मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 65 بار دیکھا گیا
,
عنوان: نبی نبی نبی نبی
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: اسد اقبال کلکتوی
نعت خوان/ فنکار: اسد اقبال کلکتوی
شامل کیا گیا: 26 May, 2022 11:09 AM IST
دیکھا گیا: 5K
Time to read: 3 min read
چمن چمن کی دل کشی
گلوں کی ہے وہ تازگی
ہے چاند جن سے شبنمی
وہ کہکشاں کی روشنی
فضاؤں کی وہ راگنی
ہواوں کی وہ نگمگی
ہے کتنا پیارا نام بھی
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
یہ آمد بہار ہے
وہ نور کی قطار ہے
فضا بھی خوشگوار ہے
ہوا بھی مشکبار ہے
ہوا سے میں نے جب کہا
یہ کون آ گیا بتا
ہوا پکارتی چلی
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
زمین بنی زمان بنی
مکین بنے مکاں بنے
چونی بنے چونا بنے
وہ وجہ کن فکاں بنے
کہا جو میں نے، اے خدا!
یہ کس کے صدقے مین بنا
تو رب نہ بھی کہا یہی
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
جو سدرہ پر نبی گئے
تو جبرائیل بولے یہ
زرا گیا ادھر پرے
تو جل پڑے گے پر میرے
نبی ہی آگے چل پڑے
وہ سدرہ سے نکل پڑے
زمیں پکارتی رہی
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
وہ حسن لا زوال ہے
وہ عشق بے مثال ہے
جو چرخ کا ہلال ہے
نبی کا وہ بلال ہے
بدن سلگتی ریت پر
کی تھرتھرا اٹھا ہجر
زبان پہ تھا مگر یہی
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
چلے جو قتل کو عمر
کہا کسی نہ روک کر
کہاں چلے ہو اور کدھر
مجاز کیوں ہے عرش پر
زرا بہن کی لو خبر
فدا ہے وہ رسول پر
وہ کہ رہی ہے ہر گھڑی
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
عمر چلے بہن کے گھر
غضب میں سوچ سوچ کر
اُڈاعینگے گے ہم اُن کا سر
جو ہیں نبی کے دین پر
سنا ہے جب قرآن کو
خدا کے اُس بیان کو
عمر نہ بھی کہا یہ
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
وہ ہجرتِ رسول ہے
فضاءِ دل ملول ہے
قدم قدم بابول ہے
قضا کی زد مین پھول ہے
علی کی ایک ذات ہے
کی تیگ پر حیات ہے
علی کے دل میں بس یہی
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
وہ عشق کا حصول ہے
وہ سننیت کا پھول ہے
وہ ایسا با اصول ہے
کی عاشق رسول ہے
رضا سے میں جب کہا
یہ شان کس کی ہے اتا؟
رضا نہ دی صدا یہی
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
رضا کا یہ پیام ہے
وظیفہ تما م ہے
وہی تو نیک نام ہے
نبی کا جو غلام ہے
جو عاشقِ نبی ہوا
خدا کا وہ والی ہوا
وہی ہوا ہے جنتی
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
مدینے کی زمیں رہے
وہ روضہ حسین رہے
مزارِ شاہِ دین رہے
غلام کی زبیں رہے
تو روح نکلے جھوم کے
در نبی کو چوم کے
یہی پکارتی ہوئی
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
وہ جب سماں ہو حشر کا
ہر ایک شخص جا بہ جا
عزاب مین ہو مبتلا
کی یک با یک اٹھے صدا
سراپا نور آ گیا
میرے حضور آ گئے
تو کہ اُٹھے یہ امتی
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
تھکی تھکی رکی رکی
کسی ترہ دبی لچی
حلیمہ کی اونٹنی
جو مککے میں پہنچ گئی
تھے سارے بچے جا چکے
جگہ وہ اپنی پا چکے
بچہ تھا ایک آخری
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
وہ روح کے تبیب سے
اسد! کبھی نصیب سے
خدا کے اس حبیب سے
ملوگے جب قریب سے
نبی کی ایک ذات ہے
جو ممباء حیات ہے
ملے گی دائمی خوشی
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
نبی نبی نبی نبی، نبی نبی نبی نبی
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ ایک انتہائی خوبصورت، وجدانی اور کائناتی حقائق سے لبریز نعتِ پاک ہے، جس میں کائنات کے ذرے ذرے کو سرکارِ دو عالم ﷺ کے نور کا صدقہ اور آپ ﷺ کی ذات کو تخلیقِ کائنات کی بنیادی وجہ (علتِ غائی) قرار دیا گیا ہے۔
ان اشعار کا مفہوم ہے کہ دنیا کی تمام تر خوبصورتی، پھولوں کی تازگی، ہواؤں کا ترنم اور کہکشاؤں کی چمک حضور ﷺ ہی کے نامِ نامی کی برکت سے ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زمین، آسمان، مکان اور مکین سب اپنے محبوب کے صدقے میں "کُن فیکون" کے تحت پیدا فرمائے ہیں۔ یہاں تک کہ شبِ معراج جب سدرۃ المنتہیٰ پر پہنچ کر حضرت جبرائیلؑ کے بھی پر جلنے کا مقام آ گیا، تو وہاں سے بھی آگے تنہا ذاتِ مصطفیٰ ﷺ ہی الٰہی قربتوں کی منزلیں طے کرنے کے لیے تشریف لے گئیں۔
| لفظ | معنی (Urdu) |
|---|---|
| مشکبار | کستوری جیسی خوشبو پھیلانے والی |
| وجہِ کن فکاں | کائنات کی تخلیق کی اصل وجہ یا سبب |
| چرخ کا ہلال | آسمان کا نیا چاند |
| ملول | رنجیدہ / اداس یا غمگین |
| جہیں (جبیں) | پیشانی / ماتھا |
| منبعِ حیات | زندگی کا چشمہ یا اصل مرکز |
اس لازوال نعت میں حضور ﷺ کی عظمت کے ساتھ ساتھ عشقِ رسول ﷺ میں ڈوبے ہوئے جلیل القدر صحابہ کرامؓ کے ایمان افروز واقعات کا تذکرہ ہے۔ تپتی ریت پر حضرت بلال حبشیؓ کی استقامت، بہن کے گھر قرآن سن کر حضرت عمر فاروقؓ کا قبولِ اسلام، اور ہجرت کی رات اپنی جان خطرے میں ڈال کر بسترِ رسول ﷺ پر سونے والے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے جذبے کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے۔ آخر میں امام احمد رضا خان (اعلیٰ حضرت) کے پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے شاعر کہتا ہے کہ جو دل و جان سے نبی ﷺ کا غلام بن جاتا ہے، دراصل وہی خدا کا ولی اور حقیقی جنتی ہے، اور محشر کے ہولناک عذاب میں بھی امتیوں کا واحد سہارا صرف اور صرف ذاتِ مصطفیٰ ﷺ ہی ہوگی۔
معراج کی رات، ساتویں آسمان کی سرحد پر موجود کس مقام (درخت) پر پہنچ کر حضرت جبرائیلؑ رک گئے تھے اور آگے جانے سے ان کے پر جلنے کا ڈر تھا؟