मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 6 دن پہلے fiber_manual_record 199 بار دیکھا گیا
,
عنوان: تیرا خاواں میں تیرے گیت گاواں یا رسول اللہ
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: محمد علی ظہوری
نعت خوان/ فنکار: فرحان علی قادری اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 16 Sep, 2023 05:51 AM IST
دیکھا گیا: 280
Time to read: 2 min read
تیرا خاواں میں تیرے گیت گاواں، یا رسول اللہ!
تیرا میلاد میں کیوں نہ مناواں، یا رسول اللہ!
حلیمہ گھر کدی ویکھے، کدی سرکار نوں ویکھے
میں کہ دی سیج تیرے لئی سجاؤں، یا رسول اللہ!
تیرا میلاد میں کیوں نہ مناواں، یا رسول اللہ!
تیرا خاواں میں تیرے گیت گاواں، یا رسول اللہ!
تیرا میلاد میں کیوں نہ مناواں، یا رسول اللہ!
میرا دل وی ایہ چاہندا اے تُسی میرے وی گھر آؤ
تیری راہواں دے وِچ پلکاں وچھاواں، یا رسول اللہ!
تیرا میلاد میں کیوں نہ مناواں، یا رسول اللہ!
تیرا خاواں میں تیرے گیت گاواں، یا رسول اللہ!
تیرا میلاد میں کیوں نہ مناواں، یا رسول اللہ!
جگاٶ بھاگ میرے وی ابو ایوب دے ونگوں
مقدر اُس دا میں کتھوں لیاواں، یا رسول اللہ!
تیرا میلاد میں کیوں نہ مناواں، یا رسول اللہ!
تیرا خاواں میں تیرے گیت گاواں، یا رسول اللہ!
تیرا میلاد میں کیوں نہ مناواں، یا رسول اللہ!
میں کجھ وی نئیں جے تیرے نال میری کوئی نسبت نئیں
میں سب کجھ ہاں جے میں تیرا صداواں، یا رسول اللہ!
تیرا میلاد میں کیوں نہ مناواں، یا رسول اللہ!
تیرا خاواں میں تیرے گیت گاواں، یا رسول اللہ!
تیرا میلاد میں کیوں نہ مناواں، یا رسول اللہ!
سنا ہے آپ ہر عاشق کے گھر تشریف لاتے ہیں
میرے گھر میں بھی ہو جائے چراغاں، یا رسول اللہ!
تیرا میلاد میں کیوں نہ مناواں، یا رسول اللہ!
تیرا خاواں میں تیرے گیت گاواں، یا رسول اللہ!
تیرا میلاد میں کیوں نہ مناواں، یا رسول اللہ!
مدینے پاک دے اندر میری ایہو عبادت اے
تےرے روضے توں نہ نظران ہٹاؤاں، یا رسول اللہ!
تیرا میلاد میں کیوں نہ مناواں، یا رسول اللہ!
تیرا خاواں میں تیرے گیت گاواں، یا رسول اللہ!
تیرا میلاد میں کیوں نہ مناواں، یا رسول اللہ!
کوئی تعریف ہووے اوس سوہنے دی، ظہوری وی
قلم جامی دا میں کتھوں لیاواں، یا رسول اللہ!
تیرا میلاد میں کیوں نہ مناواں، یا رسول اللہ!
تیرا خاواں میں تیرے گیت گاواں، یا رسول اللہ!
تیرا میلاد میں کیوں نہ مناواں، یا رسول اللہ!
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ نعتِ رسول ﷺ عقیدت اور محبت کا ایک حسین گلدستہ ہے، جس میں ایک امتی اپنی تمام تر خوشیوں اور پہچان کو حضور ﷺ کی ذاتِ مبارکہ سے منسوب کرتا ہے۔
ان اشعار میں شاعر عرض کرتا ہے کہ جب میرا رزق اور میری زندگی آپ ﷺ کے صدقے میں ہے، تو میں آپ ﷺ کی آمد کا جشن کیوں نہ مناؤں۔ شاعر کی تمنا ہے کہ جس طرح حضرت ابو ایوب انصاریؓ کو آپ ﷺ کی میزبانی کا شرف ملا، کاش میرا نصیب بھی ویسا ہی ہو جائے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| خاواں / گاواں | کھاتا ہوں / گاتا ہوں (پنجابی) |
| سیج | بستر یا بچھونا |
| بھاگ | قسمت یا نصیب |
| نسبت | تعلق یا رشتہ |
| چراغاں | روشنی یا چراغ جلانا |
| سداواں | کہلاؤں یا پکارا جاؤں |
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان کی اپنی کوئی حقیقت نہیں، اس کا وقار صرف حضور ﷺ کی غلامی اور نسبت میں ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ مدینہ پاک میں آپ ﷺ کے روضہ مبارک کو تکتے رہنا ہی اصل عبادت ہے، اور چاہے میرے پاس حضرت جامیؒ جیسا بلند پایہ قلم نہ ہو، مگر آپ ﷺ کی نعت خوانی ہی میری زندگی کا حاصل ہے۔
اس نعت میں شاعر نے اپنی قسمت جگانے کے لیے کس مشہور صحابی کی مثال دی ہے؟