, نبی نبی نبی نبی - Shan E Nabi
search
لاگ ان
Get latest updates On WhatsApp

نبی نبی نبی نبی Lyrics In اردو

(نبی نبی نبی نبی, چمن چمن کی دل کشی گلوں کی ہے وہ تازگی)


Written By

avatar
Shan E Nabi Team Desk
  • Editors Desk
  • شامل کیا گیاnot available
  • visibilityبار دیکھا گیا
  • comment تبصرے
  • thumb_up0 بار پسند کیا گیا
  • shareشیئر کریں
...

عنوان: نبی نبی نبی نبی

زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)

مصنف/گیتکار: اسد اقبال کلکتوی

نعت خوان/ فنکار: اسد اقبال کلکتوی

شامل کیا گیا: 26 May, 2022 11:09 AM IST

دیکھا گیا: 5K

Time to read: 3 min read

بول کی زبان منتخب کریں:

چمن چمن کی دل کشی
گلوں کی ہے وہ تازگی
ہے چاند جن سے شبنمی
وہ کہکشاں کی روشنی
فضاؤں کی وہ راگنی
ہواوں کی وہ نگمگی
ہے کتنا پیارا نام بھی

نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی

یہ آمد بہار ہے
وہ نور کی قطار ہے
فضا بھی خوشگوار ہے
ہوا بھی مشکبار ہے
ہوا سے میں نے جب کہا
یہ کون آ گیا بتا
ہوا پکارتی چلی

نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی

زمین بنی زمان بنی
مکین بنے مکاں بنے
چونی بنے چونا بنے
وہ وجہ کن فکاں بنے
کہا جو میں نے، اے خدا!
یہ کس کے صدقے مین بنا
تو رب نہ بھی کہا یہی

نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی

جو سدرہ پر نبی گئے
تو جبرائیل بولے یہ
زرا گیا ادھر پرے
تو جل پڑے گے پر میرے
نبی ہی آگے چل پڑے
وہ سدرہ سے نکل پڑے
زمیں پکارتی رہی

نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی

وہ حسن لا زوال ہے
وہ عشق بے مثال ہے
جو چرخ کا ہلال ہے
نبی کا وہ بلال ہے
بدن سلگتی ریت پر
کی تھرتھرا اٹھا ہجر
زبان پہ تھا مگر یہی

نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی

چلے جو قتل کو عمر
کہا کسی نہ روک کر
کہاں چلے ہو اور کدھر
مجاز کیوں ہے عرش پر
زرا بہن کی لو خبر
فدا ہے وہ رسول پر
وہ کہ رہی ہے ہر گھڑی

نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی

عمر چلے بہن کے گھر
غضب میں سوچ سوچ کر
اُڈاعینگے گے ہم اُن کا سر
جو ہیں نبی کے دین پر
سنا ہے جب قرآن کو
خدا کے اُس بیان کو
عمر نہ بھی کہا یہ

نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی

وہ ہجرتِ رسول ہے
فضاءِ دل ملول ہے
قدم قدم بابول ہے
قضا کی زد مین پھول ہے
علی کی ایک ذات ہے
کی تیگ پر حیات ہے
علی کے دل میں بس یہی

نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی

وہ عشق کا حصول ہے
وہ سننیت کا پھول ہے
وہ ایسا با اصول ہے
کی عاشق رسول ہے
رضا سے میں جب کہا
یہ شان کس کی ہے اتا؟
رضا نہ دی صدا یہی

نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی

رضا کا یہ پیام ہے
وظیفہ تما م ہے
وہی تو نیک نام ہے
نبی کا جو غلام ہے
جو عاشقِ نبی ہوا
خدا کا وہ والی ہوا
وہی ہوا ہے جنتی

نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی

مدینے کی زمیں رہے
وہ روضہ حسین رہے
مزارِ شاہِ دین رہے
غلام کی زبیں رہے
تو روح نکلے جھوم کے
در نبی کو چوم کے
یہی پکارتی ہوئی

نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی

وہ جب سماں ہو حشر کا
ہر ایک شخص جا بہ جا
عزاب مین ہو مبتلا
کی یک با یک اٹھے صدا
سراپا نور آ گیا
میرے حضور آ گئے
تو کہ اُٹھے یہ امتی

نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی

تھکی تھکی رکی رکی
کسی ترہ دبی لچی
حلیمہ کی اونٹنی
جو مککے میں پہنچ گئی 
تھے سارے بچے جا چکے
جگہ وہ اپنی پا چکے
بچہ تھا ایک آخری

نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی

وہ روح کے تبیب سے
اسد! کبھی نصیب سے
خدا کے اس حبیب سے
ملوگے جب قریب سے
نبی کی ایک ذات ہے
جو ممباء حیات ہے
ملے گی دائمی خوشی

نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی

wand_stars
Lyrics Explanation, Word Meanings & Summary

This summary is AI-generated • Reviewed for quality.

keyboard_arrow_down

یہ ایک انتہائی خوبصورت، وجدانی اور کائناتی حقائق سے لبریز نعتِ پاک ہے، جس میں کائنات کے ذرے ذرے کو سرکارِ دو عالم ﷺ کے نور کا صدقہ اور آپ ﷺ کی ذات کو تخلیقِ کائنات کی بنیادی وجہ (علتِ غائی) قرار دیا گیا ہے۔

اشعار کی تشریح (Lyrics Explanation)

ان اشعار کا مفہوم ہے کہ دنیا کی تمام تر خوبصورتی، پھولوں کی تازگی، ہواؤں کا ترنم اور کہکشاؤں کی چمک حضور ﷺ ہی کے نامِ نامی کی برکت سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین، آسمان، مکان اور مکین سب اپنے محبوب کے صدقے میں "کُن فیکون" کے تحت پیدا فرمائے ہیں۔ یہاں تک کہ شبِ معراج جب سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچ کر حضرت جبرائیلؑ کے بھی پر جلنے کا مقام آ گیا، تو وہاں سے بھی آگے تنہا ذاتِ مصطفیٰ ﷺ ہی الٰہی قربتوں کی منزلیں طے کرنے کے لیے تشریف لے گئیں۔


الفاظ کے معنی (Word Meanings)

لفظمعنی (Urdu)
مشکبارکستوری جیسی خوشبو پھیلانے والی
وجہِ کن فکاںکائنات کی تخلیق کی اصل وجہ یا سبب
چرخ کا ہلالآسمان کا نیا چاند
ملولرنجیدہ / اداس یا غمگین
جہیں (جبیں)پیشانی / ماتھا
منبعِ حیاتزندگی کا چشمہ یا اصل مرکز

خلاصہ (Summary)

اس لازوال نعت میں حضور ﷺ کی عظمت کے ساتھ ساتھ عشقِ رسول ﷺ میں ڈوبے ہوئے جلیل القدر صحابہ کرامؓ کے ایمان افروز واقعات کا تذکرہ ہے۔ تپتی ریت پر حضرت بلال حبشیؓ کی استقامت، بہن کے گھر قرآن سن کر حضرت عمر فاروقؓ کا قبولِ اسلام، اور ہجرت کی رات اپنی جان خطرے میں ڈال کر بسترِ رسول ﷺ پر سونے والے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے جذبے کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ آخر میں امام احمد رضا خان (اعلیٰ حضرت) کے پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے شاعر کہتا ہے کہ جو دل و جان سے نبی ﷺ کا غلام بن جاتا ہے، دراصل وہی خدا کا ولی اور حقیقی جنتی ہے، اور محشر کے ہولناک عذاب میں بھی امتیوں کا واحد سہارا صرف اور صرف ذاتِ مصطفیٰ ﷺ ہی ہوگی۔

معراج کی رات، ساتویں آسمان کی سرحد پر موجود کس مقام (درخت) پر پہنچ کر حضرت جبرائیلؑ رک گئے تھے اور آگے جانے سے ان کے پر جلنے کا ڈر تھا؟

Read more ↓
Was this page helpful?
شیئر کریں:

نمایاں آرٹسٹ/گیت نگار

سبھی دیکھیں