اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے
- 1 مہینہ پہلے fiber_manual_record 117 بار دیکھا گیا
,
عنوان: اُٹھا دو پردہ، دکھا دو چہرہ کہ نورِ باری حجاب میں ہے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 08 Aug, 2023 02:19 PM IST
دیکھا گیا: 249
Time to read: 2 min read
اُٹھا دو پردہ، دکھا دو چہرہ کہ نورِ باری حجاب میں ہے،
زمانہ تاریک ہو رہا ہے کہ مہر کب سے نقاب میں ہے
نہیں وہ میٹھی نگاہ والا، خدا کی رحمت ہے جلوہ فرما،
غضب سے اُن کے خدا بچائے، جلالِ باری عتاب میں ہے
جلی جلی بُو سے اُس کی پیدا ہے سوزشِ عشقِ چشمِ والا،
کبابِ آہُو میں بھی نہ پایا مزہ جو دل کے کباب میں ہے
اُنہی کی بُو مایۂ سامان ہے، اُنہی کا جلوہ چمن چمن ہے،
اُنہی سے گلشن مہک رہے ہیں، اُنہی کی رنگت گلاب میں ہے
تری جلو میں ہے ماہِ طیبہ، ہلال ہر مرغِ زندگی کا،
حیات جاں کا رکاب میں ہے، مماتِ ادا کا داب میں ہے
سیاہ لِباسانِ دارِ دنیا و سبز پوشانِ عرشِ اعلیٰ،
ہر ایک ہے اُن کے کرم کا پیاسا، یہ فیض اُن کی جناب میں ہے
وہ غل ہے لب ہائے نازک اُن کے، ہزاروں جھڑتے ہیں پھول جن سے،
گلاب گلشن میں دیکھے بُلبُل، یہ دیکھ گلشن گلاب میں ہے
جلی ہے سوزِ جگر سے جاں تک ہے طالبِ جلوۂ مبارک،
دکھا دو وہ لب کی آبِ حیواں کا لطف جن کے خطاب میں ہے
کھڑے ہیں منکر نکیر سر پر، نہ کوئی حامی نہ کوئی یاور،
بتا دو آ کر مرے پیامبر کہ سخت مشکل جواب میں ہے
خداۓ خیر ہے غضب پر، کھلے ہیں بدکاریوں کے دفتر،
بچا لو آ کر شفیعِ محشر، تمہارا بندہ عذاب میں ہے
کریم ایسا ملا کہ جس کے کھلے ہیں ہاتھ اور بھرے خزانے،
بتاؤ اے مفلسو کہ پھر کیوں تمہارا دل اضطراب میں ہے
گناہ کی تاریکیاں یہ چھائی، اُمڈ کے کالی گھٹا آئی،
خدا کے خورشیدِ مہر فرما کا ذرّہ بس اضطراب میں ہے
کریم اپنے کرم کا صدقہ، لائمی بے قدر کو نہ شرما،
تو اور رضا سے حساب لینا، رضا بھی کوئی حساب میں ہے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام امام احمد رضا خان فاضلِ بریلوی کی ایک شاہکار نعت ہے، جس میں حضور اکرم ﷺ کی نورانیت اور روزِ محشر و قبر میں آپ ﷺ کی شفاعت (سفارش) کی پُردرد التجا کی گئی ہے۔
اس کلام کا مطلب ہے کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! اپنے چہرہِ انور سے پردہ ہٹا دیجیئے کیونکہ آپ ﷺ ہی اللہ کا وہ اصل نور ہیں جس کے بغیر دنیا اندھیر ہو رہی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ قبر میں منکر نکیر کے سوالوں کے وقت اور میدانِ حشر میں جب گناہوں کا حساب ہوگا، تو آپ ﷺ کی ایک آمد ہی تمام مشکلوں کو حل کر دے گی۔
| لفظ | معنی (Hindi/English) |
|---|---|
| نورِ باری | اللہ کا نور / Divine Light |
| مہر | سورج / Sun |
| عتاب | ناراضگی یا غصہ / Wrath |
| آبِ حیواں | زندگی بخشنے والا پانی / Elixir of Life |
| شفیعِ محشر | قیامت کے دن سفارش کرنے والے / Intercessor |
| اضطراب | بے چینی / Restlessness |
| لائمی | گنہگار یا کمینہ / Sinner |
نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ کائنات کی تمام رونقیں اور خوشبوئیں حضور ﷺ ہی کے دم قدم سے ہیں۔ شاعر 'رضا' عرض کرتے ہیں کہ جب گناہوں کی گھٹائیں چھا جائیں اور حساب کتاب کی سختی ہو، تو اے کریم آقا ﷺ! اپنے اس بے قدرے بندے کی لاج رکھ لینا، کیونکہ آپ ﷺ کے جود و سخا کے خزانے ہر مفلس و گنہگار کے لیے کھلے ہیں۔
شاعر نے قبر میں منکر نکیر کے سوالوں کے وقت حضور ﷺ سے کیا درخواست کی ہے؟