, نعمتیں بانٹتا جِس سَمْت وہ ذِیشان گیا - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

نعمتیں بانٹتا جِس سَمْت وہ ذِیشان گیا Lyrics In اردو

(نعمتیں بانٹتا جِس سَمْت وہ ذِیشان گیا, ساتھ ہی مُنشِیِ رحمت کا قلم دَان گیا)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: نعمتیں بانٹتا جِس سَمْت وہ ذِیشان گیا

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

شامل کیا گیا: 19 May, 2023 06:46 AM IST

دیکھا گیا: 446

Time to read: 1 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

نعمتیں بانٹتا جِس سَمْت وہ ذِیشان گیا
ساتھ ہی مُنشِیِ رحمت کا قلم دَان گیا

لے خبر جلد کہ غیروں کی طرف دِھیان گیا
میرے مولیٰ مِرے آقا تِرے قربان گیا

آہ وہ آنکھ کہ ناکامِ تَمنّا ہی رہی
ہائے وہ دِل جو ترے دَر سے پُر اَرمان گیا

دِل ہے وہ دِل جو تری یاد سے مَعمور رہا
سر ہے وہ سر جو ترے قدموں پہ قربان گیا

انھیں جانا انھیں مانا نہ رکھا غیر سے کام
لِلّٰہِ الْحَمْد میں دُنیا سے مسلمان گیا

اَور تم پر مِرے آقا کی عنایت نہ سہی
نَجدیو! کلمہ پڑھانے کا بھی اِحسان گیا

آج لے اُن کی پناہ آج مدد مانگ اُن سے
پِھر نہ مانیں گے قِیامت میں اگر مان گیا

اُف رے مُنکِر یہ بڑھا جوشِ تَعَصُّب آخر
بِھیڑ میں ہاتھ سے کمبخت کے اِیمان گیا

جان و دل ہوش و خِرَد سب تو مَدینے پہنچے
تم نہیں چلتے رضاؔ سارا تو سامان گیا

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ امامِ عشق و محبت، اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلویؒ کا تحریر کردہ ایک نہایت ہی فصیح و بلیغ اور عقیدت سے لبریز ناتیہ شاہکار ہے، جس میں حضورِ اکرم ﷺ کی کائنات پر بے مثل سخاوت، شفاعت اور ایمان کی حفاظت کو موضوع بنایا گیا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مطلب ہے کہ اللہ کے محبوب ﷺ جس سمت بھی تشریف لے گئے، انہوں نے دونوں جہان میں رب کی نعمتیں اور رحمتیں تقسیم کیں کیونکہ کائنات کا نظام ان ہی کے مبارک ہاتھوں میں ہے۔ شاعر کہتا ہے کہ حقیقی مسلمان وہی ہے جو دنیا میں صرف اپنے آقا ﷺ کی ذاتِ گرامی سے لو لگائے اور دنیا سے ایمانِ کامل کے ساتھ رخصت ہو۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظ (Word)معنی (Meaning)
سَمت / ذِیشانطرف یا دِشا / عظیم شان والے (مراد حضور ﷺ)
مُنْشِیِ رحمتاللہ کی رحمت لکھنے یا بانٹنے والا
قلم دانقلم رکھنے کا ڈبہ (یہاں مراد کائنات کے فیصلے کا اختیار ہے)
مَعموربھرا ہوا / آباد
لِلّٰہِ الْحَمْداللہ ہی کے لیے تمام تعریفیں اور شکر ہے
جوشِ تَعَصُّبہٹ دھرمی، عداوت یا کینہ کا اندھا جوش
ہوش و خِرَدعقل اور سمجھداری

خلاصہ (Summary)

اس نعتِ پاک کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ قیامت کے دن کی رسوائی اور پچھتاوے سے بچنے کے لیے انسان کو اسی دنیا میں نبی کریم ﷺ کے دامنِ کرم سے وابستہ ہو جانا چاہیے اور ان سے مدد مانگنی چاہیے، کیونکہ وہاں منکرین کی کوئی توبہ قبول نہیں ہوگی۔ اعلیٰ حضرتؒ اپنے ایمان پر رب کا شکر ادا کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ انہوں نے آقا ﷺ کے سوا کسی غیر سے غرض نہیں رکھی، جس کی برکت سے وہ دنیا سے باایمان جا رہے ہیں۔ آخر میں وہ محبت کی انتہا پیش کرتے ہوئے خود سے (رضاؔ) مخاطب ہیں کہ میرا دل، جان اور عقل و ہوش تو کب کے مدینے ہجرت کر چکے ہیں، اب صرف جسم کا جانا باقی ہے۔

لیرکس کے مطابق، سچا مسلمان دنیا سے رخصت ہوتے وقت کس سے کوئی کام (رشتہ) نہیں رکھتا؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں: