اندھیری رات ہے غم کی گھٹا عصیاں کی کالی ہے
- 1 مہینہ پہلے fiber_manual_record 117 بار دیکھا گیا
,
عنوان: سب سے سندر ہم رے آقا کا دربار لاگے لا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: دلبر اسلمی
شامل کیا گیا: 07 Sep, 2025 07:28 AM IST
دیکھا گیا: 858
Time to read: 1 min read
سب سے سندر ہم رے آقا کا دربار لاگے لا،
یعنی طیبہ نگر میں جنت کے بازار لاگے لا۔
نبی کا جو بھئلن دیوانہ، اوکرے جنت با ٹھکانہ،
دنیا کے ہر غم سے اوکر بیڑا پار لاگے لا،
یعنی طیبہ نگر میں جنت کے بازار لگے لا۔
پسینہ آقا کا جو پائلن، تو مہکے لاگل با دلہن،
اوکر گود کے ہر ایک بچہ خوشبودار لاگے لا،
یعنی طیبہ نگر میں جنت کے بازار لاگے لا۔
وہابی چھوڑ دے زبردستی، یہ ہے دیوانوں کی بستی،
وہابی چھوڑ دے زبردستی، یہ ہے سننیوں کی بستی،
یہاں کے سنی اعلیٰ حضرت کے تلوار لاگے لا۔
یعنی طیبہ نگر میں جنت کے بازار لاگے لا۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ کلام بھوجپوری اور اردو کے امتزاج پر مبنی ایک پرجوش نعت ہے، جس میں مدینہ منورہ کی خوبصورتی، حضور ﷺ کے معجزات اور مسلکِ اعلیٰ حضرت سے وابستگی کا اظہار بڑے والہانہ انداز میں کیا گیا ہے۔
شاعر کہتا ہے کہ میرے آقا ﷺ کا دربار کائنات میں سب سے خوبصورت ہے اور طیبہ کی گلیاں ایسی محسوس ہوتی ہیں جیسے وہاں جنت کے بازار سجے ہوں۔ جو شخص سچے دل سے حضور ﷺ کا غلام بن جائے، اس کی دنیا و آخرت سنور جاتی ہے اور وہ تمام غموں سے آزاد ہو جاتا ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| لاگے لا | لگتا ہے / محسوس ہوتا ہے |
| بھئلن | ہو گیا / بن گیا |
| اوکر / اوکرے | اس کا / اس کے لیے |
| بیڑا پار | کامیابی / نجات |
| پائلن | پایا / حاصل کیا |
| ماہکے | خوشبو آنا / مہکنا |
| تلوار | مراد علم اور دلیل کی طاقت |
اس کلام کا خلاصہ یہ ہے کہ مدینہ کی فضاؤں میں جنت جیسی کشش ہے اور حضور ﷺ کے پسینہ مبارک کی برکت سے کائنات مہک رہی ہے۔ شاعر اس بات پر بھی فخر کرتا ہے کہ یہ بستی ان عشاق کی ہے جو امام احمد رضا خان (اعلیٰ حضرت) کی تعلیمات اور ان کی علمی بصیرت پر مضبوطی سے قائم ہیں۔
"نبی کا جو بھئلن دیوانہ، اوکرے جنت با ٹھکانہ" — کیا یہ مصرعہ اس حقیقت کو واضح نہیں کرتا کہ عشقِ رسول ﷺ ہی دراصل جنت کا راستہ ہے؟