मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 2 دن پہلے fiber_manual_record 111 بار دیکھا گیا
,
عنوان: Ya Rasool Allah Ya Nabi Allah Ya Habib Allah
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: دانش داور (دانش ایف دار اور داور فاروق)
نعت خوان/ فنکار: دانش داور (دانش ایف دار اور داور فاروق)
شامل کیا گیا: 18 Apr, 2023 09:26 PM IST
دیکھا گیا: 1.3K
Time to read: 1 min read
translate بول کی زبان منتخب کریں:
is Mohabbat Ka Haq Na Ada Kar Sake
Sab Kiya Tune, Ham Kuchh Bhi Na Kar Sake
KHushk Sajde Kiye, KHoob Maatha Ghisa
Aur Peshaani Pe DaaG-e-sajda Pa.Da
Qalb DaaG-e-mohabbat Se KHaali Raha
Aise Maatha Ghisaane Se Kya Faaida
Allahu Rabbu Muhammadin
Salla 'alaihi Wa Sallama
Nahnu 'ibaadu Muhammadin
Salla 'alaihi Wa Sallama
Ya Nabiyallah ! Ya Habiballah !
Do Jahaa.n Ke Taajdaar Hai.n
Muhammad-ur-rasoolullah
Ya Nabiyallah ! Ya Habiballah !
Mahboob-e-parwardigaar Hai.n
Muhammad-ur-rasoolullah
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ عشقِ رسول ﷺ کی چاشنی میں ڈوبا ہوا ایک نہایت ہی خوبصورت، مقبول اور رقت آمیز ناتیہ کلام ہے، جس میں حضورِ اکرم ﷺ کی کائناتی اہمیت اور ان کے اپنی امت پر احسانات کا ذکر کیا گیا ہے۔
ان اشعار کا مطلب یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ دونوں جہانوں کے اصل مالک و حاکم (تاجدار) اور اللہ تعالیٰ کے سب سے لاڈلے محبوب ہیں۔ اگر آپ ﷺ کا وجودِ مسعود نہ ہوتا تو یہ کائنات ہی نہ بنائی جاتی، کیونکہ آپ ﷺ ہی اس پوری دنیا کی اصل روح اور جان ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ آپ ﷺ خدا تو نہیں ہیں، مگر خدا سے جدا بھی نہیں ہیں۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| تاجدار / پروردگار | بادشاہ یا حاکم / پالنے والا (اللہ تعالیٰ) |
| عالم / فدا | دنیا یا کائنات / قربان یا نثار ہونا |
| کشفَ الدجٰی | (آپ کے حسن نے) اندھیروں کو دور کر دیا |
| قلب / شوقِ طیبہ | دل / مدینہ منورہ جانے کی تڑپ اور چاہت |
| ورد | بار بار پڑھنا یا وظیفہ بنانا |
| طُرفہ دھوم دھام | انوکھی اور عجیب رونق یا چہل پہل |
اس نعتِ پاک کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ نیت اور دل میں عشقِ رسول ﷺ کے بغیر ظاہری عبادتیں، کلمے کی تلاوت، ماتھے پر سجدے کا نشان یا مکہ مکرمہ کی حاضری بے معنی ہے۔ آقا ﷺ نے شبِ معراج ربِ کریم سے ملاقات کے خاص لمحے میں بھی صرف اپنی امت کو یاد کیا اور "امتی امتی" پکارا، جس پر امت کبھی آپ کا شکر ادا نہیں کر سکتی۔ آخر میں شاعر دکھاوے کے خشک سجدوں کی نفی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ایمان کی اصل بنیاد دل کو نعت اور درود و سلام (صلو علیہ وآلہٖ) کے ذریعے عشقِ محمد ﷺ سے منور کرنا ہے۔
لیرکس کے مطابق، اگر دل میں کس کا عشق نہ ہو، تو کلمہ سننے اور سنانے سے کیا فائدہ؟