اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے
- 1 مہینہ پہلے fiber_manual_record 117 بار دیکھا گیا
,
عنوان: تو کجا من کجا، تو کجا من کجا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 08 Aug, 2023 12:44 PM IST
دیکھا گیا: 438
Time to read: 1 min read
تو کجا من کجا، تو کجا من کجا
تو امیرِ حرم، میں فقیرِ عجم
ترے گن اور یہ لب، میں طلب ہی طلب
تو عطا ہی عطا، تو کجا من کجا
تو کجا من کجا، تو کجا من کجا
الہام ہے جامہ ترا
قرآن امامہ ہے ترا
منبر ترا عرشِ برین
یا رحمتُ للعالمین
تو کجا من کجا، تو کجا من کجا
تو حقیقت ہے، میں صرف احساس ہوں
تو سمندر، میں بھٹکی ہوئی پیاس ہوں
میرا گھر خاک پر اور تیری رہ گزر
سدرة المنتہیٰ، تو کجا من کجا
تو کجا من کجا، تو کجا من کجا
اے فرشتو! وہ سلطانِ معراج ہیں
تم جو دیکھو گے حیران ہو جاؤ گے
زلف تفسیرِ واللیل بن جائے گی
چہرہ قرآن سارا نظر آئے گا
تو کجا من کجا، تو کجا من کجا
میرا آقا امامِ صافِ انبیا
نام پہ جن کے لازم ہے صلِّ علیٰ
تو کجا من کجا، مصطفٰی مجتبیٰ
خاتم المرسلین، یا رحمتُ للعالمین
تو کجا من کجا، تو کجا من کجا
خیرالبشر رتبہ ترا
آوازِ حق خطبہ ترا
آفاق ترے سمائیں
سائس جبریلِ امین
یا رحمتُ للعالمین
تو کجا من کجا، تو کجا من کجا
تو ہے احرامِ انوار باندھے ہوئے
میں درودوں کی دستار باندھے ہوئے
کعبۂ عشق تو، میں ترے چار سو
تو اثر میں دعا، تو کجا من کجا
تو کجا من کجا، تو کجا من کجا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ مظفر وارسی صاحب کا لکھا ہوا کائنات کا مقبول ترین کلام ہے، جس میں انہوں نے حضور نبیِ کریم ﷺ کی بے مثل اور بلند ترین عظمت کے سامنے اپنی عاجزی، کمتری اور بے بسی کا اعتراف نہایت خوبصورت انداز میں کیا ہے۔
اس کلام کا بنیادی مفہوم ہے، "آپ کہاں اور میں کہاں!" یعنی آپ ﷺ تو حرم کے مالک، کائنات کے سلطان اور عطا کے سمندر ہیں جبکہ میں عجم کا ایک معمولی فقیر ہوں جس کے پاس صرف خواہشیں اور التجائیں ہیں۔ شاعر کہتا ہے کہ آپ ﷺ ایک لازوال حقیقت ہیں اور میری حیثیت ایک احساس سے زیادہ نہیں؛ آپ ﷺ کی راہ گزر آسمانوں کی آخری سرحد (سدرۃ المنتہیٰ) ہے جبکہ میرا ٹھکانہ مٹی پر ہے۔
| الفاظ (Word) | معنی (Urdu / English Meaning) |
|---|---|
| تو کجا من کجا | آپ کہاں اور میں کہاں (Where are You & Where am I) |
| امیرِ حرم | حرم کے مالک یا سلطان (Master of the Sanctuary) |
| فقیرِ عجم | غیر عرب دنیا کا ایک ادنا فقیر (Helpless person) |
| الہام | غیب سے دل میں آنے والی بات یا وحی (Divine Revelation) |
| عرشِ بریں | سب سے اونچا آسمان یا خدا کا تخت (The Highest Heaven) |
| سدرۃ المنتہیٰ | ساتویں آسمان پر وہ مقام جس سے آگے فرشتوں کی رسائی بھی نہیں |
| تفسیرِ واللیل | سورہ 'واللیل' (رات کی قسم) کی وضاحت — یہاں حضور ﷺ کی زلفوں کی تشبیہ ہے |
| خیر البشر | تمام انسانوں میں سب سے بہترین اور افضل (The best of mankind) |
| آفاق / سمائیں | کائنات یا سمتیں / سننے والے (Horizons / Listeners) |
| سائس | خدمتگار یا نگران (Groom / Caretaker) |
| دستار | پگڑی یا عمامہ (Turban) |
| چار سو | چاروں طرف یا ہر سمت (In all four directions) |
حضور رحمت اللعالمین ﷺ کا مرتبہ انسانی سوچ اور وہم و گمان سے کہیں بلند ہے، جہاں حضرت جبرئیلِ امین (ع) آپ ﷺ کے خادم ہیں اور آپ ﷺ کا منبر عرشِ بریں ہے۔ اس نعت میں بتایا گیا ہے کہ آپ ﷺ کا نورانی چہرہ مکمل قرآن کی مانند ہے اور آپ ﷺ کی زلفیں رات کے اندھیرے جیسی حسین ہیں۔ ایک گناہ گار اور ادنا انسان کی بساط صرف اتنی ہے کہ وہ درود و سلام کا نذرانہ پیش کر کے آپ ﷺ کی رحمتِ بے کراں سے اپنے دل کی پیاس بجھانے کی دعا کرے۔
اس کلام کے مطابق، شاعر نے حضور ﷺ کے چہرے اور ان کی زلفوں کو قرآن کی کس سورت یا تفسیر سے تشبیہ (موازنہ) دی ہے؟