मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 49 بار دیکھا گیا
,
عنوان: نبی نبی کہ کے مدینہ اُڑجاینگے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: حیدر پرواز
نعت خوان/ فنکار: حیدر پرواز
شامل کیا گیا: 05 Oct, 2022 07:01 PM IST
دیکھا گیا: 3.1K
Time to read: 1 min read
عشق ما ہم پنچھی کہلاینگے،
نبی نبی کہ کے مدینہ اُڑجاینگے
طیبہ نگر کا ہم ہے کبوتر،
مینار و گمبد ہمارا تو ہے گھر،
روزے کا پھیرا لگاینگے،
نبی نبی کہ کے مدینہ اُڑجاینگے
عشق ما ہم پنچھی کہلاینگے،
نبی نبی کہ کے مدینہ اُڑجاینگے
خشیوں کی جہاں ہے کوئی گم نہیں،
طیبہ نگر خُلد سے کم نہیں ہے،
زم زم سے ہر گھڑی نہاینگے،
نبی نبی کہ کے مدینہ اُڑجاینگے
عشق ما ہم پنچھی کہلاینگے،
نبی نبی کہ کے مدینہ اُڑجاینگے
آقا کے قدموں میں خظوروں کی چھاؤں میں،
دلکش ہواؤں میں موئتر فضاؤں میں،
چھوٹا سا ایک گھر بنایںگے،
نبی نبی کہ کے مدینہ اُڑجاینگے
عشق ما ہم پنچھی کہلاینگے،
نبی نبی کہ کے مدینہ اُڑجاینگے
پرواز کو پر دے دے یا رب،
نعت کہنے کا ہنر دے دے یا رب،
آقا کو جاکر سناینگے،
نبی نبی کہ کے مدینہ اُڑجاینگے
عشق ما ہم پنچھی کہلاینگے،
نبی نبی کہ کے مدینہ اُڑجاینگے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ خوبصورت نعتِ شریف سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سچی محبت اور دیارِ مدینہ کی حاضری کے لیے ایک عاشقِ رسول کے دل کی بے پناہ تڑپ، معصومانہ خواہشات اور والہانہ جذبات کا آئینہ دار ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ آقا ﷺ کے عشق میں ڈوبا ہوا دل ایک پرندہ بن کر اڑنا چاہتا ہے تاکہ 'نبی نبی' پکارتے ہوئے براہِ راست مدینہ شریف پہنچ جائے۔ شاعر کی خواہش ہے کہ وہ طیبہ نگر کے میناروں اور سبز گنبد کا کبوتر بن کر وہیں کا ہو رہے اور ہر گھڑی روضۂ رسولؐ کے گرد طواف (پھیرے) کرتا رہے۔
| لفظ | معنی (Urdu) |
|---|---|
| طیبہ نگر | پاکیزہ شہر (مراد مدینہ منورہ) |
| خُلد | جنت / بہشت |
| زم زم | مکہ مکرمہ کا ایک نہایت متبرک اور مقدس پانی |
| موئتر (معطر) | خوشبودار / مہکتی ہوئی |
| فضاؤں | ماحول / ہواؤں |
| پرواز | اڑان / پرندے کا اڑنا |
| ہنر | صلاحت / فن یا مہارت |
عاشق کی نظر میں مدینہ طیبہ کا شہر جنت کا ایک ٹکڑا ہے جہاں صرف خوشیاں ہی خوشیاں ہیں اور غم کا کوئی گزر نہیں۔ وہ بارگاہِ الٰہی میں دعا کرتا ہے کہ اس کی اڑان (پرواز) کو پر مل جائیں اور اسے نعت گوئی کا خوبصورت فن عطا ہو، تاکہ وہ مدینے کی معطر فضاؤں اور کھجوروں کی چھاؤں میں ایک چھوٹا سا گھر بنا کر خود آقا ﷺ کے حضور اپنی نعت کا نذرانہ پیش کر سکے۔
شاعر کے مطابق، مدینہ شریف (طیبہ نگر) جنت (خلد) سے کم کیوں نہیں ہے اور وہاں پہنچ کر وہ کس چیز سے نہانے کی بات کر رہا ہے؟