اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے
- 1 مہینہ پہلے fiber_manual_record 117 بار دیکھا گیا
,
عنوان: تڑپیلا جیرا بے چین ہمرا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: فیروز انجم مادھوپوری
نعت خوان/ فنکار: فیروز انجم مادھوپوری
شامل کیا گیا: 07 Sep, 2025 02:30 PM IST
دیکھا گیا: 79
Time to read: 1 min read
تڑپیلا جیرا، بے چین ہمرا،
تڑپیلا جیرا، بے چین سب کا،
درشن کرائی دا شاہِ مدینہ
جب جب پوربی بہیلا بَیَریا،
تو یاد آویلا طیبہ نگرِیا،
سوی قسمت جگئی دا، نُوری روضہ دکھائی دا،
در پہ بُلائی لا شاہِ مدینہ
تڑپیلا جیرا، بے چین ہمارا،
درشن کرائی دا شاہِ مدینہ
کے روزِ محشر تُو لاج بچائیہا،
نفسی نفسی میں بخشش کرائیہا،
آقا بگڑی بنائی دا، یہ نصیبہ جگائی دا،
در پہ بُلائی لا شاہِ مدینہ
تڑپیلا جیرا، بے چین سب کا،
درشن کرائی دا شاہِ مدینہ
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام بھوجپوری اور اردو زبان کا ایک نہایت خوبصورت اور دلگداز امتزاج ہے، جس میں مدینہ منورہ کی حاضری کی تڑپ کو عوامی اور سادہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
شاعر کہتا ہے کہ میرا دل مدینہ دیکھنے کے لیے بے حد تڑپ رہا ہے اور بے چین ہے۔ جب بھی پورب کی ٹھنڈی ہوا چلتی ہے تو مجھے طیبہ کی گلیوں کی یاد ستاتی ہے؛ اے شاہِ مدینہ! اب میری سوئی ہوئی قسمت کو جگا دیجئے اور مجھے اپنے نورانی روضے کا دیدار کرا دیجئے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| جیرا | دل / جان (جیا) |
| بَیَریا | ہوا / بادِ صبا |
| طیبہ نگریا | مدینہ شہر |
| درشن | دیدار / دیکھنا |
| روزِ محشر | قیامت کا دن |
| لاج بچائیہا | عزت رکھنا / پردہ رکھنا |
| نفسی نفسی | وہ عالم جب ہر کوئی اپنے حال میں پریشان ہوگا |
| بخشش | مغفرت / معافی |
اس نعت کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک عاشقِ رسول ﷺ پورب کی ہواؤں کے جھونکوں میں بھی مدینہ کی خوشبو محسوس کرتا ہے اور بے قرار ہو جاتا ہے۔ وہ جہاں دنیا میں روضہ رسول ﷺ کی زیارت کا طالب ہے، وہیں قیامت کے دن کی گھبراہٹ میں بھی حضور ﷺ سے شفاعت اور اپنی بگڑی ہوئی قسمت سنوارنے کی التجا کرتا ہے۔
"جب جب پوربی بہیلا بَیَریا" — کیا بھوجپوری کا یہ میٹھا انداز اور مدینہ کی یاد کا سنگم آپ کے دل کو نہیں چھو لیتا؟