मेरे सरकार आए
- 9 مہینے پہلے fiber_manual_record 720 بار دیکھا گیا
,
عنوان: نظر کو بخش دو ایسا اثر غریب نواز
زمرہ: قوّالی کے بول (لیرکس)
شامل کیا گیا: 11 Jan, 2023 12:49 PM IST
دیکھا گیا: 1K
Time to read: 1 min read
نظر کو بخش دو ایسا اثر غریب نواز
نظر اُٹھاؤں تو آؤ نظر غریب نواز
معین الدین خواجہ، خواجہ مہاراجا، معین الدین خواجہ
غریب جائے تو جائے کدھر غریب نواز
تمہارا در ہے محمدؐ کا در غریب نواز
معین الدین خواجہ...
وہیں مدد کے لیے آئیں گے معین الدین
لبوں پہ آ گیا تیرا اگر غریب نواز
معین الدین خواجہ...
نظر ہو جس پہ تیری، اُس کا پوچھنا ہی کیا
تیری نظر ہے نبی کی نظر غریب نواز
معین الدین خواجہ...
میں پُلِ صراط سے گزروں تو اس طرح گزروں
ادھر ہوں غوثؒ پیَر اور ادھر غریب نواز
معین الدین خواجہ...
رسولِ پاک ﷺ نے اس ہند کو دعا دی ہے
بسا ہے جب سے تمہارا نگر غریب نواز
معین الدین خواجہ...
پڑھایا اپنے لاکھوں کو راہ میں کلمہ
کیا مدینے سے ایسا سفر غریب نواز
معین الدین خواجہ، خواجہ مہاراجا، معین الدین خواجہ
خواجہ مہاراجا، معین الدین خواجہ، ہند کے راجا، معین الدین خواجہ...
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ سلطان الہند، عطائے رسولؐ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ (غریب نواز) کی بارگاہ میں لکھی گئی ایک نہایت مقبول اور وجدانی صوفیانہ قوالی ہے۔ اس میں خواجہ پاک کی غریب نوازی، ان کے روحانی مرتبے اور مریدِ کامل کی والہانہ عقیدت کا تذکرہ بڑے ہی دلنشیں انداز میں کیا گیا ہے۔
ان ایمان افروز اشعار کا مطلب ہے کہ "اے غریب نواز! میری نگاہ کو ایسا روحانی نور بخش دیجیے کہ میں کائنات میں جہاں بھی نظر اٹھاؤں، مجھے صرف آپ کا جلوہ نظر آئے۔" شاعر کہتا ہے کہ دنیا کے ٹھکرائے ہوئے بے سہارا لوگ آپ کی چوکھٹ کے سوا کہاں جائیں، کیونکہ آپ کا آستانہ حقیقت میں حضورِ اکرم ﷺ ہی کا دربار ہے اور آپ کی نگاہِ کرم رسولِ پاک ﷺ کی نظر کا عکس ہے۔
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| بخش دو / اثر | عطا کرنا یا دان کرنا / تاثیر یا قوت |
| غریب نواز | غریبوں اور محتاجوں کو نوازنے والا (پالنے والا) |
| پُلِ صراط | قیامت کے دن دوزخ کے اوپر قائم کیا جانے والا بال سے باریک راستہ |
| غوث پیَر (غوثِ اعظمؒ) | حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ (بغداد کے مشہور صوفی بزرگ) |
| نگر / ہند | شہر یا بستی (مراد اجمیر شریف) / ہندوستان |
| کلمہ | اسلام کا بنیادی اقرارِ توحید و رسالت |
اس مبارک صوفیانہ کلام کا لبِ لباب یہ ہے کہ خواجہ غریب نوازؒ نے سرکارِ دو عالم ﷺ کے حکم پر مدینہ منورہ سے ہندوستان کا تاریخی سفر اختیار کیا اور یہاں آ کر لاکھوں بھٹکے ہوئے انسانوں کو کلمہ پڑھا کر سیدھی راہ دکھائی۔ شاعر کہتا ہے کہ جب سے اجمیر کی دھرتی پر آپ کا نگر بسا ہے، تب سے پورے ہندوستان کو رسولِ پاک ﷺ کی خاص دعا ملی ہوئی ہے۔ ایک مرید کو اپنے پیر پر اتنا پختہ یقین ہے کہ وہ دعا کرتا ہے کہ آخرت میں جب وہ پُلِ صراط کی کٹھن گھاٹی سے گزرے، تو اس کی دستگیری کے لیے ایک طرف غوثِ اعظمؒ ہوں اور دوسری طرف خود غریب نوازؒ اس کا ہاتھ تھامے ہوئے ہوں۔
لیرکس کے مطابق، خواجہ غریب نواز نے لاکھوں لوگوں کو سیدھا راستہ (کلمہ) دکھانے کے لیے کہاں سے سفر کیا تھا؟