मुस्तफ़ा का प्यारा है फ़ातिमा का शहज़ादा
- 1 دن پہلے fiber_manual_record 78 بار دیکھا گیا
,
عنوان: محمّد پے سب کچھ لوٹانے چلے ہیں حُس٘ین آج سر کو کٹانے چلے ہیں
زمرہ: نعت کے بول (لیرکس)
مصنف/گیتکار: شمیم رضا فیضی
نعت خوان/ فنکار: شمیم رضا فیضی
شامل کیا گیا: 26 Sep, 2022 02:16 PM IST
دیکھا گیا: 3.9K
Time to read: 1 min read
محمّد پے سب کچھ لوٹانے چلے ہیں،
حُس٘ین آج سر کو کٹانے چلے ہیں،
جو بچپن میں نانا سے وعدہ کیا تھا،
اُسے کربلا میں نبھانے چلے ہیں
محمّد پے سب کچھ لوٹانے چلے ہیں،
حُس٘ین آج سر کو کٹانے چلے ہیں
ملے گا نہ تاریخ میں ایسا غازی،
لگا دے جو اولاد کی جان کی بازی،
دیکھاۓ کوئی ان کے جیسا نمازی،
جو سجدے میں گردن کٹانے چلے ہیں
محمّد پے سب کچھ لوٹانے چلے ہیں،
حُس٘ین آج سر کو کٹانے چلے ہیں
بڑے ناز سے جن کو پالا نبی نے،
جنہے رکھا پلکوں میں مولا علی نے،
جنہے فاطمہ بی نے جھولا جھولایا،
وہی تیر سینے پے خانے چلے ہیں
محمّد پے سب کچھ لوٹانے چلے ہیں،
حُس٘ین آج سر کو کٹانے چلے ہیں
یہی کہ کے اکبر کی تلوار چمکی،
اِدھر آ ستمگر، کیا دیتا ہے دھمکی،
جو اکبر نشانی ہے شاہ امم کی،
علی کا وہ تیور دکھانے چلے ہیں
محمّد پے سب کچھ لوٹانے چلے ہیں،
حُس٘ین آج سر کو کٹانے چلے ہیں،
جو بچپن میں نانا سے وعدہ کیا تھا،
اُسے کربلا میں نبھانے چلے ہیں
This summary is AI-generated • Reviewed for quality.
یہ رقت انگیز اور ولولہ پور منقبت نواسۂ رسول حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے خانوادے کی میدانِ کربلا میں دی گئی لازوال قربانی اور دینِ اسلام کی بقا کے لیے ان کے غیر متزلزل عزم کا ایک نہایت پُر اثر بیاں ہے۔
ان اشعار کا مطلب ہے کہ حضرت امام حسینؑ اپنے نانا حضور پاک ﷺ کے دین کو بچانے کے لیے اپنا تن من دھن سب کچھ نچھاور کرنے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بچپن میں اپنے نانا سے حق کی سربلندی کا جو عہد کیا تھا، اسے پورا کرنے کے لیے وہ کربلا کی تپتی ریت پر خدا کے حضور سجدے کی حالت میں اپنی گردن کٹانے کو تیار ہیں۔
| لفظ | معنی (Urdu) |
|---|---|
| تاریخ | تاریخ / ہسٹری یا گزرا ہوا وقت |
| غازی | وہ بہادر جنگجو جو حق کے معرکے سے زندہ لوٹے |
| جان کی بازی | جان داؤ پر لگانا / قربان ہونا |
| ستمگر | ظلم کرنے والا / ظالم یا جفا کار |
| شاہِ امم | تمام امتوں کے بادشاہ (مراد حضور ﷺ) |
| تیور | بہادری کا انداز / جلال یا روپ |
شاعر کہتا ہے کہ دنیا کی تاریخ میں امام حسینؑ جیسا کوئی غازی اور نمازی نہیں مل سکتا، جنہوں نے خدا کی راہ میں اپنی اولاد تک کی قربانی پیش کر دی۔ جنہیں نبی کریمؐ، مولا علیؑ اور سیدہ فاطمہ زہراؑ نے بے حد لاڈ اور ناز سے پالا تھا، وہ دین کی حفاظت کے لیے اپنے سینوں پر تیر کھانے کو تیار ہیں۔ اسی میدان میں ان کے شبیہِ پیغمبر بیٹے حضرت علی اکبرؑ بھی اپنے دادا مولا علیؑ کے جلال اور تیور دکھا کر ظالموں کا مردانہ وار مقابلہ کر رہے ہیں۔
شاعر کے مطابق، حضرت امام حسینؓ نے بچپن میں اپنے نانا حضورؐ سے جو وعدہ کیا تھا، اسے انہوں نے کہاں اور کس طرح نبھایا؟