मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 58 بار دیکھا گیا
,
عنوان: مصطفیٰ کی آمد کا وقت کیا نرالا ہے
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: اسد اقبال کلکتوی
نعت خوان/ فنکار: اسد اقبال کلکتوی
شامل کیا گیا: 26 Sep, 2022 02:18 PM IST
دیکھا گیا: 1.2K
Time to read: 1 min read
مصطفیٰ کی آمد کا وقت کیا نرالا ہے،
شب گزرنے والی ہے دن نکلنے والا ہے
آسمان بھی جس در پے سر جھکانے والا ہے،
مصطفیٰ کی چوکھٹ کا مرتبہ نرالا ہے
خاکِ پاۓ آقا کو مل کے اپنے چہرے پر،
رب کو منہ دکھانے کا راستہ نکالا ہے
مصطفیٰ کی آمد کا وقت کیا نرالا ہے
اُس کو چھو نہیں سکتیں زحمتیں زمانے کی،
جس کو میرے آقا کی رحمتوں نے پالا ہے
آسمان کی اُنچائ اس کو پا نہیں سکتی،
جس کو میرے آقا کے عشق نے اُچھالا ہے
مصطفیٰ کی آمد کا وقت کیا نرالا ہے
حضرتوں کے حضرت بھی دیکھ کر یہی بولے،
میرے آلحضرت کا مرتبہ نرالا ہے
انکے پاؤں کا دھوون چاند میں ستاروں میں،
رنگ و روگن جنّت آپ کا غصالا ہے
مصطفیٰ کی آمد کا وقت کیا نرالا ہے
دُشمنانے آقا تو جائنگے جہنّم میں،
عاشقوں کی قسمت میں جنّتی نوالہ ہے
مصطفیٰ کی آمد کا وقت کیا نرالا ہے،
شب گزرنے والی ہے دن نکلنے والا ہے
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ ایمان افروز نعتِ شریف سرورِ کائنات حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ولادتِ باسعادت (آمد)، آپؐ کی شانِ اقدس اور آپؐ کے سچے غلاموں کو ملنے والے بلند مرتبے کا ایک نہایت خوبصورت اور روح پرور بیاں ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ حضور ﷺ کی دنیا میں تشریف آوری کا وقت بہت انوکھا اور مبارک ہے، جو کفر و جہالت کی رات کے خاتمے اور ہدایت کے روشن دن کے آغاز کا غماز ہے۔ آپؐ کی چوکھٹ کا مقام اتنا بلند ہے کہ آسمان بھی وہاں سر جھکاتا ہے، اور امتی آپؐ کے قدموں کی دھول (خاکِ پا) کو چہرے پر مل کر خدا کے حضور سرخرو ہونے کا راستہ تلاش کرتے ہیں۔
| لفظ | معنی (Urdu) |
|---|---|
| آمد | تشریف آوری / پدھارنا |
| شب | رات / اندھیرا |
| خاکِ پاۓ | قدموں کی مٹی / چرن دھول |
| زحمتیں | مصیبتیں / تکلیفیں یا رنج و غم |
| غصالا (غسالہ) | غسل کا پانی / وہ پاکیزہ پانی جس سے نہلایا گیا ہو |
| دُشمنانے آقا | حضور ﷺ سے بغض یا دشمنی رکھنے والے |
شاعر کہتا ہے کہ جس انسان کی پرورش آقا ﷺ کی رحمتوں کے سائے میں ہو، اسے زمانے کی کوئی مصیبت چھو بھی نہیں سکتی۔ اس کلام میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی کی نعت گوئی اور بلند علمی مرتبے کا بھی اعتراف کیا گیا ہے۔ آخر میں یہ نوید سنائی گئی ہے کہ دشمنانِ رسول کا ٹھکانہ جہنم ہے، جبکہ آقا ﷺ کے سچے عاشقوں کی قسمت میں جنت کی لازوال نعمتیں اور خوشیاں لکھ دی گئی ہیں۔
شاعر کے مطابق، مصطفیٰ ﷺ کی آمد کا وقت دنیا کے لیے کس طرح کی تبدیلی لے کر آیا ہے؟