मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 2 دن پہلے fiber_manual_record 111 بار دیکھا گیا
,
عنوان: یا رسول اللہ یا نبی اللہ یا حبیب اللہ
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: دانش داور (دانش ایف دار اور داور فاروق)
نعت خوان/ فنکار: دانش داور (دانش ایف دار اور داور فاروق)
شامل کیا گیا: 18 Apr, 2023 09:26 PM IST
دیکھا گیا: 753
Time to read: 2 min read
یا نبی اللہ! یا حبیب اللہ!
دو جہاں کے تاجدار ہیں،
محمدُ الرسول اللہ ﷺ
یا نبی اللہ! یا حبیب اللہ!
محبوبِ پروردگار ہیں،
محمدُ الرسول اللہ ﷺ
وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا،
وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو،
جان ہیں وہ جہاں کی،
جان ہے تو جہاں ہے
یا نبی اللہ! یا حبیب اللہ!
دو جہاں کے تاجدار ہیں،
محمدُ الرسول اللہ ﷺ
یا نبی اللہ! یا حبیب اللہ!
محبوبِ پروردگار ہیں،
محمدُ الرسول اللہ ﷺ
آپ کی ہر ادا پہ ہے عالم فدا،
بلغَ العلیٰ بکمالِہٖ
نہ ہو خدا آپ، نہ ہو خدا سے جدا،
کشفَ الدجٰی بجمالِہٖ
ہر وقت میں یاد میں تیری رہوں،
حسنَت جمیعُ خصالِہٖ
ہر زباں سے یہ ورد کروں،
صلو علیہ وآلہٖ
دل میں عشقِ محمد نہیں ہے اگر،
کلمہ سننے سنانے سے کیا فائدہ
قلب میں شوقِ طیبہ نہیں ہے اگر،
مکّہ میں آنے جانے سے کیا فائدہ
عرش پہ تازہ چھیڑ چھاڑ،
فرش پہ طُرفہ دھوم دھام،
کان جدھر لگائیے،
تیری ہی داستان ہے
یا نبی اللہ! یا حبیب اللہ!
دو جہاں کے تاجدار ہیں،
محمدُ الرسول اللہ ﷺ
آپ کا غمِ اُمت میں رونا،
ساری اُمت کی قسمت کو کھول گیا
آپ ہی کی زباں سے اللہ،
دینِ حق سارے عالم میں بول گیا
ذکرِ اُمت ملاقاتِ رب میں بھی تھا،
"میری اُمت"، بس "اُمت ہی اُمت" کہا
اس محبت کا حق نہ ادا کر سکے،
سب کچھ کیا تُو نے، ہم کچھ بھی نہ کر سکے
خشک سجدے کیے، خوب ماتھا گھسا،
اور پیشانی پہ داغِ سجدہ پڑا
قلب داغِ محبت سے خالی رہا،
ایسے ماتھا گھسانے سے کیا فائدہ
اللّٰہُ ربُّ محمدٍ،
صلّی علیہ وسلّما،
نحنُ عبادُ محمدٍ،
صلّی علیہ وسلّما
یا نبی اللہ! یا حبیب اللہ!
دو جہاں کے تاجدار ہیں،
محمدُ الرسول اللہ ﷺ
یا نبی اللہ! یا حبیب اللہ!
محبوبِ پروردگار ہیں،
محمدُ الرسول اللہ ﷺ
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ عشقِ رسول ﷺ کی چاشنی میں ڈوبا ہوا ایک نہایت ہی خوبصورت، مقبول اور رقت آمیز ناتیہ کلام ہے، جس میں حضورِ اکرم ﷺ کی کائناتی اہمیت اور ان کے اپنی امت پر احسانات کا ذکر کیا گیا ہے۔
ان اشعار کا مطلب یہ ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ دونوں جہانوں کے اصل مالک و حاکم (تاجدار) اور اللہ تعالیٰ کے سب سے لاڈلے محبوب ہیں۔ اگر آپ ﷺ کا وجودِ مسعود نہ ہوتا تو یہ کائنات ہی نہ بنائی جاتی، کیونکہ آپ ﷺ ہی اس پوری دنیا کی اصل روح اور جان ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ آپ ﷺ خدا تو نہیں ہیں، مگر خدا سے جدا بھی نہیں ہیں۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| تاجدار / پروردگار | بادشاہ یا حاکم / پالنے والا (اللہ تعالیٰ) |
| عالم / فدا | دنیا یا کائنات / قربان یا نثار ہونا |
| کشفَ الدجٰی | (آپ کے حسن نے) اندھیروں کو دور کر دیا |
| قلب / شوقِ طیبہ | دل / مدینہ منورہ جانے کی تڑپ اور چاہت |
| ورد | بار بار پڑھنا یا وظیفہ بنانا |
| طُرفہ دھوم دھام | انوکھی اور عجیب رونق یا چہل پہل |
اس نعتِ پاک کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ نیت اور دل میں عشقِ رسول ﷺ کے بغیر ظاہری عبادتیں، کلمے کی تلاوت، ماتھے پر سجدے کا نشان یا مکہ مکرمہ کی حاضری بے معنی ہے۔ آقا ﷺ نے شبِ معراج ربِ کریم سے ملاقات کے خاص لمحے میں بھی صرف اپنی امت کو یاد کیا اور "امتی امتی" پکارا، جس پر امت کبھی آپ کا شکر ادا نہیں کر سکتی۔ آخر میں شاعر دکھاوے کے خشک سجدوں کی نفی کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ایمان کی اصل بنیاد دل کو نعت اور درود و سلام (صلو علیہ وآلہٖ) کے ذریعے عشقِ محمد ﷺ سے منور کرنا ہے۔
لیرکس کے مطابق، اگر دل میں کس کا عشق نہ ہو، تو کلمہ سننے اور سنانے سے کیا فائدہ؟