मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 54 بار دیکھا گیا
,
عنوان: مصطفیٰ آپ کے جیسا کوئی آیا ہی نہیں
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: شمیم رضا فیضی
نعت خوان/ فنکار: شمیم رضا فیضی
شامل کیا گیا: 20 Feb, 2023 11:20 AM IST
دیکھا گیا: 1.4K
Time to read: 2 min read
مصطفیٰ آپ کے جیسا کوئی آیا ہی نہیں
آتا بھی کیسے جب اللہ نے بنایا ہی نہیں
کوئی ثانی نہ ہے رب کا نہ میرے آقا کا
ایک کا جسم نہیں، ایک کا سایہ ہی نہیں
مصطفیٰ آپ کے جیسا کوئی آیا ہی نہیں
قبر میں جب کہا سرکار نے "تو میرا ہے"
پھر فرشتوں نے مجھے ہاتھ لگایا ہی نہیں
زُلف "واللیل" ہے، رُخ "والضحیٰ"، مازاغ آنکھیں
اس طرح رب نے کسی کو بھی سجایا ہی نہیں
مصطفیٰ آپ کے جیسا کوئی آیا ہی نہیں
لوٹ کر آ گیا مکے سے، مدینہ نہ گیا
کیسے جاتا؟ تجھے آقا نے بلایا ہی نہیں
مصطفیٰ آپ کے جیسا کوئی آیا ہی نہیں
جب سے دروازے پہ لکھا ہوں میں "اعلیٰ حضرت"
کوئی گستاخِ نبی گھر میرے آیا ہی نہیں
مصطفیٰ آپ کے جیسا کوئی آیا ہی نہیں
آپ نے جب سے نوازا ہے یا رسول اللہ ﷺ
میں نے دامن کسی چوکھٹ پہ بچھایا ہی نہیں
مصطفیٰ آپ کے جیسا کوئی آیا ہی نہیں
جس نے سرکار کے چہرے کی زیارت کی ہے
اس کی نظروں میں کوئی اور سمایا ہی نہیں
مصطفیٰ آپ کے جیسا کوئی آیا ہی نہیں
جب تلک پشت پہ شبیرؓ رہے اے "فائضی"
سر کو سجدے سے پیمبر ﷺ نے اٹھایا ہی نہیں
مصطفیٰ آپ کے جیسا کوئی آیا ہی نہیں
آتا بھی کیسے جب اللہ نے بنایا ہی نہیں
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ حضورِ اکرم ﷺ کی بے مثل شان، لاثانی حسن اور منفرد نورانی وجود پر لکھی گئی ایک انتہائی مقبول اور خوبصورت نعتِ پاک ہے، جس میں شاعر نے عقیدتِ رسول ﷺ اور عشقِ اہل بیت کو بڑے دلنشیں انداز میں یکجا کیا ہے۔
ان ایمان افروز اشعار کا مطلب ہے کہ "پوری کائنات میں ہمارے آقا و مولیٰ محمد مصطفیٰ ﷺ جیسا نہ کوئی آیا ہے اور نہ ہی آ سکتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کا کوئی ثانی پیدا ہی نہیں کیا۔" شاعر کہتا ہے کہ جیسے خدا کی کوئی برابری نہیں کر سکتا ویسے ہی آقا ﷺ کی عظمت کا کوئی جواب نہیں—خالق کا جسم نہیں اور اس کے سب سے پیارے رسول ﷺ کا کائنات میں کوئی سایہ (پرچھائی) نہیں تھا۔
| الفاظ | معنی (Meanings) |
|---|---|
| ثانی | دوسرا / برابر کا یا ہم پلہ |
| واللیل / والضحیٰ | رات اور صبح کی روشنی (قرآنی الفاظ جو حضور ﷺ کے گیسوؤں اور چہرۂ انور کے لیے مستعار لیے گئے) |
| مازاغ | وہ آنکھیں جو بہکیں نہیں (قرآن پاک میں حضور ﷺ کی چشمِ مبارک کی صفت) |
| چوکھٹ / زیارت | آستانہ یا دروازہ / مقدس دیدار یا جھلک |
| پشت / پیمبر ﷺ | پیٹھ / پیغمبر یعنی اللہ کے رسول ﷺ |
| شبیرؓ | امام حسین رضی اللہ عنہ کا مبارک لقب |
اس کلامِ بلاغت نظام کا لبِ لباب یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اپنے محبوب ﷺ کے حسن و جمال کو بے مثال بنایا ہے اور جس پر آقا ﷺ کا کرم ہو جائے، وہ دنیا میں کسی اور کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتا۔ شاعر کہتا ہے کہ قبر کی تنہائی میں بھی فرشتوں کے سوال و جواب کے وقت آقا ﷺ کی رحمت امتی کو سنبھال لیتی ہے۔ مقطع میں امام حسینؓ کے بچپن کا وہ خوبصورت واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ جب تک نواسۂ رسول ﷺ نماز میں حضور ﷺ کی پشتِ مبارک پر تشریف فرما رہے، نانا جان ﷺ نے محبت اور احترامِ سجدہ میں اپنا سر مبارک سجدے سے نہیں اٹھایا۔
لیرکس کے مطابق، نبی ﷺ نے سجدے سے سر کیوں نہیں اٹھایا جب تک شبیر (امام حسین) ان کی پشت پر رہے؟