نہیں ہے۔

وہ بھی دل کوئی دل ہے جہاں میں،
جس میں تصویرِ طیبہ نہیں ہے۔

چاند، سورج، ستاروں کو دیکھا،
خُلد منظر، نظاروں کو دیکھا،
لوٹ آئی مگر میری نظریں،
کوئی بھی تیرے جیسا نہیں۔

وہ بھی دل کوئی دل ہے جہاں میں،
جس میں تصویرِ طیبہ نہیں ہے۔

آئے میری موت، رک جا ابھی تو،
پھر چلیں گے جہاں تو کہے گی،
اپنی مشکِ تصور میں طیبہ،
میں نے جی بھر کے دیکھا نہیں ہے۔

وہ بھی دل کوئی دل ہے جہاں میں،
جس میں تصویرِ طیبہ نہیں ہے۔

خاکِ پائے نبی منہ پہ مل لوں،
عطر ہو مصطفیٰ کا پسینہ،
ان کی چادر کا ٹکڑا کفن ہو،
اور کوئی تمنا نہیں ہے۔

وہ بھی دل کوئی دل ہے جہاں میں،
جس میں تصویرِ طیبہ نہیں ہے۔

ہم حسینی ہیں، کربل کے شیدا،
دل کبھی بھی نہ ہوتا ہے میلا،
کفر کی دھمکیوں سے ڈرے جو،
سنّیوں کا کلیجہ نہیں ہے۔

وہ بھی دل کوئی دل ہے جہاں میں،
جس میں تصویرِ طیبہ نہیں ہے۔

دشمنِ اعلیٰ حضرت سے کہہ دو،
خیر چاہے تو ہم سے نہ اُلجھے،
ہم غلامانِ اختر رضا ہیں،
کوئی بھی ہم سے جیتا نہیں ہے۔

وہ بھی دل کوئی دل ہے جہاں میں،
جس میں تصویرِ طیبہ نہیں ہے۔

کاش ہم بھی مدینے کو جاتے،
حالِ دل ان کو رو کر سناتے،
مفلسی سے ہے مجبور جامی،
ورنہ کس میں یہ جذبہ نہیں ہے۔

وہ بھی دل کوئی دل ہے جہاں میں،
جس میں تصویرِ طیبہ نہیں ہے۔

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ کلام عشقِ رسول ﷺ اور مدینہ منورہ کی تڑپ کا ایک پُر اثر اظہار ہے، جس میں شاعر اپنے دل کی ہر دھڑکن کو یادِ مصطفیٰ ﷺ سے منسوب کرتا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

شاعر کہتا ہے کہ وہ دل حقیقتاً دل کہلانے کے لائق ہی نہیں جس میں مدینہ کی یاد نہ بسی ہو۔ کائنات کی ہر شے آپ ﷺ کی ثناء خواں ہے اور زمین سے لے کر لامکاں تک کوئی ایسی جگہ نہیں جہاں آپ ﷺ کا تذکرہ اور چرچا موجود نہ ہو۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی
تصویرِ طیبہمدینہ منورہ کی یاد یا عکس
لا مکاںوہ مقام جو حدودِ وقت و فضا سے بلند ہو
رسائیپہنچ / رسائی حاصل ہونا
شدتِ غمدکھ کی زیادتی
مشکِ تصورسوچ اور خیال کی مشق
شیداعاشق / دیوانہ
مفلسیغریبی / ناداری
سنگِ اسودکعبہ کا مقدس سیاہ پتھر

خلاصہ (Summary)

اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ سچی راحت صرف ذکرِ احمد ﷺ میں پوشیدہ ہے۔ شاعر مدینہ جانے کی حسرت بیان کرتے ہوئے کہتا ہے کہ جو غریب حج کی سعادت نہیں پا سکتے، ان کے لیے ماں کے قدموں کو چومنا ہی حج کے برابر ثواب رکھتا ہے۔ آخر میں وہ اپنی ایمانی غیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ عاشقِ رسول ﷺ کبھی کفر کی دھمکیوں سے نہیں ڈرتا۔

ماں کے قدموں کو چومنے کو حج کے برابر قرار دینے والی بات، کیا آپ کو خدمتِ والدین کی عظمت کا احساس نہیں دلاتی؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں:

نمایاں آرٹسٹ/گیت نگار

سبھی دیکھیں