मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 57 بار دیکھا گیا
,
عنوان: نعمتیں بانٹتا جِس سَمْت وہ ذِیشان گیا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: کلام اعلیٰ حضرت امام احمد رضا
نعت خوان/ فنکار: دلبر شاہی اویس رضا قادری سجّاد نظامی (مرہوم) سلیم رضا پیلی بھیتی
شامل کیا گیا: 19 May, 2023 06:46 AM IST
دیکھا گیا: 446
Time to read: 1 min read
نعمتیں بانٹتا جِس سَمْت وہ ذِیشان گیا
ساتھ ہی مُنشِیِ رحمت کا قلم دَان گیا
لے خبر جلد کہ غیروں کی طرف دِھیان گیا
میرے مولیٰ مِرے آقا تِرے قربان گیا
آہ وہ آنکھ کہ ناکامِ تَمنّا ہی رہی
ہائے وہ دِل جو ترے دَر سے پُر اَرمان گیا
دِل ہے وہ دِل جو تری یاد سے مَعمور رہا
سر ہے وہ سر جو ترے قدموں پہ قربان گیا
انھیں جانا انھیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
لِلّٰہِ الْحَمْد میں دُنیا سے مسلمان گیا
اَور تم پر مِرے آقا کی عنایت نہ سہی
نَجدیو! کلمہ پڑھانے کا بھی اِحسان گیا
آج لے اُن کی پناہ آج مدد مانگ اُن سے
پِھر نہ مانیں گے قِیامت میں اگر مان گیا
اُف رے مُنکِر یہ بڑھا جوشِ تَعَصُّب آخر
بِھیڑ میں ہاتھ سے کمبخت کے اِیمان گیا
جان و دل ہوش و خِرَد سب تو مَدینے پہنچے
تم نہیں چلتے رضاؔ سارا تو سامان گیا
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ امامِ عشق و محبت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلویؒ کا تحریر کردہ ایک نہایت ہی فصیح و بلیغ اور عقیدت سے لبریز ناتیہ شاہکار ہے، جس میں حضورِ اکرم ﷺ کی کائنات پر بے مثل سخاوت، شفاعت اور ایمان کی حفاظت کو موضوع بنایا گیا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ اللہ کے محبوب ﷺ جس سمت بھی تشریف لے گئے، انہوں نے دونوں جہان میں رب کی نعمتیں اور رحمتیں تقسیم کیں کیونکہ کائنات کا نظام ان ہی کے مبارک ہاتھوں میں ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ حقیقی مسلمان وہی ہے جو دنیا میں صرف اپنے آقا ﷺ کی ذاتِ گرامی سے لو لگائے اور دنیا سے ایمانِ کامل کے ساتھ رخصت ہو۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| سَمت / ذِیشان | طرف یا دِشا / عظیم شان والے (مراد حضور ﷺ) |
| مُنْشِیِ رحمت | اللہ کی رحمت لکھنے یا بانٹنے والا |
| قلم دان | قلم رکھنے کا ڈبہ (یہاں مراد کائنات کے فیصلے کا اختیار ہے) |
| مَعمور | بھرا ہوا / آباد |
| لِلّٰہِ الْحَمْد | اللہ ہی کے لیے تمام تعریفیں اور شکر ہے |
| جوشِ تَعَصُّب | ہٹ دھرمی، عداوت یا کینہ کا اندھا جوش |
| ہوش و خِرَد | عقل اور سمجھداری |
اس نعتِ پاک کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ قیامت کے دن کی رسوائی اور پچھتاوے سے بچنے کے لیے انسان کو اسی دنیا میں نبی کریم ﷺ کے دامنِ کرم سے وابستہ ہو جانا چاہیے اور ان سے مدد مانگنی چاہیے، کیونکہ وہاں منکرین کی کوئی توبہ قبول نہیں ہوگی۔ اعلیٰ حضرتؒ اپنے ایمان پر رب کا شکر ادا کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انہوں نے آقا ﷺ کے سوا کسی غیر سے غرض نہیں رکھی، جس کی برکت سے وہ دنیا سے باایمان جا رہے ہیں۔ آخر میں وہ محبت کی انتہا پیش کرتے ہوئے خود سے (رضاؔ) مخاطب ہیں کہ میرا دل، جان اور عقل و ہوش تو کب کے مدینے ہجرت کر چکے ہیں، اب صرف جسم کا جانا باقی ہے۔
لیرکس کے مطابق، سچا مسلمان دنیا سے رخصت ہوتے وقت کس سے کوئی کام (رشتہ) نہیں رکھتا؟