मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 43 بار دیکھا گیا
,
عنوان: وہ شہرے محبّت جہاں مصطفیٰ ہے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: شاہد رضا اشرفی
شامل کیا گیا: 09 Feb, 2023 12:36 PM IST
دیکھا گیا: 18.6K
Time to read: 1 min read
وہ شہرے محبّت جہاں مصطفیٰ ہے
وہی گھر بنانے کو جی چاہتا ہے
وہ سونے سے کنکر وہ سونے سے مٹی
نظر میں بسانے کو دل چاہتا ہے
جو پوچھا نبی نے کے کچھ گھر بھی چھوڑا
تو صددق اکبر کے ہونٹو پے آیا
وہا مال و دولت کی کیا ہے حقیقت
جہاں جان لٹانے کو دل چاہتا ہے
وہ ننھا سا اصغر ایڈی رگڈ کر
یہی کہ رہا ہے وہ خیمے میں روکر
اے بابا میں پانی کا پیاسا نہیں ہوں
میرا سر کٹانے کو دل چاہتا ہے
ستاروں سے یہ چاند کہتا ہے ہر دم
تمہے کیا بتاے وہ ٹکڈو کا عالم
اشارے میں آقا کے اتنا مزا تھا
کے پھر ٹوٹ جانے کو دل چاہتا ہے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ ایک انتہائی پُرعقیدت اور خوبصورت کلام ہے جس میں مدینہ منورہ کی پاک دھرتی سے محبت، غزوۂ تبوک کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیقؓ کی لازوال قربانی، معصومِ کربلا حضرت علی اصغرؑ کا جذبۂ شہادت اور سرکارِ دو عالم ﷺ کے ایک عظیم الشان معجزے کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
ان ایمان افروز اشعار کا مطلب ہے کہ "میرا دل تڑپتا ہے کہ اس شہرِ محبت (مدینہ شریف) میں اپنا مستقل آشیانہ بنا لوں جہاں ہمارے آقا محمد مصطفیٰ ﷺ جلوہ افروز ہیں اور وہاں کی سونے جیسی قیمتی مٹی اور کنکروں کو اپنی آنکھوں کا سرمہ بنا لوں۔" شاعر کہتا ہے کہ جہاں عشقِ رسول ﷺ میں اپنی جان تک قربان کرنے کا جذبہ موجود ہو، وہاں دنیاوی مال و دولت کی کوئی اوقات یا حقیقت باقی نہیں رہتی۔
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| شہرِ محبت | عشق و محبت کی نگری (مراد مدینہ منورہ) |
| صدیقِ اکبرؓ | حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ (حضور ﷺ کے یارِ غار اور پہلے خلیفہ) |
| حقیقت | اصل قیمت، اہمیت یا اوقات |
| اصغرؑ / خیمے | حضرت علی اصغر علیہ السلام (امام حسینؑ کے ۶ ماہ کے معصوم فرزند) / تंबू یا ڈیرے |
| عالم | منظر، کیفیت، حالت یا سماں |
| معجزہ | وہ حیرت انگیز کام جو اللہ کی مدد سے نبی سے ظاہر ہو (جیسے چاند کے دو ٹکڑے ہونا) |
اس کلامِ بلاغت نظام کا لبِ لباب یہ ہے کہ ایک سچے مومن کے لیے عشقِ مصطفیٰ ﷺ ہی کائنات کا سب سے بڑا سرمایہ ہے، جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ نے پوچھا جانے پر عرض کیا تھا کہ وہ گھر میں صرف 'اللہ اور اس کا رسول ﷺ' چھوڑ آئے ہیں۔ کلام میں میدانِ کربلا کا دردناک تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ۶ ماہ کے ننھے علی اصغرؑ پیاس سے خیمے میں ایڑیاں رگڑتے ہوئے بھی دینِ اسلام کی خاطر اپنا سر کٹانے کا بے مثال حوصلہ رکھتے ہیں۔ آخر میں حضور ﷺ کے معجزۂ 'شقِ قمر' (چاند کے دو ٹکڑے کرنے) کا ذکر کرتے ہوئے چاند ستاروں سے کہتا ہے کہ آقا ﷺ کی انگلی کے اشارے میں ایسا روحانی لطف تھا کہ میرا دل چاہتا ہے میں دوبارہ ان کے اشارے پر ٹوٹ کر بکھر جاؤں۔
لیرکس کے آخری حصے کے مطابق، چاند نے ستاروں سے نبی ﷺ کے کس معجزے کا ذکر کیا ہے؟