اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے
- 1 مہینہ پہلے fiber_manual_record 117 بار دیکھا گیا
,
عنوان: طیبہ میں لاگَل باٹے نُوری بازار ہو
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: علی حیدر فیضی لکھن پوری
نعت خوان/ فنکار: علی حیدر فیضی لکھن پوری
شامل کیا گیا: 07 Sep, 2025 09:07 AM IST
دیکھا گیا: 168
Time to read: 1 min read
طیبہ میں لاگَل باٹے نُوری بازار ہو،
حوروں ملائک چومیں تمری مزار ہو۔
دھرتی چرن ماں چومے، جھومے سنسار ہو،
جگوا میں آئ گئيلن رب کے دلدار ہو،
طیبہ میں لاگَل باٹے نُوری بازار ہو۔
پیارے نبی کا رہے اَیسن ويبِوار ہو،
کلمہ پڑھت ہیں جن کا سارا سنسار ہو۔
مکہ سے ہجرت کر کے طیبہ میں آئيلن آقا،
دین کے خاطر چھوڑلن اپنا گھر بار ہو
طیبہ میں لاگَل باٹے نُوری بازار ہو،
حوروں ملائک چومیں تمری مزار ہو۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام بھوجپوری اور اردو کا ایک دلنشین سنگم ہے، جس میں دیہاتی مٹھاس اور عقیدت کے ساتھ مدینہ منورہ کی رونقوں اور نبی کریم ﷺ کی عظمت کا نقشہ کھینچا گیا ہے۔
شاعر کہتا ہے کہ طیبہ کی بستی میں ہر طرف نور کی برسات ہے، جہاں حوریں اور فرشتے آپ ﷺ کے مزارِ اقدس کی زیارت کرتے اور عقیدت پیش کرتے ہیں۔ پوری کائنات اور یہ دھرتی آپ ﷺ کے قدموں کے احترام میں جھوم رہی ہے کیونکہ رب کے محبوب ﷺ اس دنیا میں تشریف لا چکے ہیں۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| لاگل باٹے | لگا ہوا ہے |
| نوری بازار | روشنیوں کی رونق / تجلیات کا مرکز |
| ملائک | فرشتے |
| چرن | قدم / پاؤں |
| جگوا | دنیا / عالم |
| ویبیوار (ویوہار) | اخلاق / برتاؤ / سلوک |
| آئیلن | تشریف لائے |
| گھر بار | گھر اور خاندان |
اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور ﷺ نے دینِ اسلام کی خاطر اپنا گھر بار اور شہر (مکہ) چھوڑ کر مدینہ ہجرت فرمائی۔ آپ ﷺ کا حسنِ اخلاق ایسا تھا کہ آج پوری دنیا آپ ﷺ کا کلمہ پڑھتی ہے۔ شاعر مدینہ کی اس نوری فضا کا تذکرہ کرتا ہے جہاں قدسی اور انسان سب آپ ﷺ کی بارگاہ میں سرِ تسلیم خم کرتے ہیں۔
"دین کے خاطر چھوڑلن اپنا گھر بار ہو" — کیا یہ مصرعہ ہمیں حضور ﷺ کی اس عظیم قربانی کی یاد نہیں دلاتا جو انہوں نے حق کی سربلندی کے لیے دی؟