मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 مہینہ پہلے fiber_manual_record 417 بار دیکھا گیا
,
عنوان: مجھ پہ بھی چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: مختلف/نامعلوم
نعت خوان/ فنکار: اویس رضا قادری
شامل کیا گیا: 01 Aug, 2023 06:09 PM IST
دیکھا گیا: 1.1K
Time to read: 1 min read
مجھ پہ بھی چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا،
حق تو میرے بھی ہے رحمت کا تقاضا کرنا۔
تو کسی کو بھی اٹھاتا نہیں اپنے در سے،
یہ تیری شان کے شایاں نہیں ایسا کرنا۔
مجھ پہ بھی چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا۔
میں ایک ذرّہ ہوں، مجھے وسعتِ صحرا دے دے،
یہ ترے بس میں ہے قطرے کو بھی دریا کرنا۔
مجھ پہ بھی چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا۔
چاند کی طرح ترے گرد وہ تاروں کا ہجوم،
وہ ترا حلقۂ اصحاب میں بیٹھا کرنا۔
مجھ پہ بھی چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا۔
یہ تری شان ہے، اے آمنہ کے دُرِّ یتیم،
ساری اُمّت کی شفاعت تجھے تنہا کرنا۔
مجھ پہ بھی چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا۔
مجھ پہ محشر میں نصیر اُن کی نظر پڑ ہی گئی،
کہنے والے اِسے کہتے ہیں خدا کرنا۔
مجھ پہ بھی چشمِ کرم اے میرے آقا کرنا،
حق تو میرے بھی ہے رحمت کا تقاضا کرنا۔
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ سوز و گداز سے بھرپور مقبولِ عام نعتِ پاک (پیر سید نصیر الدین نصیر گیلانی رحمتہ اللہ علیہ کی لکھی ہوئی) بارگاہِ رسالت مآب ﷺ میں ایک عاجز امتی کی التجا ہے، جس میں حضور ﷺ کی بے پناہ سخاوت اور شانِ شفاعت پر کامل بھروسے کا اظہار کیا گیا ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ اے میرے پیارے آقا ﷺ! مجھ گناہ گار پر بھی اپنے لطف و کرم کی ایک نظر فرما دیں، کیونکہ آپ کا امتی ہونے کے ناطے یہ میرا حق بنتا ہے کہ میں آپ کی رحمت کا دامن تھاموں۔ آپ اپنے درِ اقدس سے کبھی کسی سائل کو خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے اور نہ ہی ایسا کرنا آپ کی بلند و بالا شان کے لائق ہے۔
| لفظ (Word) | معنی (Meaning) |
|---|---|
| چشمِ کرم | مہربانی کی نظر / لطف و عنایت |
| شایاں | لائق / مناسب یا زيبا |
| وسعتِ صحرا | ریگستان کی پھیلاوٹ / بہت بڑی عظمت |
| حلقۂ اصحاب | صحابہ کرام کا گھیرا یا محفل |
| دُرِّ یتیم | نایاب اور بے مثل موتی (مراد: حضور ﷺ) |
| تنہا کرنا | اکیلے ہی سر انجام دینا |
| محشر | قیامت کا میدان جہاں حساب کتاب ہوگا |
اس لازوال کلام کا بنیادی لبِ لباب یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کی شان سب سے نرالی ہے؛ وہ اپنے صحابہ کے جھرمٹ میں ایسے جلوہ افروز ہوتے ہیں جیسے ستاروں کے بیچ چودھویں کا چاند ہو۔ وہ اس قدر بااختیار ہیں کہ ایک ناچیز ذرے کو صحرا جیسی وسعت دے سکتے ہیں اور قیامت کے دن اکیلے ہی پوری امت کی بخشش کا وسیلہ بنیں گے۔ آخر میں شاعر 'نصیر' کہتے ہیں کہ محشر کے کٹھن میدان میں جب سرکار ﷺ کی رحمت بھری نظر مجھ پر پڑی، تو دیکھنے والوں کو ایسا لگا جیسے خدا نے میری بگڑی ہوئی تقدیر ہی بدل دی ہو۔
لیرکس کے مطابق، ساری امت کی شفاعت (بخشش) تنِ تنہا (اکیلے ہی) کون کرے گا؟