मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 مہینہ پہلے fiber_manual_record 417 بار دیکھا گیا
,
عنوان: تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہوگا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 07 Aug, 2023 09:04 AM IST
دیکھا گیا: 620
Time to read: 3 min read
تمہارا نام مصیبت میں جب لیا ہوگا،
ہمارا بگڑا ہوا کام بن گیا ہوگا۔
گنہگار پہ جب لطف آپ کا ہوگا،
کیے بغیر کیا بے کیا کیا ہوگا۔
خدا کا لطف ہوا ہوگا دستگیر ضرور،
جو گرتے گرتے تیرا نام لے لیا ہوگا۔
دکھائی جائے گی محشر میں شانِ محبوبی،
کہ آپ ہی کی خوشی آپ کا کہا ہوگا۔
خداے پاک کی چاہیں گے اگلے پچھلے خوشی،
خداے پاک خوشی ان کی چاہتا ہوگا۔
کسی کے پاؤں کی بیڑی یہ کٹے ہوں گے،
کوئی اسیرِ غم ان کو پکارتا ہوگا۔
کسی طرف سے صدا آئے گی حضور آؤ،
نہ ہو تو دم میں غریبوں کا فیصلہ ہوگا۔
کسی کے پلے پہ یہ ہوں گے وقتِ وزنِ عمل،
کوئی امید سے منہ ان کا تک رہا ہوگا۔
کوئی کہے گا دہائی ہے یا رسول اللہ،
تو کوئی تھام کے دامن مچل گیا ہوگا۔
کسی کو لے کے چلیں گے فرشتے سوئے جہیم،
وہ ان کا راستہ پھر پھر کے دیکھتا ہوگا۔
شکستہ پا ہوں میرے حال کی خبر کر دو،
کوئی یہ رو رو کے کہہ رہا ہوگا۔
خدا کے واسطے جلد ان سے عرضِ حال کرو،
کِسے خبر ہے کہ دم بھر میں ہائے کیا ہوگا۔
پکڑ کے ہاتھ کوئی حالِ دل سنائے گا،
تو رو کے قدموں سے کوئی لپٹ گیا ہوگا۔
زبان سوکھی دکھا کر کوئی لبِ کوثر،
جنابِ پاک کے قدموں پہ گر گیا ہوگا۔
نشانِ خوش رُوئے دی دور کے غلاموں کو،
لواءِ حمد کا پرچم بتا رہا ہوگا۔
کوئی قریبِ ترازو کوئی لبِ کوثر،
کوئی صراط سے ان کو پکارتا ہوگا۔
یہ بے قرار کرے گی صدا غریبوں کی،
مقدس آنکھوں سے تارِ اشک کا بندھا ہوگا۔
وہ پاک دل کے نہیں جس کو اپنا اندیشہ،
ہجومِ فکر و تردد میں گھر گیا ہوگا۔
ہزار جان فدا نرم نرم پاؤں سے،
پکار سن کے اسیروں کی دوڑتا ہوگا۔
عزیز بچے کو ماں جس طرح تلاش کرے،
خدا گواہ وہی حال آپ کا ہوگا۔
خدائی بھر انہی ہاتھوں کو دیکھتی ہوگی،
زمانہ بھر انہی قدموں پہ لوٹتا ہوگا۔
بنی ہے دم پہ دہائی ہے تاج والے کی،
یہ غل یہ شور یہ ہنگامہ جا بجا ہوگا۔
مقام فاصلوں پر کام مختلف اتنے،
یہ دن ظہورِ کمالِ حضور کا ہوگا۔
کہیں گے اور نبی “اِذھَبوا اِلی غیری”،
میرے حضور کے لب پر “اَنا لَہا” ہوگا۔
دعاے امتِ بدکار وردِ لب ہوگی،
خدا کے سامنے سجدے میں سر جھکا ہوگا۔
غلام ان کی عنایت سے چین میں ہوں گے،
عدو حضور کا آفت میں مبتلا ہوگا۔
میں ان کے در کا بھکاری ہوں فضلِ مولا سے،
حسن فقیر کا جنت میں بسترہ ہوگا۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ نعتِ پاک میدانِ محشر کے ہولناک اور نفسی نفسی کے عالم کا نقشہ کھینچتی ہے، جہاں حضور ﷺ اپنی امت کے گناہگاروں کو عذابِ الٰہی سے بچانے کے لیے بے قرار ہوں گے اور ان کی شفاعت فرمائیں گے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ دنیا و آخرت کی ہر مصیبت میں حضور ﷺ کا نام لیتے ہی بگڑے کام بن جاتے ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ قیامت کے دن جب گناہگاروں کو جہنم (سوئے جہیم) کی طرف لے جایا جا رہا ہوگا، تب حضور ﷺ ایک ماں کی طرح تڑپ کر اپنے غلاموں کو ڈھونڈیں گے اور اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہو کر ان کی بخشش کروائیں گے۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| دستگیر | مددگار / ہاتھ پکڑ کر سہارا دینے والا |
| اسیرِ غم | غم کا قیدی / مصیبت زدہ |
| سوئے جہیم | جہنم کی طرف |
| شکستہ پا | تھکا ہوا / جس کے پاؤں زخمی یا بے دم ہوں |
| لبِ کوثر | حوضِ کوثر کا کنارہ |
| تردد | فکر / تشویش / الجھن |
| اِذھَبوا اِلی غیری | "کسی اور کے پاس جاؤ" (دیگر انبیاء کے الفاظ) |
| اَنا لَہا | "میں ہوں اس کام (شفاعت) کے لیے" (حضور ﷺ کے الفاظ) |
| عدو | دشمن / مخالف |
محشر کی سخت گھڑی میں جب نفسی نفسی کا عالم ہوگا اور دیگر تمام انبیاء "اِذھَبوا اِلی غیری" کہہ کر معذرت کریں گے، تب صرف ہمارے آقا ﷺ "اَنا لَہا" فرما کر امت کی شفاعت کے لیے آگے بڑھیں گے۔ شاعر 'حسن' (حسن رضا خان) کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کے اسی رحم و کرم کی بدولت مجھ جیسے ادنیٰ بھکاری کا ٹھکانا بھی جنت میں یقینی ہوگا۔
قیامت کے دن جب باقی نبی "اذھبو الیٰ غیری" کہیں گے، تب حضور ﷺ کے مبارک لبوں پر کون سے الفاظ ہوں گے؟