मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 56 بار دیکھا گیا
,
عنوان: مصطفیٰ ہیں لاجواب
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: اسد اقبال کلکتوی
نعت خوان/ فنکار: اسد اقبال کلکتوی
شامل کیا گیا: 19 Mar, 2025 03:53 PM IST
دیکھا گیا: 892
Time to read: 2 min read
مصطفیٰ ہیں خیرُ الورى ہیں،
مصطفیٰ ہیں شمسُ الضحٰی ہیں،
مصطفیٰ ہیں بدرُ الدجیٰ ہیں
مصطفیٰ ہیں لاجواب، مصطفیٰ ہیں لاجواب،
مصطفیٰ ہیں لاجواب، مصطفیٰ ہیں لاجواب
ان سے پہلے دہر میں آیا نہ ایسا انقلاب،
دے رہے ہیں یہ گواہی آپ کا وہ ماہتاب،
مصطفیٰ ہیں لاجواب، مصطفیٰ ہیں لاجواب
آپ بھی پڑھ لیجیے مصطفیٰ ہیں لاجواب
کفر و جہالت کے اندھیرے چاٹ گئے،
ایک بہ ایک کفر و جہالت کے اندھیرے چاٹ گئے،
روشنی سے پَیٹ گئے، روشنی سے پَیٹ گئے،
ان کے قدموں سے کھلے پتھر پہ رحمت کے گلاب،
مصطفیٰ ہیں لاجواب، مصطفیٰ ہیں لاجواب
اپنے جیسا کہنے والے سے سیدِ ابرار کو،
احمدِ مختار کو،
اب بھی توبہ کر کے کہہ دے، تجھ کو مل جائے ثواب،
مصطفیٰ ہیں لاجواب، مصطفیٰ ہیں لاجواب
ہر ادا ہے نور و رحمت، ہر ادا قرآن ہے،
عاشقوں کی جان ہے،
ایک انگلی نے پڑھایا دَہر کو اُمّ الکتاب،
مصطفیٰ ہیں لاجواب، مصطفیٰ ہیں لاجواب
آپ ہیں طالبِ خدا کے، آپ ہی مطلوب ہیں،
بالیقین محبوب ہیں، بالیقین محبوب ہیں،
عظمتیں بخشی ہیں رب نے آپ ہی کو بے حساب،
مصطفیٰ ہیں لاجواب، مصطفیٰ ہیں لاجواب
پھول سے تتلی نے پوچھا ہم پہ کس کا رنگ ہے،
جس پہ دنیا دنگ ہے،
پھول نے ہنس کر کہا تو سن لے اب میرا جواب،
مصطفیٰ ہیں لاجواب، مصطفیٰ ہیں لاجواب
پوچھ لو صدّیق سے، فاروق سے، عثمان سے، سلمان سے،
ان کے دشمن کے لیے دوزخ میں دیکھا ہے عذاب،
مصطفیٰ ہیں لاجواب، مصطفیٰ ہیں لاجواب
کائناتیں رنگ و بو میں، جلوہ گاہِ ناز میں،
منفرد انداز میں،
حُسنِ سرکارِ دو عالم ہر جگہ ہے کامیاب،
مصطفیٰ ہیں لاجواب، مصطفیٰ ہیں لاجواب
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ خوبصورت کلام حضور سرورِ کائنات ﷺ کی بے مثل صفات، ان کے لائے ہوئے انقلاب اور کائنات میں ان کے بلند مقام کی عکاسی کرتا ہے۔ اس میں شاعر نے واضح کیا ہے کہ آپ ﷺ کا کوئی ثانی نہیں اور آپ ﷺ کی ہر ادا رحمت الٰہی کا مظہر ہے۔
شاعر کہتا ہے کہ مصطفیٰ ﷺ کی آمد سے دنیا سے کفر و جہالت کی تاریکی ختم ہوئی اور بنجر دلوں میں رحمت کے گلاب کھل اٹھے۔ آپ ﷺ کی شان یہ ہے کہ آپ ﷺ خدا کے طالب بھی ہیں اور خود خدا کے مطلوب (محبوب) بھی ہیں، اور آپ ﷺ کو اپنے جیسا کہنا ایمان کے خلاف ہے۔
| لفظ | معنی |
|---|---|
| خیرُ الورى | تمام مخلوقات میں سب سے بہتر |
| شمسُ الضحٰی | چاشت (صبح) کا روشن سورج |
| بدرُ الدجیٰ | اندھیری رات کا چودھویں کا چاند |
| دہر / ماہتاب | دنیا یا زمانہ / چاند |
| سیدِ ابرار | تمام نیک لوگوں کے سردار |
| اُمّ الکتاب | کتاب کی اصل (مراد قرآن یا سورہ فاتحہ) |
| منفرد | یکتا، اکیلا یا سب سے الگ |
اس نعت کا لبِ لباب یہ ہے کہ حضور ﷺ "لاجواب" ہیں، یعنی کائنات میں ان جیسی کوئی اور ہستی موجود نہیں۔ آپ ﷺ کی ہر ادا قرآن کی عملی تصویر ہے اور آپ ﷺ کے دشمن کے لیے دنیا و آخرت میں رسوائی ہے، جبکہ آپ ﷺ کی غلامی ہی دونوں جہانوں کی کامیابی کا واحد راستہ ہے۔
نعت کے آخری مصرعوں کے مطابق، "سرکارِ دو عالم" کا حسن کہاں کامیاب ہے اور پوری کائنات ان کے "جلوہ گاہِ ناز" میں کس انداز میں نظر آتی ہے؟