मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 49 بار دیکھا گیا
,
عنوان: واہ! کیا جود و کرم ہے شہِ بطحا تیرا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا
نعت خوان/ فنکار: سجّاد نظامی (مرہوم)
شامل کیا گیا: 10 Jun, 2023 03:47 AM IST
دیکھا گیا: 555
Time to read: 2 min read
واہ! کیا جود و کرم ہے شہِ بطحا تیرا
نہیں سنتا ہی نہیں مانگنے والا تیرا
میں تو "مالک" ہی کہوں گا کہ ہے "مالکِ حبیب"
یعنی محبوب و محب میں نہیں میرا تیرا
تیرے ٹکڑوں پہ پلے غیر کی ٹھوکر نہ کھائے
جھڑکیاں کھائے کہاں چھوڑ کے صدقہ تیرا
تیرے قدموں میں جو ہے غیر کا منہ کیا دیکھے
کون نظروں پہ چڑھے دیکھ کے تلوہ تیرا
دھارے چلتے ہیں عطا کے وہ ہے قطرہ تیرا
تارے کھلتے ہیں سخا کے وہ ہے ذرہ تیرا
فیض ہے یا شہِ تسنیم نرالا تیرا
آپ پیاسوں کے تجسس میں ہے دریا تیرا
آگنیاں پلتی ہیں در سے وہ ہے بڑا تیرا
اصفیا چلتے ہیں سر سے وہ ہے رستہ تیرا
فرش والے تری شوکت کا عُلو کیا جانے
خُسروَ اَرش پہ اُڑتا ہے فَراَرا تیرا
آسماں خواں، زمیں خواں، زمانہ مہماں
صاحبِ خانہ لقب کس کا ہے؟ تیرا تیرا!
بحرِ سَیل کا ہوں، سَیل، نہ کوئے کا پیاسا
خود بُجھا جائے کلیجہ میرا چیتا تیرا
چور حاکم سے چھپا کرتا ہے یا اُس کے خلاف
تیرے دامن میں چھپے چور، انوکھا تیرا
سچے سورج وہ دل آرا ہے اُجالا تیرا
ایک میں کیا، میرے عِصیان کی حقیقت کتنی؟
مجھ سے سو لاکھ کو کافی ہے اشارہ تیرا
مفت پالا تھا کبھی کام کی عادت نہ پڑی
اب عمل پوچھتے ہیں — ہائے نکمّا تیرا
تیرے ٹکڑوں سے پلے، غیر کی ٹھوکر میں نہ ڈال
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلامِ رضا اردو نعت گوئی کی تاریخ کا ایک بے مثال اور لافانی شاہکار ہے، جس میں امامِ اہل سنت اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا خان بریلوی نے تاجدارِ مدینہ ﷺ کی بے حد و حساب سخاوت، جود و عطا اور کائنات میں ان کی مرکزی حیثیت کا والہانہ ذکر کیا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ مکہ کے سلطان (شہِ بطحا) ﷺ کی سخاوت اور دریا دلی اتنی عظیم ہے کہ آپ کے در پر آنے والا کوئی بھی سائل کبھی 'نہیں' کا لفظ نہیں سنتا، یعنی کوئی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔ شاعر عرض کرتا ہے کہ اے آقا! ہم زندگی بھر آپ ہی کی چوکھٹ کے ٹکڑوں پر پلے ہیں، اب ہمیں زمانے کی ٹھوکروں میں نہ ڈالنا کیونکہ آپ کا در چھوڑ کر ہمارے لیے کوئی اور پناہ گاہ نہیں ہے۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| جود و کرم | سخاوت، فیاضی اور مہربانی |
| شہِ بطحا | مکہ کے بادشاہ (مراد نبی کریم ﷺ) |
| عُلو | بلندی، عظمت یا رفعت |
| فَراَرا | پرچم یا جھنڈا |
| خواں / صاحبِ خانہ | دسترخوان / گھر کا مالک یا میزبان |
| عِصیان | گناہ، خطائیں یا نافرمانیاں |
| آگنیاں / اصفیا | مالدار لوگ / صوفیا، اولیاء اور پاکیزہ نفوس |
اس لازوال نعتِ پاک کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ حضور سرورِ کائنات ﷺ اس پوری کائنات کے میزبانِ اعظم ہیں، جہاں زمین و آسمان ان کا دسترخوان اور ساری مخلوق ان کی مہمان ہے۔ شاعر نہایت عاجزی سے اپنے گناہوں اور نکمے پن کا اعتراف کرتا ہے، مگر اسے یہ پختہ یقین ہے کہ آقا ﷺ کا ایک ادنیٰ سا اشارہ اس جیسے لاکھوں گناہگاروں کی بخشش اور بیڑا پار لگانے کے لیے کافی ہے۔ نعت کا محور یہ عقیدہ ہے کہ ربِ کریم نے کائنات کی ہر نعمت اپنے حبیب ﷺ کے ہاتھوں میں سونپ دی ہے، اسی لیے پوری دنیا انھی کے دربار سے فیض پاتی ہے۔
لیرکس کے مطابق، نبی ﷺ کے دربار سے کون سا شخص کبھی 'نہیں' (ناامید) ہو کر نہیں لوٹتا؟