मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 مہینہ پہلے fiber_manual_record 417 بار دیکھا گیا
,
عنوان: سر سے پاؤں تک ہر ادا ہے لاجواب
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 07 Aug, 2023 09:00 AM IST
دیکھا گیا: 219
Time to read: 2 min read
سر سے پاؤں تک ہر ادا ہے لاجواب،
خوبیوں میں نہیں تیرا جواب۔
حُسن ہے بے مثال، صورت لاجواب،
میں فِدا تم پر، آپ ہو اپنا جواب۔
پوچھے جاتے ہیں عمل، میں کیا کہوں،
تم سِکھا جاؤ میرے مولا جواب۔
پلٹے ہیں ہم سے نِکَمّے بیشمار،
ہے نہیں کہیں اُس آستانے کا جواب۔
روزِ محشر ایک تیرا آسرا،
سب سوالوں کا جوابِ لاجواب۔
میں یادِ طیبہ کے صدقے اے کلیم،
پر کہاں اُن کی کفِ پا کا جواب۔
کیا عمل تُو نے کیے، اُس کا سوال،
تیری رحمت چاہیے، میرا جواب۔
مہر و ماہ ذَرّے ہیں اُن کی راہ کے،
کون دے نقشِ کفِ پا کا جواب۔
تم سے اُس بیمار کو صحت مِلے،
جس کو دے دے حضرتِ عیسیٰ جواب۔
دیکھ رِضواں دَشتِ طیبہ کی بہار،
میری جنت کا نہ پائے گا جواب۔
شور ہے لُطف و عطا کا شور ہے،
مانگنے والا نہیں سُنتا جواب۔
جرم کی پُرتاش پاتے اہلِ جرم،
اُلٹی باتوں کا نہ ہو سیدھا جواب۔
پر تمہارے لُطف آ رہے آگئے،
دے دیا محشر میں بے پرسش جواب۔
اے حسن، محوِ جمالِ روحِ دوست،
اے نَکیرَین، اِس سے پھر لینا جواب۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام بارگاہِ رسالت ﷺ میں لکھی گئی ایک سحر انگیز نعت ہے، جس میں حضور ﷺ کے سراپا، ان کی بے مثل خوبصورتی، اور ان کی بارگاہ سے ملنے والے لازوال لطف و کرم کی تعریف کی گئی ہے، جو قبر اور محشر کے کٹھن مراحل میں مومن کا سب سے بڑا سہارا ہے۔
ان لائنوں کا مطلب ہے کہ حضور ﷺ کی ذاتِ مبارکہ سر سے پاؤں تک سراپا معجزہ اور لاجواب ہے، جن کی چوکھٹ پر ہم جیسے بے شمار نکموں کی پرورش ہوتی ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ جب روزِ محشر گناہوں کا حساب اور اعمال کے بارے میں سوال ہوگا، تو ہمارا سب سے بہترین اور لاجواب جواب صرف اور صرف حضور ﷺ کی رحمت اور ان کا اسمِ گرامی ہوگا۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| لاجواب | بے مثل / جس کی کوئی دوسری مثال نہ ہو |
| آستانے | چوکھٹ / دربارِ اقدس |
| کفِ پا | پاؤں کا تلوا |
| مہر و ماہ | سورج اور چاند |
| دَشتِ طیبہ | مدینے کا صحرا / مدینے کی زمین |
| پُرتاش | سزا / مکافاتِ عمل / بدلہ |
| بے پرسش | بغیر کسی پوچھ گچھ یا حساب کتاب کے |
| نَکیرَین | منکر اور نکیر (قبر میں سوال پوچھنے والے فرشتے) |
اس نعتِ پاک میں مدینہ منورہ کی بہار کو جنت سے بھی افضل بتایا گیا ہے، جہاں حضور ﷺ کے لباے جاں بخش سے وہ مریض بھی شفا پاتے ہیں جنہیں حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی جواب دے دیا ہو۔ شاعر 'حسن' (حسن رضا خان) آخر میں کہتے ہیں کہ جب قبر میں فرشتے (نکیرین) سوالات کرنے آئیں، تو وہ کچھ دیر رک جائیں کیونکہ ان کا دل اپنے محبوب کے حسن و جمال میں کھویا ہوا ہے، اور وہی جمال ان کے ہر سوال کا کافی جواب ہے۔
شاعر نے قبر میں سوال پوچھنے والے فرشتوں (نکیرین) کو کس وجہ سے بعد میں جواب لینے کو کہا ہے؟