मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 65 بار دیکھا گیا
,
عنوان: نظر اٹھا کے دیکھلو جمال لاجواب ہے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: اسد اقبال کلکتوی
نعت خوان/ فنکار: اسد اقبال کلکتوی
شامل کیا گیا: 24 Sep, 2022 12:42 PM IST
دیکھا گیا: 3.6K
Time to read: 1 min read
نظر اٹھا کے دیکھلو جمال لاجواب ہے،
مدینہ الترسول کا خیال لاجواب ہے،
نظر اٹھا کے دیکھ لو جمال لاجواب ہے
سوال یہ ہے کے بدریا ہلال لاجواب ہے،
جواب یہ ہے کے آمینہ کا لال لاجواب ہے
میرے نبی (ﷺ) کی ہر عدا ہے نقطع عروج پر،
کمال یہ کے ان کا ہر کمال لاجواب ہے
یہ وصل و ہجر دونوں عشقِ احمدی کے روپ ہے،
اویس بیمثال ہے بلال لاجواب ہے
جسے نبی (ﷺ) نے کر دیا حرام وہ حرام ہے،
جسے حلال کہ دیا حلال لاجواب ہے
لبِ نبی (ﷺ) پے ہر گھڈی ہے ر٘بِ ہبلی اُمّتی،
خُدا کی بارگاہ میں سوال لاجواب ہے
جو اہلبیت اصل ہے وہی تو نوری نصل ہے،
حسب نسب میں مصطفیٰ (ﷺ) کی آل لاجواب ہے
سوال یہ ہے کے بدریا ہلال لاجواب ہے،
جواب یہ ہے کے آمینہ کا لال لاجواب ہے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ ایمان افروز اور مقبولِ عام نعتِ شریف حضور نبی کریم ﷺ کے بے مثل حسن و جمال، ان کے اعلیٰ اختیارات اور ان کی پاکیزہ آل (اہلِ بیت) کی عظمت کا ایک نہایت خوبصورت اور لاجواب بیاں ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ اگر تم نظر اٹھا کر دیکھو گے تو میرے آقا ﷺ کا حسن و جمال سب سے منفرد اور بے مثال ہے۔ اگر یہ سوال کیا جائے کہ آسمان کا چاند یا ہلال زیادہ خوبصورت ہے، تو اس کا سچا جواب یہ ہے کہ حضرت آمنہ کا لال یعنی حضور ﷺ سب سے لاجواب ہیں، جن کی ہر ادا اور خصوصیت بلندی کے آخری مقام (نقطۂ عروج) پر ہے۔
| لفظ | معنی (Urdu) |
|---|---|
| جمال | حسن / خوبصورتی |
| بدر یا ہلال | چودہویں کا چاند یا نیا چاند |
| نقطۂ عروج | بلندی کا آخری درجہ / سب سے اونچا مقام |
| وصل و ہجر | ملاپ اور جدائی |
| ربِّ حب لی امتی | "اے میرے رب! میری امت کو مجھے عطا کر دے (بخش دے)" |
| حسب نسب | خاندانی شرافت / نسل اور خاندان |
شاعر کہتا ہے کہ عشقِ رسولؐ کے دو مختلف اور حسین روپ ہیں—ایک حضرت اویس قرنیؓ کی جدائی (ہجر) اور دوسرا حضرت بلالؓ کا حضورؐ کے ساتھ رہنا (وصل)۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب ﷺ کو یہ اختیار دیا ہے کہ جسے وہ حلال فرما دیں وہ حلال اور جسے حرام فرما دیں وہ حرام ہے۔ سب سے پیاری بات یہ ہے کہ حضور ﷺ کے لبوں پر ہر وقت اپنی امت کی مغفرت کی دعا رہتی ہے، اور ان کی نوری نسل (آلِ مصطفیٰ) کا حسب نسب پوری دنیا میں سب سے بلند اور لاجواب ہے۔
نعت کے مطابق، لبِ نبیؐ پر ہر گھڑی اپنی امت کے لیے کون سا لاجواب سوال یا دعا رہتی ہے؟