मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 59 بار دیکھا گیا
,
عنوان: یہ کس شہنشاہِ والا کی آمد آمد ہے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: حضور مفتی اعظم ای ہند مصطفی رضا خان نوری۔
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری مختلف/نامعلوم
شامل کیا گیا: 08 Apr, 2023 09:23 AM IST
دیکھا گیا: 424
Time to read: 3 min read
یہ کس شہنشاہِ والا کی آمد آمد ہے
بولو مرحبا، بولو مرحبا
بولو مرحبا، بولو مرحبا
یہ کون سے شاہِ بالا کی آمد آمد ہے
بولو مرحبا، بولو مرحبا
بولو مرحبا، بولو مرحبا
سرکار کی آمد مرحبا
دلدار کی آمد مرحبا
حضور کی آمد مرحبا
پُرنور کی آمد مرحبا
سب مل کر بولو مرحبا
یہ آج تارے زمیں کی طرف ہیں کیوں مائل
یہ آسماں سے پیہم ہے نور کیوں نازل
یہ آج کیا ہے زمانے نے رنگ بدلا ہے
یہ آج کیا ہے کہ عالم کا ڈھنگ بدلا ہے
یہ کس شہنشاہِ والا کی آمد آمد ہے
بولو مرحبا، بولو مرحبا
بولو مرحبا، بولو مرحبا
یہ آج کس کی شادی ہے عرش کیوں جھوما
لبِ زمیں کو لبِ آسماں نے کیوں چوما
یہ کس شہنشاہِ والا کی آمد آمد ہے
بولو مرحبا، بولو مرحبا
بولو مرحبا، بولو مرحبا
رسول اُنہی کا تو مژدہ سنانے آئے ہیں
اُنہی کے آنے کی خوشیاں منانے آئے ہیں
فرشتے آج جو دھومیں مچانے آئے ہیں
اُنہی کے آنے کی شادی رچانے آئے ہیں
یہ کس شہنشاہِ والا کی آمد آمد ہے
بولو مرحبا، بولو مرحبا
بولو مرحبا، بولو مرحبا
یہ بھولے بچھڑے کو رستے پہ لانے آئے ہیں
یہ بھولے بھٹکے کو ہادی بنانے آئے ہیں
یہ کس شہنشاہِ والا کی آمد آمد ہے
بولو مرحبا، بولو مرحبا
بولو مرحبا، بولو مرحبا
خداے پاک کے جلوے دکھانے آئے ہیں
دلوں کو نور کے بُقچے بنانے آئے ہیں
یہ کس شہنشاہِ والا کی آمد آمد ہے
بولو مرحبا، بولو مرحبا
بولو مرحبا، بولو مرحبا
چمک سے اپنی جہان جگمگانے آئے ہیں
مہک سے اپنی یہ کوچے بسانے آئے ہیں
یہ سیدھا راستہ حق کا بتانے آئے ہیں
یہ حق کے بندوں کو حق سے ملانے آئے ہیں
یہ کس شہنشاہِ والا کی آمد آمد ہے
بولو مرحبا، بولو مرحبا
بولو مرحبا، بولو مرحبا
نسیمِ فیض سے غنچے کھلانے آئے ہیں
کرم کی اپنی بہاریں دکھانے آئے ہیں
یہ کس شہنشاہِ والا کی آمد آمد ہے
بولو مرحبا، بولو مرحبا
بولو مرحبا، بولو مرحبا
یہی تو سوتے ہوؤں کو جگانے آئے ہیں
یہی تو روتے ہوؤں کو ہنسانے آئے ہیں
یہ کس شہنشاہِ والا کی آمد آمد ہے
بولو مرحبا، بولو مرحبا
بولو مرحبا، بولو مرحبا
ہزار سال کی روشن شدہ بجھی آتش
یہ کفر و شرک کی آتش بجھانے آئے ہیں
یہ کس شہنشاہِ والا کی آمد آمد ہے
بولو مرحبا، بولو مرحبا
بولو مرحبا، بولو مرحبا
انہیں خدا نے کیا اپنے ملک کا مالک
انہی کے قبضے میں رب کے خزانے آئے ہیں
جو چاہیں گے، جسے چاہیں گے، یہ اُسے دیں گے
کریم ہیں یہ، خزانے لٹانے آئے ہیں
یہ کس شہنشاہِ والا کی آمد آمد ہے
بولو مرحبا، بولو مرحبا
بولو مرحبا، بولو مرحبا
جو گر رہے تھے انہیں نصیبوں نے تھام لیا
جو گر چکے ہیں، یہ اُن کو اُٹھانے آئے ہیں
رؤف ایسے ہیں اور یہ رحیم ہیں اتنے
کہ گرتے پڑتے کو سینے لگانے آئے ہیں
یہ کس شہنشاہِ والا کی آمد آمد ہے
بولو مرحبا، بولو مرحبا
بولو مرحبا، بولو مرحبا
سب رسول نے کہا: "اِذھبوا الی غیری"
"انا لہا" کا یہ مژدہ سنانے آئے ہیں
عجب کرم کہ خود مجرموں کے حامی ہیں
گناہگاروں کی یہ بخشش کرانے آئے ہیں
یہ کس شہنشاہِ والا کی آمد آمد ہے
بولو مرحبا، بولو مرحبا
بولو مرحبا، بولو مرحبا
سنو گے "لا" نہ زبانِ کریم سے نوری
یہ فیض و جود کے دریا بہانے آئے ہیں
نصیب تیرا چمک اُٹھا، دیکھ تو نوری
عرب کے چاند لحد کے سرہانے آئے ہیں
یہ کس شہنشاہِ والا کی آمد آمد ہے
بولو مرحبا، بولو مرحبا
بولو مرحبا، بولو مرحبا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ خوبصورت اور پُر جوش نعتِ شریف عید میلاد النبی ﷺ کے مبارک موقع پر سرکارِ دو عالم ﷺ کی کائنات میں آمد کا ایک شاندار اور والہانہ تذکرہ ہے۔ اس میں حضورِ اکرم ﷺ کی ولادتِ با سعادت کے وقت زمین و آسمان پر ظاہر ہونے والی رونقوں اور امت پر آپ ﷺ کے احسانات کو بیان کیا گیا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ یہ دونوں جہان کے سب سے عظیم اور بلند مرتبہ بادشاہ (حضور ﷺ) کی تشریف آوری کا وقت ہے، جن کا استقبال کائنات کو 'مرحبا' کہہ کر کرنا چاہیے۔ شاعر کہتا ہے کہ آپ ﷺ کے آنے سے آسمان سے مسلسل نور برس رہا ہے، کفر و شرک کی ہزار سال سے جلتی ہوئی آگ بجھ گئی ہے، اور آپ ﷺ بھٹکے ہوئے انسانوں کو سیدھا راستہ دکھانے اور رب کے روحانی خزانے لٹانے تشریف لائے ہیں۔
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| شہنشاہِ والا | بلند مرتبے والا بادشاہ (مراد حضور ﷺ) |
| مژدہ | خوشخبری / مبارک باد |
| پیہم / نازل | لگاتار یا مسلسل / اترنا |
| ہادی | راستہ دکھانے والا / رہنما |
| بُقچے | گٹھڑی یا پوٹلی (مراد دلوں کا نور سے بھر جانا) |
| نسیمِ فیض | کرم اور برکت کی ٹھنڈی ہوا |
| حامی | مددگار / طرفداری کرنے والا یا رفیق |
| لحد | قبر / مزارِ مبارک |
اس کلام کا لبِ لباب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب ﷺ کو پوری کائنات کی رحمت اور خزانوں کا مالک بنا کر بھیجا ہے، جو روتے ہوؤں کو ہنسانے اور گرے ہوؤں کو سینے سے لگانے آئے ہیں۔ محشر کے دن جب تمام انبیاء اپنی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے "اِذھبوا الیٰ غیری" (کسی اور کے پاس جاؤ) کہیں گے، تب صرف محمد مصطفیٰ ﷺ ہی "انا لہا" (میں ہوں شفاعت کے لیے) کی مژدہ سنا کر گناہگاروں کا بیڑا پار لگائیں گے۔ شاعر 'نوری' کہتے ہیں کہ آقا ﷺ کی سخاوت کا یہ عالم ہے کہ وہ قبر (لحد) کے اندھیرے میں بھی اپنے سچے غلاموں کے سرہانے تشریف لا کر کرم فرماتے ہیں۔
قیامت اور قبر کے حوالے سے، شاعر 'نوری' نے نبی ﷺ کے 'انا لہا' کہنے اور 'لحد کے سرہانے' آنے کا کیا مطلب بیان کیا ہے؟